عرفان صدیقی کا کالم اور وقت کی چاپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کے کالم کے ناقابل اشاعت قرار پانے سے دو زاویے برامد ہوتے ہیں۔

اگر اس کا تعلق جمہوری روایات اور صحافتی اقدار سے ہے تو اس کالم میں کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جسے ناقابلِ اشاعت قرار دیا جا سکے۔ یہ ایک تاریخی واقعے کی گواہی ہے اور اس کے بیان میں بھی ان حدود کا لحاظ رکھا گیا ہے جو ایک کالم یا مضمون کو قابلِ اشاعت بناتی ہیں۔

دوسرا زاویہ موجودہ حالات اور ان کا تناظر ہے۔ یہ دور ’ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا‘ کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ آزادی رائے کی قدر پابندی کے تازیانوں سے جاں بلب ہے۔ اہلِ صحافت میں کم و بیش اتفاق ہے کہ انہیں ایسی پابندیوں کا سامنا کسی علانیہ دورِ آمریت میں بھی نہیں ہوا تھا۔

چند روز پہلے، میں نے اپنے کالم میں یہ جملہ لکھا کہ’’چیف آف آرمی سٹاف کی توسیع کا قانون پارلیمنٹ میں زیر بحث آیا تو پرویز رشید نے اپنی پارٹی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا‘‘ اور یہ جملہ ناقابلِ اشاعت قرار پایا۔ میں سوچتا رہ گیا کہ یہ جملہ کیسے صحافتی اقدار کے خؒاف ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ جبر کے کھوکھ سے ہمیشہ اضطراب اور بغاوت جنم لیتے ہے۔ انسانی تاریخ اس پر بارہا اپنی گواہی پیش کر چکی۔ آزادی کی جاں بلب قدر، جس دن دم توڑ گئی، وہ دن اضطراب کو کسی ایسی تحریک میں بدل سکتا ہے جس کی باگ کسی فرد یا ادارے کے بجائے وقت کے ہاتھ میں ہوگی جس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔

اللہ کرے ہمارے اربابِ حل و عقد وہ وقت آنے سے پہلے اس کے قدموں کی چاپ سن سکیں۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *