EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مدارس میں جنسی استحصال کی چار بنیادی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیتھولک چرچ کو ایک ہزار سال لگے یہ تسلیم کرنے میں کہ چرچ اور اس سے ملحقہ اداروں بالخصوص تعلیمی اداروں میں جنسی استحصال اور زیادتی ایک شرمناک اور کربناک حقیقت ہے اور یہ بھی کہ چرچ کے ذمہ داران ہمیشہ سے اس پر پردہ ڈالتے چلے آئے ہیں تاکہ مسیحیت پر حرف نہ آئے۔ سن 2001 میں پوپ جان پال دوئم کا اس حوالے سے اقرار، سن 2009 میں پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کی معافی اور سن 2018 میں پوپ فرانسس کی عوامی شرمندگی اور پھر ان کے اظہار معذرت سے کلیسائی اصلاحات کا ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ چرچ کو یہ اقرار بھی کرنا پڑا کہ ایسے واقعات کے ثبوت گیارہویں صدی سے ذمہ داران کلیسا کے پاس ہیں لیکن مسیحیت کے دفاع کے لیے ان کو چھپائے رکھنا ہی بہتر سمجھا گیا پر اب چرچ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف غلط تھی بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے ساتھ بھی شدید ظلم تھا جو اس ایک ہزار سال میں پادریوں، ننز اور کلیسا کے عہدیداران کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ جنسی استحصال کے ایسے ہی قصے ہندو مندروں اور بدھ خانقاہوں کے حوالے سے بھی منظر عام پر آئے۔ تحقیق کا در کھلا تو معلوم ہوا کہ چھوٹے بڑے اکثر مذاہب میں یہ کہانی عام ہے، سب اس سے واقف ہیں اور سب اس سے چشم پوشی برتتے ہیں۔

2014 میں تھیکلا شنائڈر نے پانچ اور محققین کے ساتھ مل کر جرمنی میں مذہبی اداروں میں ہونے والے جنسی استحصال پر ایک مقالہ تحریر کیا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مذہبی اداروں کی ساخت اور معاشرے کی بچوں کے حقوق کے حوالے سے کم علمی گو اہم عوامل ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ مذہب کا وہ بنیادی رویہ یا تعلیم ہے جو جنسی حوالے سے معروف اور قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہمارے یہاں موجود اس نظریے سے بالکل متضاد ہے جہاں مذہبی تعلیم کے بجائے فرد کو قصوروار سمجھا جاتا ہے اور ایسے کسی بھی واقعے کو محض ایک انفرادی فعل قرار دے کر گردن ریت میں دے کر ”سب اچھا ہے“ کا صدیوں پرانا راگ پھر سے چھیڑ دیا جاتا ہے۔

اسلام میں بوجوہ پاپائیت یا مرکزیت کا تصور اس نہج تک نہیں پہنچ سکا جہاں اسے کیتھولک چرچ سے تشبیہ دی جا سکے۔ مرکزی خلافت بھی چند ایک ادوار کے علاوہ سیاسی اور انتظامی حوالے سے ہی مصروف کار رہی تاہم خلافت کا ایک قبیلے، نسبی عصبیت اور پھر خاندان سے خاص ہونے کے نتیجے میں طاقت کے اور مراکز کا ظہور ناگزیر ہو گیا تھا۔ مختلف ادوار میں طاقت کے ان مراکز نے مختلف روپ دھارے۔ حدیث سے لے کر فقہ اور فقہ سے لے کر تصوف تک متوازی تشریحات اور گروہی تشکیلات کی تہہ میں ایک ہی مقصد کارفرما تھا اور وہ تھا بے پایاں قوت اور اختیار کا حصول۔ اس کا تجزیہ کریں تو بڑی آسانی سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس تمام قصے میں ہمارے پیش نظر پاپائیت کا ہی ماڈل تھا۔ اس میں کبھی پوپ کی جگہ کسی امام کو بٹھا دیا گیا، کبھی کسی شیخ الحدیث کو، کبھی کسی پیر کامل کو تو کبھی کسی قطب دوراں کو۔ ساتھ ساتھ تقدس کا لبادہ اوڑھا کر ان تحریکوں سے جڑے ہر شخص کو انبیاء کا وارث، معصوم عن الخطا اور علم کا سمندر بنا دیا گیا۔ اساطیر کا ایک لامتناہی سلسلہ ہر اس شخصیت سے جوڑ دیا گیا جس کے کندھوں پر رکھ کر فتوے اور حجت کی بندوق چلانا مقصود تھا۔

رفتہ رفتہ یہ تحریکیں اپنی اپنی جگہ طاقت کے متوازی مراکز میں تبدیل ہو گئیں اور چرچ ہی کی طرح ان کا سیاسی نفوذ اور انتظامی اثر و رسوخ اس حوالے تک پہنچ گیا کہ ایک مسلم مملکت کے بنیادی خد و خال بھی انہی کی مرضی سے تشکیل پاتے چلے گئے۔ سنی شیعہ خلیج سے لے کر خوارج، معتزلہ اور باطنیہ کی قدیم بحث، فاطمیوں اور دعوت اسماعیلیہ سے لے کر سعودی عرب کی وہابی فکر، ایران کی ولایت فقیہ اور پاکستان کی قرارداد مقاصد تک یہ سب ایک ہی بنیادی فکر کا تسلسل رہا ہے جس کا واحد مقصد تقدس کے پردے میں لامساوی طاقت کا حصول تھا۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ فقہ سے جڑے مدارس کا باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر ظہور گیارہویں صدی میں ہوا۔ یہ وہی وقت ہے جب کیتھولک چرچ کی شان و شوکت اپنے عروج پر پہنچی اور اس کا اثر اور نفوذ تمام دنیا کو نظر آنا شروع ہو گیا۔ چرچ سے جڑے تعلیمی اداروں کا جال مربوط ہوا اور چرچ ہی کے حالیہ اعتراف کے مطابق جنسی استحصال کی تاریخ بھی اسی دور سے شروع ہوئی۔ اس حسین اتفاق پر مزید لب کشائی شاید بہت سوں پر بہت گراں گزرے گی اس لیے فی الحال اس پر بحث موخر کر کے ہم وطن عزیز میں لوٹتے ہیں اور مدارس کی تاریخ پر تھوڑی سی نظر ڈالتے ہیں، ساتھ ساتھ اس تعمیر میں مضمر خرابی کو تھوڑا سا پرکھ لیتے ہیں۔

سن 1947 میں مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ تھی جس کے لیے 189 مدارس موجود تھے۔ یاد رہے کہ ہمارے اکابرین کے مطابق ہماری مذہبی وابستگی میں پچھلے ستر سال میں محض زوال کی کیفیت رہی ہے۔ یہ بات ہم مان لیتے ہیں پر اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہبی وفور سے لبریز ایک بہتر اسلامی معاشرے میں ہر پونے دو لاکھ لوگوں کے لیے مذہبی تعلیم کا ایک مدرسہ کافی تھا۔ یاد رکھیے کہ عمومی تعلیم، صنعت یا زراعت کے حوالے سے ہمیں ایسا کوئی زوال مسلسل کا دعوی کہیں نہیں ملا تو اس حوالے سے موازنہ بیکار ہو گا۔

اب آ جائیے سن 2021 میں جہاں ہماری آبادی 623 فی صد اضافے کی ساتھ 21 کروڑ کو پہنچ چکی ہے۔ اگر مدارس کی تعداد میں بھی ایسا ہی اضافہ ہوتا تو آج یہ تعداد کوئی بارہ سو مدارس تک محدود ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہے، مدارس کی تعداد میں 16,000 فی صد، جی سولہ ہزار فی صد، اضافے کے بعد یہ تعداد آج تیس ہزار سے زائد ہے۔ ایک طرف اضافہ چھ گنا ہے اور دوسری طرف ایک سو ساٹھ گنا۔ اور اس کے باوجود ہمارے مذہبی اکابرین ہی کے مطابق ہماری اخلاقی حالت، جو کہ دین سے دوری کی وجہ سے ہے، روز بہ روز پست سے پست تر ہو رہی ہے۔

اب یا تو اعداد و شمار غلط ہیں، ان کا دعوی غلط ہے، اخلاقی گراوٹ مذہب کی بڑھتی ہوئی تعلیم کے سبب ہے یا پھر شماریاتی لحاظ سے اخلاقی زبوں حالی یا اعلی اخلاقی قدروں دونوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ مشہور ادارے پیو نے کچھ سال پہلے ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق اخلاقی لحاظ سے پست ترین ممالک وہ نکلے جہاں مذہب روزمرہ کے فیصلوں میں نوے فی صد سے زیادہ دخیل تھا اور اخلاقی لحاظ سے بہترین ممالک وہ تھے جہاں مکمل سیکولر معاشرے اور سیکولر حکومت تھی اور انفرادی سطح پر آبادی کی اکثریت مذہب سے لاتعلق تھی۔ یعنی کہ قارورہ وہ بتا رہا ہے جو ہمارے مقدمے سے الٹ ہے۔

اس کے جواب میں بن بیاہی ماؤں، ناجائز بچوں، ریپ کے اعداد و شمار اور جنسی آزادی والے گھسے پٹے اعتراضات رکھنے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ آپ کی کم عمر بیٹی یا بیٹا رات کو اوسلو کی ایک سڑک پر زیادہ محفوظ ہوں گے یا کراچی میں۔ جواب مل جائے گا، اگر آپ آنکھیں بند اور ذہن استعمال نہ کرنے پر بضد نہ ہوئے۔ ان حوالوں سے ہماری غلط فہمیوں یا خوش فہمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن اس پر بات پھر کبھی۔

مدارس کی اس روز افزوں ترقی کا جائزہ لیں تو پتہ لگتا ہے کہ اس میں سب سے زیادہ تیزی مرد مومن کے دور میں آئی جب سرکاری سرپرستی میں دیوبندی مکتبہ فکر کو فروغ دینا مقصود تھا۔ اس حوالے سے لازمی زکات فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غربت کے خاتمے کے لیے اکٹھی کی گئی رقم کا بیشتر حصہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں سینکڑوں مدارس کے قیام میں خرچ کر دیا گیا۔ 1980 کی دہائی میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کے نتیجے میں بھی دونوں مخالف فقہی گروہوں کے ان گنت مدارس ملک کے طول و عرض میں غیر ملکی امداد سے وجود میں آئے۔ انہی مدارس کے ساتھ جڑے لوگ اس کے بعد ایک پر تشدد مسلکی جنگ میں الجھے رہے جس کے شعلے اب بھی سرد نہیں پڑے۔ سن 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد اگلے اٹھارہ سال میں یعنی ضیاء صاحب کے مارشل لاء کے اختتام تک مدارس کی تعداد 900 سے بڑھ کر پچیس ہزار تک جا پہنچی۔ اب یار لوگ اس عظیم الشان ترقی کو سیاسی پس منظر سے الگ دیکھنے پر بضد رہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ افغان ”جہاد“ اور کشمیر کی حریت پسندی کا ایندھن کہاں سے فراہم کیا جاتا رہا، کون نہیں جانتا۔

اسلام کے بارے میں یہ بات بھی بار بار سننے کو ملتی ہے کہ یہ دین فطرت ہے، اس میں خدا اور بندے کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہے اور اسے سمجھنا انتہائی آسان اور اس پر عمل کرنا اس سے بھی آسان ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ہندو مت یا مسیحیت کو دیکھیں تو وہاں بنیادی دعوی ہی یہ ہے کہ مذہبی متن کو سمجھنا اور اس کی کی تشریح کرنا تو دور، اس کو درست پڑھنا بھی محض ایک خاص طبقے کا استحقاق ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس کے سب کو پیر چھونے ہوں گے، یہی وہ طبقہ ہے جو جنت کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرے گا اور یہی وہ طبقہ ہے جس کے بتائے گئے اصول حتمی تسلیم کیے جائیں گے۔ ہم انہی موضوعات کو لے کر جہاں ان مذاہب کو ہدف تنقید بناتے ہیں وہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ فقہی فکر، علم الحدیث، صرف، نحو، مذہبی منطق اور تجوید جیسے ”علوم“ کو مذہب کی بنیاد بنا کر ہم نے بعینہ یہی روش اختیار کر لی ہے۔ مذہب کو تخصیص کا پیرایہ پہنانے یعنی اسے ایک سپیشلائزیشن بنانے کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سپیشلائزیشن کی تعلیم کے لیے مدارس کا ایک خصوصی نظام وجود میں آ گیا جس کی کوئی مثال اس دور میں نہیں ملتی جسے ہم اسلام کا سنہری دور گردانتے ہیں۔

مذہب کو اگر تخصیصی مان لیا جائے تو ہر ایک سے اس کا تقاضا ویسے ہی فضول ہو جاتا ہے۔ طب سپیشلائزیشن ہے اس لیے یہ مطالبہ صرف ڈاکٹر سے ہو گا کہ وہ مرض کی درست تشخیص کرنے کے قابل ہو، دوائیوں کا علم رکھتا ہو، انجکشن گھونپنے کا ہنر جانتا ہو یا نشتر سے انسانی جسم کھول کر ایسی قطع برید کرنے کے قابل ہو جس سے صحت مقصود ہو۔ اگر مذہب بھی ایسی ہی سپیشلائزیشن ہے، تو پھر عام شخص کو اس کے اخلاقی تقاضوں پر پرکھنا، اس سے درست عبادت کی توقع رکھنا، اس سے مذہبی قانون کی پاسداری کا خیال سب کچھ باطل ہو جاتا ہے۔ اگر فقہ، حدیث، صرف، نحو، قواعد زبان اور عربی تمرین کے بغیر مذہب سمجھنا ممکن ہی نہیں تو پھر عام آدمی سے اس اسوہ پر چلنے کی توقع جو کہ ایک مثالی مسلمان کے لیے طے کر دیا گیا ہے، ایسی ہی ہے جیسا کہ مچھلی سے درخت پر چڑھنے کی امید۔

دل چسپ امر البتہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں خاص طور پر پچھلے سو ڈیڑھ سو سال میں سب سے غیر اختلافی متن یعنی قرآن کی بھی نئی نئی تشریحات قائم ہونا شروع ہو گئیں کیونکہ بدلتے ہوئے زمانے اور سائنس کی ترقی کے ساتھ قرآن سے اخذ کردہ کئی تصورات کی نئی تفہیم نہ ہونے کی صورت میں بہت سے ایسے سوال اٹھنے کا اندیشہ تھا جن کا کوئی جواب اہل مذہب کے پاس نہیں تھا۔

موجودہ پاکستان میں پرویزی فکر، فراہی فکر یا اب جاوید احمد غامدی صاحب اس کی بڑی واضح مثالیں ہیں۔ ان متجددین نے تیرہ سو سالہ طے شدہ فکر کے کئی زاویے یکسر مسترد کر دیے۔ جن باتوں کو واضح حقیقت کہا جاتا رہا، وہ تمثیل کے زمرے میں ڈال دی گئیں اور بے شمار اخلاقی اور معاشرتی احکامات کی ایک دور ازکار تاویل وضع کر لی گئی۔ ہمارے ایک دوست تو اس کا دفاع کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے کہ انہوں نے قرآن کو دیوان غالب سے تشبیہ دے ڈالی کہ اس کے معنی بھی انہی پر کھلتے ہیں جن کی فکر ایک خاص مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ اس پر ہم انہیں غالب کا ”نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہی“ والا مصرع سناتے پر حد ادب میں خاموش رہ گئے۔

اچھا، دل چسپ بات یہ ہے کہ متجددین فقہی اصولوں پر استوار مدارس کے بھی خلاف ہیں اور صدیوں کی فقہی روایت کے بھی لیکن اپنی نئی تشریح کے لیے وہ اسی جواز کا سہارا لیتے ہیں جس کے سہارے یہ مسلکی مدارس صدیوں سے کھڑے ہیں۔ اس سے بھی دل چسپ امر یہ ہے کہ کلاسیکی مذہب کے مقلدین اور ان متجددین کے درمیان ایسا کڑا اختلاف ہے کہ یہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں۔

صدیوں سے یہی دلیل کہ ”دین سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں“ ، مدارس کے دفاع میں استعمال کی جاتی رہی ہے۔ اس دلیل کا علم اٹھانے والے قرآن کے اپنے بیان کے مخالف سمت کھڑے ہو جاتے ہیں جس کے مطابق یہ متن پوری انسانیت کے لیے ہے۔ جبکہ علمبرداروں کا کہنا یہ ہے کہ یہ متن محض تقی عثمانی، اویس نورانی، ہشام الہی ظہیر یا ساجد نقوی کے لیے اترا ہے۔ عام انسان خدا کا پیغام سمجھنے کے لیے ان کی ترجمانی کا محتاج ہے جو اسی متن کی تشریح میں ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔

اس پر جب ہم کہیں کہ مذہب نہ طب ہے نہ مہندسی بلکہ اپنے ہی دعوے کے مطابق زندگی گزارنے کا وہ طریق ہے جس پر ہر ماننے والے کو خود سمجھ کر، نہ صرف عمل کرنا ہے بلکہ حساب بھی دینا ہے کہ عمل ٹھیک کیوں نہیں کیا تو سب خفا ہو جاتے ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ متن کو سمجھنا محض چند لوگوں کا خاصہ ہے تاہم اس پر عمل نہ کرنے کا حساب سب کو اپنی اپنی جگہ دینا ہے۔ اگر تو قیامت کے دن اپنی کم فہمی کا خسارہ قاسم نانوتوی، احمد رضا خان، سیستانی یا احسان الہی ظہیر کے حساب میں منتقل کرنے کا انتخاب دیا جاتا تو شاید ہم اس دلیل سے اتفاق کر لیتے پر ظاہر ہے ایسے معاملے میں شریعت خاموش ہے۔ اس پر منٹو کا ایک مشہور فقرہ یاد آ رہا ہے لیکن میں لکھوں گا نہیں۔ آپ خود ڈھونڈ کر پڑھ لیجیے، بات سمجھ میں آ جائے گی۔

یاد رہے کہ مذہب کے ادراک کا کچھ علوم یا ایک سند سے مخصوص ہونا وہی دلیل ہے جو غلام احمد پرویز، مولانا مودودی یا جاوید احمد غامدی کے خلاف استعمال ہوتی رہی۔ دوسری طرف اسی کا رد کرنے والے انہی متجددین نے اپنی تشریح پر اٹھنے والے اعتراضات کے دفاع میں تقریباً یہی دلیل استعمال کی بس اس میں سے سند کی شرط نکال دی۔ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔

چلیے صاحب، یہاں ابھی یہ نکتہ رکھا ہی جا سکتا تھا سو رکھ دیا گیا۔ آگے چلتے ہیں۔ مدارس کا نصاب فرسودہ ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں اور اسی وجہ سے جدید دور سے اس کا ہم آہنگ ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہ مسئلہ عصری علوم کی درسگاہوں میں نہیں ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں اس کو حل کرنے کے لیے مولانا قاسم نانوتوی اور احمد رضا خان کے سخت موقف کے برعکس عصری علوم کا کچھ پیوند لگانے کی مدارس میں کوشش کی گئی لیکن یہ تجربہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ مدارس کے طلباء جدید معاشرے میں اسی طرح مس فٹ رہے جیسا کہ وہ پہلے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس کے کارپرداز ایسی ہر کوشش کو دل میں اپنے اکابرین کے موقف کے برخلاف اور اپنی مملکت میں مداخلت سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 173 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے