اگر آپ سیکس مخالف نہیں تو ریپ مخالف کیوں

جنسی فعل کی آزادی، ریپ، جنسی ہراسانی، اور بچوں کا جنسی استحصال یہ سب الگ الگ اور ایک دوسرے سے بہت مختلف چیزیں ہیں لیکن ہم پاکستانیوں کی تربیت کچھ ایسی ہوئی ہے کہ یہ ساری گڈمڈ ہو گئی ہیں۔

فیس بک کو سکرول کرتے ہوئے کسی خاتون کی ایک پوسٹ نظر سے گزری جو مفتی صاحب کی تازہ تازہ لیک شدہ ویڈیو کے متعلق تھی۔ اسی پوسٹ کے کمنٹس میں خاتون نے کسی صاحب کے تبصرے کے جواب میں کہا کہ وہ تو جنسی فعل کی آزادی کی قائل ہیں اور اس پر قانونی قدغن کو ناجائز سمجھتی ہیں۔ اس کے جواب میں ان صاحب نے کہا ”اگر آپ سیکس کو برا ہی نہیں سمجھتی ہیں تو پھر ریپ کے خلاف کیوں ہیں“ ۔ ان صاحب کے اس کمنٹ سے سمجھ آتی ہے کہ ہم عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں کہاں کھڑے ہیں۔ یعنی ریپ اور سیکس میں فرق ہی نہیں پہچانتے۔

ویسے ایک عام آدمی کی جانب سے اس کمنٹ پر شاید ہمیں بہت حیرانی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے جب لاہور کے پولیس چیف نے موٹروے پر ریپ کا شکار ہونے والی عورت کو ہی اس جرم کا قصوروار ٹھہرا دیا تھا اور پی ٹی آئی کی آدھی قیادت اس پولیس چیف کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔ حکومت نے اس کو پولیس چیف کے عہدے سے ہٹانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

جماعت اسلامی کے سابق امیر جناب منور حسن صاحب کے ایک انٹرویو کی ویڈیو بھی یوٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ فرما رہے ہیں کہ اگر ایک عورت کا ریپ کر دیا جائے اور وہ چار بالغ، نیک اور دیانتدار مرد گواہ نہ پیش کر سکتی ہو تو اسے اپنے خلاف ہونے والے ریپ کی شکایت نہیں کرنا چاہیے اور اس معاملے پر خاموش رہنا چاہیے۔ تو ظاہر ہے کہ ایک عام شہری کی کیا تربیت ہو گی۔

جنسی فعل کی آزادی کا مطلب ہے کہ جب دو بالغ آزاد انسان اپنی خوشی سے ایک دوسرے کو پسند کریں اور دونوں برابری کی بنیاد پر انجوائے کرنا چاہتے ہوں تو وہ کر سکتے ہیں۔ کسی دوسرے شخص یا حکومت کو ان کے اس ذاتی معاملے میں نہیں آنا چاہیے۔ زیادہ تر دنیا میں اب یہی دستور ہے۔ کل تک ایسا کہیں نہیں تھا۔

مثال کے طور پر گوروں نے متحدہ ہندوستان کے لیے جو قانون 1860 میں بنایا تھا اس کے سیکشن 377 کے مطابق اگر دو مرد آپس میں خوشی اور مکمل رضامندی سے جنسی تعلق قائم کریں تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ واضح رہے کہ یہ قانون گوروں کا بنایا ہوا تھا۔ گوروں کے جانے کے بعد یہ قانون پاکستان اور انڈیا کو ورثے میں ملا۔ انڈیا نے اس سیکشن کو 2018 میں ختم کیا۔ یعنی انڈیا میں 2018 تک دو بالغ مردوں کا اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کرنا جرم تھا لیکن اب یہ جرم نہیں ہے۔

خود برطانیہ نے یہ قانون 1967 میں ختم کیا تھا۔ لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ انڈیا یا برطانیہ میں ایک مرد دوسرے مرد کا ریپ کر سکتا ہے یا اسے جنسی طور پر ہراساں کر سکتا ہے۔ ریپ اور جنسی ہراسانی بہرحال جرائم ہیں۔

انڈیا میں اس قانون کے ختم ہونے سے انڈین پولیس کا بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ اب وہ غریب لوگوں کو ہراساں نہیں کر سکتے اور ان کو جنسی بے راہروی کے مقدمے کی دھمکی لگا کر پیسے نہیں بٹور سکتے۔ پاکستانی پولیس کو ابھی تک یہ سہولت میسر ہے۔ ظاہر ہے کہ غریب ہی ان کے ہتھے چڑھتے ہیں۔ امیر یا تو بڑے ہوٹلوں میں ہوں گے یا اپنے گھروں میں جو کہ پولیس کی دسترس سے باہر ہے۔

جو لوگ ریپ اور خوشی سے قائم کیے گئے جنسی تعلق کو ایک ہی سمجھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو عورت کی مرضی کے حق کو نہیں سمجھتے۔ انہیں خبر ہو کہ عورت جیتا جاگتا انسان ہے۔ اس کی مرضی ہوتی ہے۔ اگر اس کی مرضی شامل نہیں ہے تو وہ جنسی ملاپ کسی صورت بھی جائز نہیں اور ریپ ہی کہلاتا ہے۔ گو کہ پاکستان کے قانون کے مطابق کچھ ریپ جائز ہیں، یعنی شادی شدہ عورت اپنی شوہر کو انکار نہیں کر سکتی۔ لیکن انسانی حقوق کے تحت زبردستی جنسی تعلق ہر صورت میں ریپ ہی کہلائے گا اور جرم ہی تصور ہو گا۔

اٹھارہ برس سے چھوٹی عمر کا کوئی بھی شخص بچہ کہلاتا ہے، چاہے وہ لڑکی ہو لڑکا یا ٹرانسجینڈر۔ بچے کے ساتھ جنسی ملاپ کسی صورت بھی جائز نہیں ہے۔ لیکن پھر افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں، سندھ کے علاوہ، اب بھی سولہ برس کی لڑکی کی شادی ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بچے کے ساتھ جنسی ملاپ قانونا جائز ہے۔

جنسی ہراسانی بھی ایک بھیانک جرم ہے۔ پاکستان میں یہ جرم بہت ہی عام ہے۔ پاکستان میں اس پر قوانین موجود ہیں جو 2010 سے قابل عمل ہیں۔

مفتی صاحب پر لگائے گئے الزام کو بھی اس پیرائے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جو لڑکا ویڈیو میں نظر آ رہا ہے اس کی عمر کیا ہے۔ اس کی شکایت کیا ہے۔ اس کو یہ ویڈیو کیوں بنانی وائرل کرنا پڑی۔ وہ کب سے اس فعل میں شامل ہیں۔ اور اسی طرح کے اور بھی بہت سارے سوالات ہیں جن کے جوابات درکار ہیں۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش ہونا چاہیے اور مفتی صاحب کو گناہ گار یا بے گناہ ڈیکلیئر کرنا چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہو جاتا وہ ایک ملزم ہیں۔

جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔ سرعام پھانسی یا مینار پاکستان سے نیچے پھینکنے جیسے مطالبات غیر انسانی ہیں۔ ایک انسانی معاشرے میں ان کی حوصلہ شکنی لازمی ہے۔ ایسے متشدد اور غیر انسانی نعروں سے معاشرہ بہتر نہیں ہو سکتا۔

بھیانک جرائم دنیا کے ہر حصے میں ہو رہے ہیں، کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ انہیں ختم کرنا اگر ممکن نہیں بھی تو کم کرنے کی کوشش جاری رہنا چاہیے۔ انسانی نفسیات اور فطری تقاضوں کو سمجھ کر لوگوں کی تربیت کرنا اور قوانین کو اس کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں دنیا نے کافی ترقی کر لی ہے۔ کیا قابل عمل ہے اور کیا نہیں ہے اس پر بحث جاری تو ہے لیکن کافی معاملات پر فیصلے ہو چکے ہیں۔ ہمیں پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words