الیکٹرانک ووٹنگ، شفاف انتخابات

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں شفاف اور غیر جانبدار عام انتخابات کا اہم کردار ہوتا ہے اگر انتخابات شفاف نہ ہوں یا ہارنے والی پارٹیوں کو شکوک و شبہات ہوں کہ انتخابات شفاف نہیں تو منتخب ہونے والی حکومت کو مقررہ میعاد میں ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے کام کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی قانون سازی کے عمل کو کامیاب ہونے میں اپوزیشن روڑے اٹکاتی ہے جس کی زندہ مثال ہمارے ملکی عام انتخابات ہیں۔

اگر تاریخی جائزہ لیں تو ادراک ہوتا ہے کہ ہارنے والے سیاستدان اور سیاسی پارٹیوں کے عہدیداران نے اپنی شکست کو ہمیشہ دھاندلی کا نتیجہ کہا، جبکہ جیت کو ہمیشہ شفاف الیکشن کے کھاتے میں ڈالا۔ اسی روایت پر کاربند رہتے ہوئے 2018 ء کے عام انتخابات کو شکست کھانے والی پارٹیوں نے دھاندلی کا نتیجہ کہا یا پھر پاک فوج پر الزامات لگائے۔

جبکہ عوام بھی تذبذب میں رہتی ہے کہ انتخابات حقیقتاً شفاف تھے یا دھاندلی زدہ، تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ منتخب ہونے والی حکومت کو دیگر پارٹیوں نے ملکی یا عوامی خدمت کے کام نہیں کرنے دیے ہمیشہ سے قومی اسمبلی مچھلی منڈی بنی رہی جس میں صرف سیاست دان اپنے مفادات کی جنگ لڑتے آئے ہیں۔ جہاں بھی کوئی حکومت ملکی ترقی یا عوامی فلاح کا کام کرنے کا ارادہ کرے تو اپوزیشن نے ہمیشہ مشروط حمایت کی یا شرائط نہ ماننے پر حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کی۔

ان سب مسائل کا واحد حل صاف و شفاف عام انتخابات کا ہونا ہے اور یہ روایتی مینول طریقہ کار سے ممکن نہیں اس کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ ہی واحد رستہ ہے، جس کی تحریک انصاف تو حامی نظر آتی ہے جبکہ دیگر پارٹیاں اس کی سخت مخالفت میں ہیں، پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ باریوں کا سلسلہ جاری رہا ہے اور جہاں خلاء نظر آیا تو جمہوریت پر شب خون بھی مارا گیا، شاید دیگر پارٹیوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے انتخابات ہوئے تو ان کو حکومت میں آنے کا موقع ملنا نا ممکن ہے، جبکہ روایتی مینول طریقہ سے باری آنے کا موقع مل سکتا ہے، جس وجہ سے حکومت مخالف جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے انتخابات کی مخالفت کر رہی ہیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے جنرل انتخابات کا رجحان اس وقت دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے اور اس کو شفاف انتخابات کا واحد حل سمجھا جاتا ہے اس وقت دنیا کے 20 سے زائد ممالک میں عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ہو چکے ہیں جبکہ بیسیوں ممالک اس پر کام کر رہے ہیں اور ان کے ملک میں آئندہ الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے انتخابات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کے تمام ممالک ہر شعبہ میں ڈیجیٹلائزیشن پر جا رہے ہیں، اور ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں یہی سمجھا جا رہا ہے کہ اب انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی ضروری ہے اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے دھاندلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ روایتی انتخابی عمل سے ووٹنگ میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی مختلف اقسام استعمال ہو رہی ہیں، میڈیا ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے 500 مشینوں کی خریداری ابتدائی طور پر کرنے جا رہی ہے، جبکہ مقامی سطح پر بھی ای وی ایم کی پروٹو ٹائپ کی تیاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ ای وی ایم کی تیاری یا فراہمی اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں بیرونی کمپنیوں کو دور رکھنا انتہائی ضروری ہے ورنہ بیرونی طاقتوں کی طرف سے سسٹم کی ہیکنگ اور مداخلت کا قوی امکان ہو سکتا ہے۔

لہذا ای وی ایم کو باہر سے خریدنے کی بجائے اپنے ملک میں ہی تیار کیا جائے اور سافٹ وئیر ٹیکنالوجی کے لئے نادرا کے ماہرین کی خدمات کافی ہیں، نادرا کے ٹیکنیکل ماہرین دنیا بھر کے ٹیکنیکل ماہرین سے ممتاز ہیں کیونکہ نادرا کا سسٹم ایک ایسا سسٹم ہے جو ہیکنگ سے اس کی ماہر ٹیم کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔ 2016 ء کے امریکی عام انتخابات میں روس کی طرف مداخلت اور ہیکنگ کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے جس کی وجہ سے الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے ہونے والے انتخابات بھی مشکوک ہو گئے اور سائبر سکیورٹی سے متعلق سوالات نے جنم لیا لیکن پاکستان میں اطمینان کی بات یہ ہے کہ نادرا کے ٹیکنیکل ماہرین شب و روز محنت اور مہارت کی وجہ سے گزشتہ 21 سالوں سے بے شمار سائبر حملوں کے باوجود نادرا کا سسٹم ہیکنگ سے محفوظ ہے۔

2013 ء میں نادرا چیئر پرسن طارق ملک نے اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ای ووٹنگ کے لئے نظام سپریم کورٹ میں پیش کر کے منظوری لینے کے بعد نادرا ٹیکنیکل ماہرین کی مدد سے اسے حتمی شکل دے کر اس کی جانچ بھی کی نادرا کے اس ای ووٹنگ سسٹم جو کہ نادرا کے ای ووٹنگ کے حوالے سے پہلا تجربہ تھا لیکن اپنے رجسٹریشن ڈیٹا کے حوالے سے اس وقت کی بائیو میٹرک ویریفیکیشن کی مشکلات سمجھتے ہوئے ایک بہترین نظام تیار کیا گیا تھا جو کہ سپینیش کنسلٹنٹ کے مطابق یہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ سے مطابقت نہیں رکھتا، کسی حد تک یہ درست بھی ہے کیوں کہ 8 سال پہلے نادرا کا بنایا گیا ای ووٹنگ سسٹم ایک پیچیدہ طریقہ کار کا حامل نظام تھا جس میں رجسٹریشن کا عمل کمپیوٹر کی اچھی جانکاری رکھنے والے کے لئے ہی صرف ممکن تھا لیکن اب 8 سال بعد پاکستانی عوام کے اور اوورسیز پاکستانیوں کے بائیومیٹرک بھی اپ ڈیٹ ہو چکے ہیں جو کہ ای وی ایم کے استعمال پر اچھے نتائج دے سکتے ہیں۔

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے نادرا کے ای ووٹنگ سسٹم نادرا کے پرانے تیار کردہ نظام کی بجائے ای وی ایم کے ذریعے عمل میں لانی چاہیے جن کو تمام پاکستانی سفارتخانوں میں نصب کیا جا سکتا ہے ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے انتہائی آسان ہو گی۔ جبکہ پاکستان میں بھی تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم کی تنصیب کی جائیں اور الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے اگلے عام انتخابات منعقد ہوں یہی وقت کا تقاضا ہے۔

اس ضمن میں طارق ملک جو کہ دوبارہ نادرا کے چیئرپرسن تعینات ہوئے ہیں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جو کہ گزشتہ چند سالوں سے اقوام متحدہ میں چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر تعینات تھے اور 130 سے زائد ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔ جن کا شمار دنیا کے 100 با اثر ترین آئی ٹی ماہرین میں ہوتا ہے۔ جبکہ نادرا کے ای ووٹنگ نظام بنانے والے ٹیکنیکل ماہرین کو ترقی یافتہ ممالک کے بنائے گئے نظام کی جانچ بھی بیرون ملک دوروں کے ذریعے کروائی جانی چاہیے تا کہ دیگر موجودہ نظاموں کے موازنہ کے بعد ایک بہترین نظام تیار کر سکیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کرانا آسان ثابت نہیں ہوگا کیوں کہ اس میں مختلف مشکلات درپیش ہوں گی جن میں کئی گنا زیادہ اخراجات اور پاکستان میں شرح خواندگی بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس وجہ سے ووٹ ڈالے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے لئے تربیتی مہموں کے ذریعے بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 60 سے 65 فیصد ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ووٹ ڈالے کا عمل اس طرح ہونا چاہیے کہ پولنگ سٹاف شناختی کارڈ کا اندراج کمپیوٹر پر کرے اور ساتھ ہی بنائے گئے کیبن یا کمرہ میں ای وی ایم نصب ہو جس پر ووٹر اپنے انگوٹھا لگائے اور تصدیق ہونے پر ووٹ کاسٹ کرنے والی سکرین ظاہر ہو اور مطلوبہ امیدوار کے نشان پر ٹچ کرنے سے ووٹ کاسٹ ہو جائے، یہ ایک انتہائی آسان اور ان پڑھ کی سمجھ میں آنے والا طریقہ کار ہوگا۔ اس طریقہ سے ہماری 35 سے 40 فیصد ناخواندہ آبادی بھی ووٹ آسانی سے ڈال سکتی ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے ووٹرز کی تربیت اور پولنگ سٹاف کی تربیت انتہائی ضروری ہے، ووٹرز کی تربیت تمام ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر بصری تشہیری مہم کے ذریعے کرنا ہوگی تا کہ ووٹر طریقہ کار آسانی سے سمجھ سکے اور کوئی ووٹ ضائع نہ ہو اور نہ ہی ای وی ایم کو نقصان پہنچے۔ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن کے پہنچنے سے پہلے ہی مکمل آگاہی ہو کہ ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار کیا ہے۔

جن دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ یا ٹی وی نیٹ ورک کی سہولت نہیں ہے ان علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر خصوصی طور پر ایل ای ڈی نصب کی جائیں جن پر ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کی وڈیو مسلسل چلائی جائیں تا کہ جن لوگوں کو سوشل میڈیا یا ٹی وی تک رسائی نہیں وہ یہاں پر وڈیو سے ووٹنگ کے طریقہ کار کے بارے میں جان سکیں۔

الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیے جانے والے عملہ کی خصوصی تربیت بھی انتہائی ضروری ہو گی کیونکہ عملہ کا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال اور رابطہ یا کنیکٹیویٹی میں مہارت بہت ضروری ہے، ہمارے ہاں عام انتخابات میں اساتذہ اہم کردار کرتے ہیں لیکن اساتذہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال میں ماہر نہیں ہیں لہذا اساتذہ کو الیکٹرانک ووٹنگ کے عمل میں استعمال نہیں کیا جا سکتا، 2018 کے انتخابات میں نتائج کو اپلوڈ کرنے کے لئے نادرا کا آر ٹی ایس سسٹم استعمال کیا گیا جو کہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات عملہ کے ماہر نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہ دے سکا۔ اس مقصد کے لئے نادرا کے عملہ جو کہ تربیت یافتہ اور تجربہ کار بھی ہیں کو استعمال کیا جا سکتا ہے عملہ کم ہونے کی صورت میں دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین جو کہ کمپیوٹر میں مہارت رکھتے ہوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چند احتیاطی تدابیر پربھی الیکٹرانک ووٹنگ کے دوران عمل کرنا انتہائی ضروری ہو گا جن میں بجلی اور انٹرنیٹ کی مسلسل فراہمی اور ایمرجنسی میں متبادل کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے، ملک کے ان دور دراز علاقوں جہاں پر انٹرنیٹ کی سہولت یا بجلی کی سہولت نہیں ہے وہاں نادرا کے موبائل وینز کو نادرا عملہ کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے پی ٹی سی ایل اور دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سے پاک فوج اور پولیس کی خدمات ہمیشہ کی طرح لی ہی جائیں گی۔

تمام سٹیک ہولڈرز کے ذہن میں یہ خیال ہو گا کہ الیکٹرانک دھاندلی بھی کی جا سکتی ہے تو ان کے اس خدشہ کو دور کرنے کے لئے ٹیکنیکل آڈٹ کا بہترین نظام بنانا ہو گا تا کہ شفاف انتخابات کا عمل شکوک و شبہات سے پاک رہے، اس کے لئے دو ڈیٹا سرور ایک نادرا اور ایک الیکشن کمیشن میں نصب کیے جا سکتے ہیں جس میں بیک وقت ڈیٹا محفوظ ہوتا رہے۔ اور الیکشن کمیشن کسی بھی وقت رپورٹ دیکھ سکے کہ کون سے پولنگ پر کتنے ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔

پہلے الیکٹرانک عام انتخابات میں ووٹوں کے آڈٹ کے لئے ووٹ مشین پر کاسٹ کرتے ہی پرنٹ شدہ پرچی نکلے اور اس کو ووٹر بیلٹ باکس میں ڈال دے، ایسا دہرا نظام بھی بنایا جا سکتا ہے۔ گو کہ یہ دہری محنت ہو گی لیکن الیکٹرانک انتخاب کے پہلے تجربے میں اس دہرے نظام کی وجہ سے سو فیصد کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ٹرن آؤٹ بڑھنے کا جو خدشہ مینول ووٹنگ میں ہوتا ہے الیکٹرانک ووٹنگ میں وہ بھی نہیں رہے گا اور دھاندلی دھاندلی کے الزامات کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا، اور سٹیک ہولڈرز اور عوام کے ذہن میں اٹھنے والے شبہات بھی ختم ہو جائیں گے اور حقیقی جمہوریت کے راستہ پہلا ملک کو چلانے کے لئے یہ پہلا قدم بھی ہو گا۔ حقیقی جمہوریت تب تک قائم نہیں کی جا سکتی جب تک انتخابات کو شفاف بنانے جیسے حقیقی مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
فیصل عارف مرزا کی دیگر تحریریں