EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فلورنس نائٹنگیل جنھوں نے نرسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں سفید یونیفارم پہنے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی چاک و چوبند اور نرم لہجے میں گفتگو کرنے والی دنیا بھر کی نرسیں آج سے تقریباً دو سو برس پہلے پیدا ہونے والی ایک غیر معمولی لڑکی کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اس لڑکی نے اپنے وقت کی روایت اور گھر والوں کے دباؤ کے سامنے جھک کر شادی کر لینے کی بجائے اپنے اس خواب کو پا لینے کی جستجو کی جو اُس نے بچپن میں دیکھا تھا۔

وہ اپنے زمانے کی دوسری لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی۔ انھیں گڑیا، گڈے کا کھیل یا بچپن کی شوخیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ اُن کا پسندیدہ مشغلہ کتب بینی تھا۔ اور ہر وقت کچھ نیا سیکھنے کی دُھن اُن پر سوار رہتی تھی۔

ایک معزز پیشے کی بانی

نرسنگ کو باقاعدہ ایک معزز پیشے کی حیثیت دینے والی فلورنس نائٹِنگیل 12 مئی 1820 کو اٹلی کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئیں تھیں۔ ان کا نام ان کی جائے پیدائش کی مناسبت سے ’فلورنس‘ رکھا گیا مگر ان کی پرورش انگلینڈ کے ایک گاؤں میں ہوئی۔

کم سنی ہی میں انھیں یہ خیال آیا کہ وہ اپنی زندگی کسی کام کے لیے وقف کریں گی۔ اور پھر ساری عمر وہ اپنے اس عزم پر ڈٹی رہیں۔ وہ اپنی بہن پارتھنپی کے ساتھ بڑی ہوئیں۔ بہن کا نام بھی اٹلی کے ایک اور قصبے کے نام پر رکھا گیا تھا۔

وہ بہت صاف ستھری، سنجیدہ مزاج اور منظم تھیں اور ہر چیز اپنی جگہ پر رکھنے کی عادی تھیں۔ اس کے برعکس ان کی بہن قدرے شریر واقع ہوئی تھی اور شرارتیں کر کے فلورنس کی توجہ پڑھائی سے ہٹانے کی کوشش کرتی تھیں۔ مگر فلورنس اپنی دھن کی پکی تھیں۔ ان کے ذہن پر بس ایک ہی خیال ہر وقت سوار رہتا کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتی ہیں۔ اس خیال کو انھوں نے کبھی اپنے ذہن سے محو نہیں ہونے دیا۔

فلورنس نائٹنگلیل

Getty Images

وہ جہاں بھی جاتیں ان کے ہاتھ میں کتاب ہوتی۔ لوگ انھیں ’کتابی کیڑا‘ کہنے لگے تھے۔ مگر اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ دوسری لڑکیوں سے مختلف ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ارادہ پختہ ہوتا گیا اور مستقبل کی تصویر اُن پر واضح ہوتی چلی گئی۔ وہ کچھ کر گزرنا چاہتی تھیں اور اس کے لیے انھوں نے نرسنگ (تیمارداری) جیسے مشکل شعبے کا انتخاب کیا۔

ان کے گھر والوں کو اس پر اعتراض تھا۔ اس وقت کی روایت کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ فلورنس بس کسی شریف آدمی سے شادی کر کے گھر بسا لیں۔ مگر فلورنس کو علم تھا کہ بیوی اور ماں بن کر رہنا ان کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ وہ زندگی میں اس سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتی تھیں اور اس لیے وہ اپنے عزم پر ڈٹی رہیں۔

اب انھوں نے کتابوں پر اور زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔ وہ کسی قیمت پر اپنا راستہ بدلنے کو تیار نہیں تھیں۔

بچپن کے خواب کی تکمیل

اس زمانے میں نرسوں کی باقاعدہ تربیت کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ جب تک ان کے والد انھیں کام کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہ ہوئے اس وقت تک وہ کتابیں پڑھنے میں مصروف رہیں اور اپنے خیال کو عملی شکل دینے کے بارے میں سوچ بچار کرتی رہیں کہ وہ بیماروں کی تیمارداری کے لیے نرسوں کو کیسے تربیت دے سکتی ہیں۔

آخر کار برسوں سے وہ جس موقع کی تلاش میں تھیں وہ انھیں مل گیا۔ سنہ 1840 کے لگ بھگ برطانوی فوجیں تقریباً دو ہزار میل دور روسی علاقے کرائمیا میں جنگ میں مصروف تھیں۔ محاذ جنگ کے قریب ایک ہسپتال تھا جہاں زخمیوں کو لایا جاتا تھا۔ مگر ان کے زخم مندمل ہونے کے بجائے اور خراب ہو جاتے تھے۔

انھیں جنگ زدہ کرائمیا میں نرسوں کی ایک ٹیم کو تربیت دینے کی پیشکش کی گئی۔ انھوں نے اُن نرسوں کو صفائی اور حفظان صحت کے بنیادی اصول سکھائے۔ انھیں صاف اور ترتیب سے رہنا سکھایا۔ ان کی ٹیم جلد ہی اپنی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہو چکی تھی۔

جب وہ محاذ جنگ کی طرف روانہ ہوئیں تو فلورنس کو اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ انھیں کس طرح کے مریضوں سے سابقہ پڑے گا بلکہ یہ فکر دامن گیر تھی کہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انھیں خود کو ایک کامیاب نرس ثابت کرنا ہے۔

یہ ہسپتال ایک پرانے فوجی قلعے میں تھا جہاں تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ گئے۔ وہاں انھوں نے جو کچھ دیکھا وہ ان کے تصور سے بھی بھیانک تھا۔ ہر سو بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ خون میں لتھڑے زخمی فوجی فرش پر پڑے ہوئے تھے۔ ان کے کھلے زخموں پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ کپڑوں اور چادروں میں جوئیں اور کیڑے پڑے ہوئے تھے۔

نرسنگ کے بنیادی اصول

فلورنس کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ مریضوں کی دیکھ بھال میں کس چیز کی کمی ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ انھیں کیا کرنا ہے اور وہ اس سے پیچھے ہٹنے والی نہیں تھیں۔

وہاں کے ڈاکٹر نے پہلے تو انھیں وہاں کام کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا مگر حالات اتنے خراب تھے کہ فلورنس نے ڈاکٹر کو قائل کر لیا جس کے بعد ڈاکٹر نے انھیں آزمائشی طور پر وہاں کام کرنے کی اجازت دے دی۔

فلورنس کے لیے یہ ایک نادر موقع تھا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اچھی نرسنگ یا تیمارداری کیا ہوتی ہے۔ اُن کے بنیادی اصول تھے صفائی اور حفظان صحت۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی آٹھ نرسیں عالمی فہرست میں شامل، ملک میں اس شعبے کی بہتری کیسے ممکن؟

’ایوارڈ وصول کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستانی لباس سلوایا‘

نرس اریما نسرین کی یاد میں سکالرشپ کا آغاز

انھوں نے نرسوں کی ٹیم کو سب سے پہلے عمارت کے ہر کونے کھدرے کی صفائی کرنے پر لگا دیا۔ وہ جانتی تھیں کہ یہاں لائے جانے والے زخمیوں کو صاف ستھرے ماحول اور اچھی خوراک کی ضرورت ہے۔ ان کے زخموں کو ٹھیک کرنے کا کام قدرت کرے گی۔

جب تک وہ جگہ اچھی طرح صاف نہیں ہو گئی انھوں نے نرسوں کو آرام نہیں کرنے دیا۔ پھر بستروں پر نئی چادریں بچھائی گئیں۔ ایک مرتبہ صاف ہو جانے کے بعد ہسپتال میں صفائی کا مستقل انتظام کیا گیا۔

ان کے نزدیک اچھی تیمارداری کے یہ ہی بنیادی اصول تھے: صفائی، حفظان صحت اور ہر چیز ترتیب کے ساتھ اپنی جگہ پر رکھنا۔ اس کے بعد ان کی ٹیم نے فوجیوں کے زخموں کی طرف دھیان دیا۔ اس ماحول کا فوجیوں کی صحت پر فوری مثبت اثر ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔

فلورنس دن بھر نرسوں سے کام لیتی تھیں اور رات کو وہ زخمیوں کے وارڈ کا چکر لگاتیں اور اگر وہ ان سے بات کرنا چاہتے تو وہ ان کے سرہانے بیٹھ جاتیں، اگر وہ چاہتے تو وہ شفقت کا اظہار کرتے ہوئے اُن کا ہاتھ پکڑ لیتیں۔ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی وہاں پر موجودگی زخمیوں کی دیکھ بھال اور دلجوئی کے لیے ہی تو ہے۔ ان کے دل میں شدید خواہش اٹھتی کہ تمام مریض جلد سے جلد صحتیاب ہو جائیں۔

ہاتھ میں لالٹین لیے رات کے وقت ان کے راؤنڈ کی وجہ سے مریضوں نے انھیں ’لیڈی وِد دا لیمپ‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔

نرسوں کی اجتماعی محنت کا پھل جلد ہی انھیں ملنے لگا۔ ان کے آنے سے پہلے جن فوجیوں کے ٹھیک ہونے کی کسی کو امید نہیں تھی ان کی حالت بہتر ہونے لگی اور کئی شفایاب ہو کر ہسپتال سے جانے لگے۔

انھیں جاتے دیکھ کر فلورنس کو بہت زیادہ تسکین ہوتی اور انھیں محسوس ہوتا جیسے ان کی ذات کی تکمیل ہو رہی ہے۔

پہلے نرسنگ سکول کا قیام

جنگ ختم ہونے کے بعد بھی وہ اس وقت تک وہاں رہیں جب تک آخری زخمی فوجی بھی وہاں سے چلا نہیں گیا۔ جب وہ انگلینڈ واپس آئیں تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ بہت مشہور ہو چکی تھیں۔

لوگ نہ صرف ان کی زبانی تعریف کرتے تھے بلکہ انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک ٹرسٹ فنڈ بھی قائم کر دیا گیا تھا جس میں ایک بڑی رقم جمع ہو گئی تھی۔

اس رقم سے انھوں نے سنہ 1860 میں لندن کے سینٹ ٹامسِس ہاسپیٹل میں نرسوں کی تربیت کے لیے دنیا کے پہلے نرسنگ سکول کی بنیاد رکھی اور اس موضوع پر کئی کتابیں بھی تحریر کیں۔ انھوں نے نرسنگ یا تیمارداری کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ ایک باقاعدہ پیشہ بن گیا جس کے لیے سخت اصول اور اعلی معیارات مقرر کیے گئے تاکہ قوم کی صحت کا خیال رکھا جا سکے۔

فلورنس کو ملکہِ وکٹوریا نے اپنے سکاٹ لینڈ کے محل میں بھی مدعو کیا تھا۔ انھیں بلیوں سے پیار تھا مگر انھوں نے ایک الو بھی پال رکھا تھا جس کا نام انھوں نے ’ایتھینا‘ رکھا تھا۔

فلورنس نے بچپن میں اپنی زندگی جس اعلیٰ مقصد کے لیے وقف کی تھی وہ اس پر جمی رہیں اور آخر اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔ انھیں زندگی میں بہت سے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اور آج بھی نرسوں کو ان کی خدمات کے صلے میں جو اعزاز دیا جاتا ہے اس کا نام ’فلورنس نائٹنگیل میڈل‘ ہے۔

دنیا بھر میں انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال 12 مئی کو ان کے یوم پیدائش پر نرسوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19927 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp