سندھ میں خسارے کا بجٹ: تنخواہوں میں 20 فی صد اضافے کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے؟

فائل فوٹو
 

کراچی — آئندہ مالی سال کے لیے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کا 1477 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں 25 ارب سے زائد کے خسارے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ صوبے کے وزیرِ خزانہ بھی ہیں۔ بجٹ دستاویز اور وزیر اعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ مالی سال میں صوبائی حکومت غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 1089 ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس رقم میں سب سے بڑا حصہ تنخواہوں اور پینشن ہی کا ہے جو وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق 60 فی صد بنتا ہے۔

صوبائی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے اداروں کو دی جانے والی گرانٹس اخراجات میں دوسرے نمبر پر آتی ہیں۔ ان میں سے ساڑھے چھ ارب روپے گرانٹ کی صورت میں جامعات کو دیے جائیں گے۔

مراد علی شاہ نے منگل کو جب اسمبلی میں بجٹ پیش کیا تو اس دوران اپوزیشن نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ وزیر اعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران حزبِ اختلاف کے ارکان نے نعرے بازی بھی کی۔

بجٹ میں صوبۂ سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں رواں برس بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ برسوں کے برخلاف اس سال تنخواہوں میں 20 فی صد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صوبے میں کم سے کم اجرت بھی 17500 روپے سے بڑھا کر 25000 روپے کر دی گئی ہے۔

اسی طرح مجموعی تنخواہوں اور کم سے کم اجرت یعنی 25000 روپے کے درمیان فرق کم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ملازمین کے لیے ذاتی الاؤنس بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ لیکن یہ الاؤنس پولیس کانسٹیبلز اور گریڈ 01 سے گریڈ 05 تک کے ملازمین کے لیے نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں سات سے 10 فی صد اضافہ کیا گیا تھا جب کہ پورے ملک میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ اس بار سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا اضافہ کیا گیا ہے۔

ماہر معیشت اور مختلف ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں میں اہم مالی عہدوں پر تعینات رہنے والے فضیل زبید احمد کا کہنا ہے کہ سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا بے ضابطگی ہے اور اس سے صوبے کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔

ان کے بقول، گزشتہ برس سندھ واحد صوبہ تھا جس نے اپنے ملازمین کی اس قدر بُرے حالات میں جب ملکی معاشی نمو تاریخی گراوٹ کا شکار تھی، تنخواہوں میں اضافے کا تحفہ دیا تھا۔

ترقیاتی اخراجات کے حجم میں اضافہ

بجٹ تقریر میں سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے 329 ارب روپے سے زائد کی رقم ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کی گئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41 فی صد زیادہ ہے۔ ان کے بقول، رواں مالی سال 590 اسکیمز مکمل کی گئیں جب کہ آئندہ مالی سال میں 1009 اسکیمز مکمل کی جائیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بجٹ میں ہر ضلعے کی ہر تحصیل کے لیے بلا امتیاز نئی اسکیمیں مختص کی گئی ہیں۔ رواں سال مختص کیے گئے 329 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 252 ارب روپے صوبہ اپنے وسائل سے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گا۔ اس میں سے 30 ارب روپے ضلعی ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح 71 ارب روپے بیرونی مدد سے چلنے والے مختلف منصوبے بھی اس میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ اعشاریہ تین ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے وفاقی حکومت کے تعاون سے چلائے جائیں گے۔ تاہم، وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ وفاقی حکومت اس قلیل رقم میں سے سندھ کو کتنی رقم دیتی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے سے قبل وفاق سے 27 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمز کے لیے گرانٹ ملتی تھی جو اب کم ہو کر پانچ اعشاریہ 3 ارب روپے ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت سے رواں سال این ایف سی ایوارڈ کے سلسلے میں بھی اب تک تقریباً 147 ارب روپے کم ملے ہیں۔

فضیل زبید احمد کے نزدیک سندھ کی صوبائی حکومت نے بجٹ تو پیش کر دیا لیکن یہ وفاقی حکومت کے بجٹ کے ساتھ کسی طور منسلک نہیں۔

ان کے بقول، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ خسارے کے بجائے سرپلس بجٹ ترتیب دیا جائے گا اور 570 ارب روپے کی رقم کی بچت کی جائے گی۔

فضیل زبید کے مطابق وفاقی حکومت نے چھ اعشاریہ تین فی صد خسارے کا بجٹ پیش کیا تھا اس میں صوبوں کی جانب سے بچائی گئی 570 ارب روپے کی رقم کا سرپلس بھی شامل ہے۔ اس کا حوالہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی دیا ہے۔ لیکن سندھ حکومت نے خسارے کا بجٹ پیش کر کے صوبوں اور وفاقی حکومت کے درمیان اس افہام و تفہیم کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے۔

معاشی ماہر نے مزید کہا ہے کہ سندھ اور وفاق کے درمیان سیاسی جنگ ملک کے معاشی مفادات پر حاوی نظر آرہی ہے۔ ان کے بقول، کرونا وبا کی وجہ سے پیدا شدہ صورتِ حال میں ٹیکسز کی وصولیاں کم ہوئی ہیں تو ظاہر ہے کہ صوبوں سے وعدہ کی گئی رقوم کیسے اور کہاں سے پوری کی جا سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words