بھیرہ کا مصطفی عباس اور ایتھنز کا سقراط

مصطفی عباس کا تعلق سرگودھا کی تحصیل بھیرہ کے نواحی گاوں سید پور سیداں کے ایک عام سے زمیندار گھرانے سے ہے۔

اسلام آباد سے موٹر وے پر لاہور جاتے ہوئے بھیرہ سروس ایریا بھی انہی کی زمین پر بنا ہے جس سے ملحقہ زمین بھی مصطفی عباس عرف شاہ جی کی ملکیت ہے جس پر وہ کینو کے باغات اور اچھی خاصی فصلیں اگاتا اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا رہتا لیکن پتہ نہیں آج سے اٹھارہ سال پہلے شاہ جی کے دل میں کیا آیا کہ اچانک پاسپورٹ بنوا لی اسلام آباد سے ویزہ لگوایا اور جہاز کا ٹکٹ لےکر یونان کے درالخلافہ اور تاریخ کے قدیم ترین اور علم و تہذیب کے نقطہ آغاز شہر ایتھنز جا پہنچا۔ یہاں پر شاہ جی نے ایک چھوٹا سا ریستوراں بنایا اور ایتھنز نے اس کے کاروبار کو پروان چڑھایا۔

اب دنیا جہان سے آتے سیاح اس کے مہمان بھی بنتے اور وہ ان کے ساتھ مکالمہ بھی کرتا جس سے شاہ جی کو ترقی یافتہ اور پر امن ممالک کی کامیابی کا راز آور جمہوریت کے ساتھ ساتھ آئین و قانون کی اہمیت کا اندازہ بھی ہونے لگا اور یہی وہ وقت تھا جب زمیندار اور کاروباری شاہ جی کے بعد وہ سیاسی شاہ جی بھی بنا۔

ظاہر ہے کہ ان نظریات اور خیالات کے ساتھ اس کا سیاسی جھکاؤ نواز شریف کی طرف ہی ہونا تھا سو وہ سوشل میڈیا پر بلا ناغہ قدرے تلخی اور بعض اوقات مذاق کے ساتھ اپنے خیالات بیان کرتا رہتا۔ تا ہم یہ ایک عام سے سیاسی کارکن کی اظہار رائے تھی جس میں کسی گہری دانش یا مدلل تنقید کا عنصر بھی زیادہ نمایاں نہ تھا البتہ اسے اپنے ان خیالات کے اظہار کا حق بھی حاصل ہے بشرطیکہ ہم کوئی مہذب معاشرہ ہوں۔

پچھلے دسمبر کے آخر میں اس نے پانچ سال بعد چند ھفتوں کےلئے پاکستان آنے اور اپنے اہل خانہ سے ملنے کا ارادہ کیا تو بعض رشتہ داروں اور دوستوں نے انہیں منع کیا اور بعض نے انہیں اپنا موبائل فون چھوڑنے اور سوشل میڈیا اکاونٹ ڈیلیٹ کرنے کا بھی کہا لیکن شاہ جی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ میں کونسا بڑا سیاسی لیڈر یا صحافی ہوں جسے اٹھائے کےلئے ریاستی ادارے بے چین ہوں گے۔ سو وہ ایک لاپرواہی کے ساتھ گھر چلا آیا۔

27  مارچ کی سہ پہر وہ اپنے آٹھ سالہ بیٹے اذان کے ساتھ اپنی گاڑی میں قریبی مارکیٹ سے سودا سلف خرید کر گھر جا رہا تھا کہ کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین افراد نے انہیں روکا اور تشدد کرنے کے بعد بچے کے سامنے ہاتھ باندھ کر قریبی تھانے لے گئے اس دوران بچہ زور زور سے رونے لگا تو ایک مہربان پولیس والا بچے کو اٹھا کر گھر چھوڑ آیا۔

تھوڑی دیر بعد مقامی تھانے کے ایس ایچ او رفاقت وڑائچ نے گھر پر چھاپہ مارا اور شاہ جی کے گھر آئی مہمان بہن اور دوسری خواتین کو ڈانٹ ڈپٹ کر گھر میں موجود قیمتی موبائل فون اور گھڑی کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے نقدی بھی اٹھا کر لے گیا۔

شام کو پولیس نے شاہ جی کے ساتھ "باہمی مذاکرات ” میں پانچ لاکھ روپے کا تقاضا کیا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ جب میں نے کوئی جرم ہی نہیں کیا ہے تو "خوں بہا” کیوں ادا کروں۔ سو یہ مذاکرات ناکام ہو گئے اور پولیس والے چند مکے لاتیں اور موٹی گالیاں چھوڑ کر چلے گئے

اگلے چار دن تک شاہ جی حوالات ناپتا اور اپنا جرم ڈھوڈتا رہا

 بالآخر پانچویں دن جرم کا سراغ پا لیا گیا اور پولیس کے اے ایس آئی سبحان انجم کی مدعیت میں دفعہ 124 اے اور 505 کے تحت فوج اور عدلیہ پر تنقید کے جرم میں مقدمہ درج ہوا۔ جس کے بعد مصطفی عباس عرف شاہ جی جیسے "خطرناک باغی ” کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا جہاں سے تین دن بعد ضمانت پر رہائی ملی۔

اس تمام عرصے کے دوران شاہ جی سوشل میڈیا سے غائب رھے لیکن رہائی کے بعد اس نے واپسی کا ٹکٹ لیا اور یونان پہنچ کر سوشل میڈیا پر آگ اگلنے لگا.

شاہ جی کی کہانی سن کر مجھے اپنے علاقے کے اس آدمی کی کہانی یاد آئی جو کئی سالوں سے امریکہ میں محنت مزدوری کر رہا تھا اور گھر پیسے بھیج رہا تھا ایک بار اس نے سیر کے لئے بیوی بچوں کو امریکہ بلایا۔ وہاں چند دنوں بعد بارہ سالہ بیٹے کو امریکی قانون اور بچوں کے حقوق کی لت پڑ گئی اس لئے ایک دن جب والد نے کسی بات پر ڈانٹا تو بیٹے نے معصومیت میں پولیس کو فون کیا جنہوں نے فورا پہنچ کر والد کو حراست میں لیا۔ دوسرے دن والد رہا ہو کر گھر آئے تو خلاف توقع بیٹے کو شاباش دی اور بات آئی گئی ہو گئی۔

مہینہ گزرا تو والد نے کسی قریبی رشتہ دار کی موت کا بہانہ بنایا اور بیوی بچوں کو ساتھ واپس پاکستان لے آیا اور جب جہاز پشاور ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا تو والد سب سے پہلے جہاز سے نیچے اترا اور سیڑھیوں کے قریب کھڑا رہا بیٹا عینک لگائے اور بیگ لٹکانے جیسے ہی نیچے اترا تو پہلے ہی سے تاک میں بیٹھا والد کمال پھرتی کے ساتھ اس پر جھپٹ پڑا اور زمین پر گرا کر مکوں کی بارش کرتے ہوئے کہا کہ اب بلاو نا اپنے امریکی باپوں کو۔ وہ تو بھلا ہو جہاز میں آنے والے مسافروں کا جنہوں نے بمشکل بچے کی جان بچائی۔

المیہ یہ ہے کہ شاہ جی پاکستان کے حدود سے نکل کر سوشل میڈیا کے ذریعے ” نظام کی جو مار پیٹ” کر رھے ہیں تو بچانے کے لئے "مسافر” بھی دستیاب نہیں۔

شاہ جی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ورنہ میں انہیں بتاتا کہ یونان کے جس شہر (ایتھنز) میں آپ مقیم ہیں اسی شہر میں تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے سقراط نامی ایک غریب ترکھان نے پہلی بار قانون کی یکساں عملداری کی چیخ ماری تھی جو آج آدھی دنیا کو آئین اور قانون کے ساتھ تہذیب اور امن کے دائرے میں لے آیا ہے۔ ہم وہ بد قسمت لوگ ہیں جن تک ابھی وہ چیخ نہیں پہنچی جس چیخ نے نیم وحشی مغربی ملکوں کو دنیا کے مہذب ترین اور ترقی یافتہ معاشروں میں بدل دیا.

Comments - User is solely responsible for his/her words