EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سمیع چوہدری کا کالم: حسن علی کا 'جینئس' بھی کم پڑ گیا

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض اوقات کوئی ایک کھلاڑی ہی ایسا کھیل رچا جاتا ہے کہ باقی ساری ٹیم کی کاوش پھیکی پڑ جاتی ہے اور اچانک سے منظر بدل جاتا ہے۔

اور کبھی باقی ٹیم ہی اس قدر برا کھیل دکھا جاتی ہے کہ متوقع معجزہ نظر آتے آتے یکبارگی اوجھل ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ خلجان سے بھرپور تھی۔ شاید کرداروں کو اپنے سکرپٹ کی شدھ بدھ نہ تھی۔ یا شاید بیٹنگ آرڈر میں متواتر تبدیلیوں نے سبھی کے ذہن الجھا چھوڑے تھے، حتیٰ کہ فیصلہ ساز خود بھی گومگو میں پھنسے رہ گئے۔

شاداب خان کا بطور بلے باز ارتقأ ہم سب کے لیے حیران کن رہا ہے۔ مگر الیمینیٹر کی اس ناگزیر صورتِ حال میں انھوں نے خود کو ترتیب میں پیچھے کر لیا۔ یقیناً یہ فیصلہ پچھلے میچ کی روشنی میں کیا گیا ہو گا مگر کوئی تو بتلائے کہ ایسے دباؤ والے ماحول میں ایک نوآموز ایمرجنگ بلے باز کو تیسرے نمبر پہ بھیجنے میں کہاں کی دانش مندی تھی؟

مگر جب زندگی یونائیٹڈ کی بیٹنگ سے یکسر بیزار سی نظر آنے لگی، تب اچانک حسن علی کا بلا کھلا۔ زلمی ابھی امپائرز سے بحث و تکرار کے غم میں گم تھی کہ حسن علی نے اعدادوشمار کو گڑبڑا ڈالا۔ سبھی تخمینے غلط ملط ہو گئے اور حسن علی کی اننگز نے میچ کا حلیہ بدل کر رکھ دیا۔

اگر یونائیٹڈ کے باقی بولرز بھی اس ولولے کا کچھ نہ کچھ حصہ اپنے دامن میں بھر لیتے تو شاید ٹائٹل کی اس دوڑ سے یوں تہی دامن نہ لوٹنا پڑتا۔ کیونکہ ان کے لیے اس شکست کی تلخی اس امر سے سوا ہو جاتی ہے کہ چار روز پہلے تک یہ ٹیم سیزن کی بہترین ٹیم تھی۔

اب یہ سوچنے کو تو پورا سال پڑا ہے کہ ان چار روز میں ایسی کیا گڑبڑ ہوئی جو یہ ٹیم اپنے سی کرکٹ کھیلنا بھی بھول گئی۔

لیکن وہاب ریاض کی کپتانی نے بہرحال رنگ جما چھوڑا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے پلان لے کر چلتے ہیں۔ بولنگ میں تبدیلیاں کرتے وقت یہ بخوبی ملحوظ رکھتے ہیں کہ ایمرجنگ بولرز کو محفوظ کیسے رکھنا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ جرات مندی کہ ابوظہبی کی وکٹ پہ کسی ریگولر سپنر کے بغیر میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا۔

روشن پہلو یہ بھی ہے کہ زلمی نے اس اہم میچ میں یہ اہم ترین بات نہیں بھولی کہ گیم میں موجود رہنے کے لیے پے در پے وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہے۔ رنز رک بھی جائیں، سٹرائیک ریٹ گر بھی جائیں، ٹی ٹونٹی میں عموماً ایک اوور ہی پانسہ پلٹنے کو کافی ہوتا ہے۔

یونائیٹڈ عموماً اپنی بیٹنگ کے جوابات کے لیے غیر ملکی بلے بازوں پہ انحصار کرتی رہی ہے۔ لیکن یہاں جب غیر ملکی کوٹہ ریسکیو کرنے میں ناکام ٹھہرا تو قومی کھلاڑی بھی اپنی کم مائیگی میں آشکار ہوئے۔ یہ وہ پہلو ہے جس پہ یونائیٹڈ کو کام کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ٹاپ آرڈر میں کوئی سکہ بند مقامی بلے باز بھی شامل ہو۔

زلمی کی متواتر وکٹیں لینے کی صلاحیت ہی دونوں ٹیموں کی بولنگ پرفارمنس میں واضح فرق ثابت ہوئی۔ وگرنہ حسن علی کی اننگز کے بعد میچ کا توازن بالکل برابر ہو چکا تھا۔ اگر شاداب خان اور ان کے بولرز بھی کچھ ویسا ہی کر جاتے جو محمد عرفان اور محمد عمران نے کیا تھا تو مقابلہ کہیں بہتر ہو سکتا تھا۔

اگر متواتر وکٹیں گرتی رہتیں تو میچ ایسا یکطرفہ نہ ہوتا جیسا زازئی کی فارم اور ویلز کے سٹروکس نے کر ڈالا۔

کبھی باقی ٹیم ہی اتنا برا کھیل دکھاتی ہے کہ ایک کھلاڑی کا جینئس ‘سٹروک’ بھی کم پڑ جاتا ہے۔ حسن علی کی اس سرشار اننگز نے اگرچہ شائقین کو مخمور کر ڈالا مگر ان کے ساتھی کھلاڑی اس کے بعد بھی خود کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہ گئے کہ ان کے بیٹنگ بحران کا مداوا ہو چکا تھا اور جیت محض مائنڈ سیٹ کی گیم رہ گئی تھی۔

اگر یونائیٹڈ واقعی ٹاپ ٹیم کی طرح کھیلتی تو اسے حسن علی کی کرشماتی اننگز کا انتظار ہی نہ کرنا پڑتا۔ مگر یونائیٹڈ اتنا برا کھیلی کہ اسے بچانے کو حسن علی کا ‘جینئس’ بھی کم پڑ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19951 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp