EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سنجے گاندھی کا طیارہ ہوا میں قلابازیاں کھاتے ہوئے گرا اور سب دھواں دھواں ہوگیا

ریحان فضل - نامہ نگار بی بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور ان کے بھائی سنجے گاندھی دونوں ہی کو رفتار اور مشینوں سے بہت پیار تھا۔ ایک طرف راجیو ہوا بازی کے اصولوں پر عمل کرتے تھے تو دوسری طرف سنجے ہوائی جہاز کو کار کی طرح چلاتے تھے۔ طیارے کو ہوا میں قلابازیاں لگوانا ان کا شوق ہوا کرتا تھا۔

سنہ 1976 میں انھیں ہلکے طیارے اڑانے کا لائسنس ملا لیکن اندرا گاندھی کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد جنتا پارٹی کی حکومت نے ان کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ لیکن پھر جیسے ہی اندرا گاندھی دوبارہ اقتدار میں آئیں ان کا لائسنس بھی انھیں واپس کردیا گیا۔

سنہ 1977 کے بعد سے اندرا گاندھی کے خاندان کے ایک قریبی ساتھی دھیریندر برہماچاری دو سیٹوں والا طیارہ ‘پٹس ایس 2 اے’ درآمد کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو خصوصی طور پر ہوا میں قلابازیاں کھانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ مئی سنہ 1980 میں انڈیا کے کسٹم ڈپارٹمنٹ نے آخر کار اسے انڈیا لانے کی منظوری دے دی تھی۔

جلد ہی اسے صفدرجنگ ایئرپورٹ پر دہلی فلائنگ کلب پہنچا دیا گیا۔ سنجے پہلے ہی دن اس طیارے کو اڑانا چاہ رہے تھے لیکن فلائنگ کلب کے انسٹرکٹر کو پہلا موقع ملا۔ سنجے نے 21 جون سنہ 1980 کو پہلی بار اس پر اپنا ہاتھ آزمایا۔

رہائشی علاقے پر پِٹس کے تین غوطے اور۔۔۔

دوسرے دن یعنی 22 جون کو انھوں نے اپنی اہلیہ مینیکا گاندھی اور اندرا گاندھی کے خصوصی معاون آر کے دھون اور دھیریندر برہماچاری کے ساتھ پرواز کی اور 40 منٹ تک دہلی کے آسمان میں طیارہ اڑاتے رہے۔

اگلے دن یعنی 23 جون کو کانگریس کے نوجوان رہنما مادھو راؤ سندھیا ان کے ساتھ پِٹس اڑانے جارہے تھے۔ لیکن سنجے گاندھی دہلی فلائنگ کلب کے سابق انسٹرکٹر سبھاش سکسینہ کے گھر پہنچ گئے، جو صفدرجنگ ہوائی اڈے کے نزدیک ہی رہتے تھے۔

انھوں نے کیپٹن سکسینہ سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ فلائٹ پر چلیں۔ سنجے اپنی کار پارک کرنے گئے تھے اور سبھاش سکسینہ اپنے ایک معاون کے ساتھ فلائنگ کلب کی مرکزی عمارت میں پہنچے۔

کیپٹن سکسینہ کو جلدی نہیں تھی شاید اسی وجہ سے انھوں نے چائے کا آرڈر دے دیا تھا۔

ہوائی جہاز کے انجن نے کام کرنا بند کر دیا

ابھی انھوں نے چائے کا ایک گھونٹ ہی لیا تھا کہ ان کا چپڑاسی دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ سنجے گاندھی ہوائی جہاز میں بیٹھ گئے ہیں اور فوراً انھیں بُلا رہے ہیں۔

کیپٹن سکسینہ نے اپنے اسسٹنٹ کو یہ کہتے ہوئے گھر بھیج دیا کہ وہ 10-15 منٹ میں واپس آجائیں گے۔ کیپٹن سکسینہ پِٹس کے اگلے حصے میں بیٹھے اور سنجے نے عقبی حصے میں بیٹھ کر اپنا کنٹرول سنبھال لیا۔

انھوں نے صبح 7 بج کر 58 منٹ پر ٹیک آف کیا۔ سنجے نے حفاظتی قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے رہائشی علاقے پر تین لوپ یعنی غوطے لگائے۔ وہ چوتھا لوپ لگانے ہی والے تھے جب کنٹرول ٹاور میں بیٹھے طیارے کو دیکھنے والے لوگوں کا منھ اس وقت کُھلا کا کُھلا رہ گیا جب انھوں نے دیکھا کہ طیارہ اشوکا ہوٹل کے پیچھے اچانک غائب ہوگیا۔ سکسینہ کے معاون نے بھی تیزی سے جہاز کو نیچے گرتے دیکھا۔

انھوں نے اپنی سائیکل اٹھائی اور پاگلوں کی طرح چلاتے ہوئے موقع پر سب سے پہلے جا پہنچے۔ بالکل نیا پِٹس ٹو سیٹر بری طرح تباہ ہو گیا تھا اور اس سے گہرا کالا دھواں اٹھ رہا تھا لیکن اس میں آگ نہیں لگی تھی۔

رانی سنگھ اپنی کتاب ‘سونیا گاندھی: این ایکسٹرا آرڈی نری لائف’ میں لکھتی ہیں: ‘سکسینہ کے معاون نے سنجے گاندھی کی لاش کو طیارے کے ملبے سے چار فٹ دور پڑا دیکھا۔ کیپٹن سکسینہ کے جسم کا نچلہ حصہ طیارے کے ملبے میں دبہ ہوا تھا۔ لیکن سر باہر نکلا ہوا تھا’۔

’عین اسی وقت اتر پردیش کے اس وقت کے وزیر اعلی وشوناتھ پرتاپ سنگھ (وی پی سنگھ) اکبر روڈ پر واقع اندرا گاندھی کی رہائش گا پر ان سے ملنے کے لیے بیٹھے تھے۔ اچانک وی پی سنگھ نے اندرا گاندھی کے اسسٹنٹ آر کے دھون کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بڑا حادثہ ہوگیا ہے۔ اندرا گاندھی بکھرے بالوں کے ساتھ باہر آئیں اور کار میں بیٹھ کر دھون کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔‘

‘وی پی سنگھ بھی ان کے پیچھے پہنچ گئے۔ اندرا گاندھی کے پہنچنے سے پہلے ہی فائر بریگیڈ نے دونوں لاشوں کو طیارے کے ملبے سے نکال لیا تھا اور انھیں ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس میں رکھا جا رہا تھا۔’

غم کے باوجود بھی آسام کی فکر

رانی سنگھ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں: ‘اندرا گاندھی خود ایمبولینس میں بیٹھ کر رام منوہر لوہیا ہسپتال پہنچ گئیں۔ وہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو مردہ قرار دیا۔’

‘اٹل بہاری واجپئی (بی جے پی رہنما جو بعد میں وزیر اعظم بنے) اور چندر شیکھر (بعد میں وزیر اعظم بنے) سب سے پہلے ہسپتال پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ اندرا گاندھی نے اپنے آنسو اور احساسات چھپانے کے لیے سیاہ چشمے پہن رکھے تھے۔’

یہ بھی پڑھیے

جب اندرا گاندھی کو خون کی 80 بوتلیں لگیں

’میرے پاس کوئی راستہ نہیں، میں ویسے بھی مارا جاؤں گا‘

لکھنؤ ٹیسٹ میں پاکستان کی فتح، اندرا گاندھی کا طنزیہ جملہ اور بیگم اختر کی گائیکی

آپریشن بلیو سٹار: وہ فوجی کارروائی جس کی قیمت اندرا گاندھی نے اپنی جان دے کر چکائی

پُپل جیکر اپنی کتاب ‘اندرا گاندھی’ میں لکھتی ہیں کہ ’انھیں تنہا کھڑا دیکھ کر واجپئی نے آگے بڑھ کر کہا: اندرا جی اس مشکل گھڑی میں آپ کو بہت حوصلے سے کام لینا پڑے گا۔ انھوں نے جواب نہیں دیا لیکن واجپئی کی طرف اس طرح دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں کہ آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟‘

‘واجپئی تھوڑا پریشان ہوگئے اور یہ سوچنے لگے کہ انھوں نے اندرا کو یہ کہہ کر کچھ غلط کیا ہے کیا۔ اس کے بعد اندرا نے چندرشیکھر کی طرف دیکھا اور انھیں ایک طرف لے گئیں اور کہا کہ میں کئی دنوں سے آسام کے بارے میں آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھی وہاں حالات بہت سنگین ہیں۔

‘چندر شیکھر نے کہا کہ ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔ اندرا نے جواب دیا کہ نہیں یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ حیرت زدہ چندر شیکھر یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایک ماں جس کے بیٹے کی لاش دوسرے کمرے میں رکھی ہوئی ہے، وہ آسام کی بات کیسے کر سکتی ہے۔’

وی پی سنگھ کو ہدایت، مینیکا کو تسلی

پُپل جیکر کی کتاب کے مطابق ‘شام کے وقت جب اٹل بہاری واجپئی، چندرشیکھر اور ہیم وتی نندن بہوگنا کی آپس میں ملاقات ہوئی تو واجپئی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ‘یا تو انھوں نے غم پی لیا ہے یا وہ پتھر سے بنی ہوئی ہیں۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس مشکل وقت میں بھی وہ آسام اور انڈیا کے مسائل کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔’

ہسپتال میں ان کے پیچھے آنے والے وشوناتھ پرتاپ سنگھ کو دیکھ کر اندرا گاندھی نے کہا کہ ’آپ فوراً لکھنؤ واپس جائیں کیونکہ وہاں اس سے بڑے مسائل حل ہونے ہیں۔‘

جب تک ڈاکٹر سنجے گاندھی کی مسخ شدہ لاش پر کام کرتے رہے اندرا گاندھی اسی کمرے میں کھڑی رہیں۔

ادھر حادثے کی خبر سن کر سنجے گاندھی کی اہلیہ مینیکا گاندھی بھی ہسپتال پہنچ گئیں۔ اندرا اس کمرے سے باہر آگئیں جہاں سنجے کی لاش تھی۔ انھوں نے مینیکا کو تسلی دی اور انھیں اگلے کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے کیپٹن سکسینہ کی اہلیہ اور والدہ کو بھی تسلی دی۔

سنجے کی لاش پر ڈاکٹروں کو تین گھنٹے لگے۔ جب انھوں نے اپنا کام ختم کیا تو اندرا نے ان سے کہا کہ ’اب آپ کچھ منٹ کے لیے مجھے میرے بیٹے کے ساتھ چھوڑ دیں۔‘

ڈاکٹر کچھ ہچکچائے لیکن اندرا نے سختی سے انھیں وہاں سے چلے جانے کو کہا۔ ٹھیک چار منٹ بعد وہ کمرے سے باہر آگئیں۔ وہ اس کمرے میں گئیں جہاں مینیکا بیٹھی تھیں۔ انھوں نے مینیکا کو بتایا کہ سنجے اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

اس سے قبل جب ڈاکٹر سنجے کی لاش پر کام کر رہے تھے تو وہ ایک بار پھر اس جگہ چلی گئیں جہاں سنجے کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔

بعد میں یہ افواہ پھیل گئی کہ اندرا سنجے کی گھڑی اور چابیوں کا گچھا ڈھونڈنے وہاں گئی تھیں۔ لیکن ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ انھیں سنجے کے ذاتی سامان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

وہ دراصل سنجے کو تلاش کر رہی تھیں۔ دھات کے جلے ہوئے موٹے موٹے ٹکڑوں کو دیکھ کر انھیں یہ احساس ہوا کہ سنجے اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اس جہاز کے گرنے سے سنجے کے لیے ان کے سارے خواب اور مستقبل کے منصوبے بکھر کر رہ گئے تھے۔

وہ سنجے کی لاش کو اپنی نگرانی میں اکبر روڈ پر اپنی رہائش گاہ میں لے آئیں جہاں انھیں برف کی سلوں کے ایک پلیٹ فارم پر رکھا گیا تھا۔ ان کی ایک آنکھ اور سر پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی اور ناک بری طرح کچلی گئی تھی۔

دوسرے دن سنجے کی آخری رسومات کے وقت اندرا گاندھی پورا وقت مینیکا کا ہاتھ تھامے رہیں۔ جیسے ہی سنجے کی چِتا میں آگ لگانے کے لیے راجیو نے ہاتھ آگے بڑھایا اندرا نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ سنجے کے جسم کے گرد لپیٹے ہوئے کانگریس کے پرچم کو نہیں ہٹایا گیا ہے۔ سنجے کی لاش کے اوپر رکھی گئی لکڑیوں کو دوبارہ ہٹایا گیا اور جھنڈا اتارنے کے بعد سنجے کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

25 جون کو سنجے کی راکھ کو گھر لاکر اکبر روڈ کے لان میں رکھا گیا تھا۔ پھر پہلی بار اندرا خود کو روک نہیں سکیں اور انکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

پہلی بار انھیں سب کے سامنے کھل کر روتے دیکھا گیا۔ راجیو گاندھی نے انھیں سہارا دیا۔

چار دن کے اندر یعنی 27 جون کو اندرا ساؤتھ بلاک کے اپنے دفتر میں فائلوں پر ایسے دستخط کر رہی تھیں جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

راج تھاپر نے اپنی کتاب ‘آل دیز ایئیرز’ میں لکھا ہے ‘سنجے کی موت پر لوگ رو پڑے اور پورا ملک غمگین ہوا کیونکہ یہ ایک افسوسناک واقعہ تھا۔ لیکن یہ عجیب ہی ہے کہ اس کے ساتھ لوگوں میں ایک قسم کا سکون بھی تھا جو پورے انڈیا میں محسوس کیا گیا۔’

یہ بھی پڑھیے

گاندھی کے قتل سے پہلے ان کے قاتل کیا کرتے رہے؟

جب راجیو گاندھی نے سونیا کی قربت کے لیے ’رشوت‘ دی

سیاست کے لیے موٹی چمڑی ضروری: اندرا گاندھی

کیا کانگریس اور گاندھی خاندان لازم و ملزوم ہیں؟

برسوں بعد اندرا گاندھی کے چچیرے بھائی اور امریکہ میں انڈیا کے سابق سفیر بی کے نہرو نے بھی اپنی کتاب نائس گائیز فِنِش سیکنڈ’ میں کم و بیش ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا۔

لیکن اگر اندرا کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سنہ 1977 کی شکست کے بعد سنجے ہی واحد شخص تھے جو ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ان کے مطابق اگر سنجے نہ ہوتے تو سنہ 1980 میں کبھی بھی انکی سیاسی واپسی نہیں ہوتی۔

سنجے کی موت کے غم سے ابھرنے میں اندرا گاندھی کو کافی وقت لگا تاہم کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق وہ اس صدمے سے کبھی باہر نکل ہی نہیں سکیں۔

پُپل جیکر اندرا گاندھی کی سوانح عمری میں لکھتی ہیں کہ ‘کئی دنوں تک اندرا آدھی رات کو اٹھ کر سنجے کو ڈھونڈنے لگتیں اور کچھ ہی دنوں میں ان کا کِھلا ہوا چہرہ بوڑھا لگنے لگا اور ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنے لگے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp