EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

چین میں ہاتھیوں کے جھنڈ کے ’500 کلومیٹر سفر‘ سے سائنسدان حیران

سرنجنا تیواری - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Wild Asian elephants forage and play in Yimen county of Yuxi, Yunnan province

Reuters

ہاتھی فطری طور سے انتہائی ذہین جانور ہیں اور ان پر دن رات تحقیق کرنے والے ماہرین پہلے ہی ان کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود چین میں معدومیت کے خطرے کا شکار ہاتھیوں کا ایک جھنڈ، جس نے ساری قوم کا دل موہ لیا ہے، عالمی سطح پر سائنسدانوں کو مکمل طور پر حیران کر رہا ہے۔

ہاتھیوں کے لیے چند کلومیٹر کی دوری پر منتقل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن یہ جھنڈ ایک سال سے زیادہ عرصے سے چین میں آوارہ گردی کر رہا ہے۔ ان ہاتھیوں نے اب تک تقریباً 500 کلومیٹر (310 میل) کا سفر کر لیا ہے، جو ان کی اصل رہائش سے کافی طویل سفر بنتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے اس سے پہلے ہاتھیوں نے کبھی اتنا طویل سفر طے نہیں کیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اس جھنڈ نے گذشتہ موسم بہار میں میانمار اور لاؤس کی سرحد کے قریب، ملک کے جنوب مغرب میں واقع زیشوبانا نیشنل نیچرل ریزرو سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔

انھوں نے شمال کی طرف چلنا شروع کیا اور پچھلے کچھ مہینوں میں، یہ متعدد دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں نظر آئے۔Map


ان جانوروں کو دروازے توڑتے، دکانوں پر چھاپے مارتے، خوراک ’چوری کرتے‘، کیچڑ میں کھیلتے، نہر میں نہاتے اور جنگل کے بیچ نیند پوری کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

اس جھنڈ نے اپنے راستے میں آنے والی کھڑی فصلوں کو اپنی خوراک بنا لیا اور لوگوں کے گھروں میں اپنی سونڈ ڈالتے بھی نظر آئے۔۔۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر انھیں ایک گھر کے صحن میں پانی پینے کے لیے کامیابی سے نلکا چلاتے بھی دیکھا گیا۔

جن شہروں اور دیہاتوں سے یہ ہاتھی گزرے ہیں ان میں کنمنگ شہر بھی شامل ہے جہاں کئی کروڑ افراد آباد ہیں۔

ماضی میں ان ہاتھیوں کا رخ موڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے دوبارہ جنوب کی طرف جانا شروع کر دیا ہے اور آخری دفعہ اس جھنڈ کو یوجی شہر کے قریب واقع شیجی میں دیکھا گیا تھا۔

اس جھنڈ کی رہائش گاہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبے میں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جھنڈ واپس اپنی رہائش کی جانب جا رہا ہے یا نہیں، اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ انھوں نے اس لمبے سفر کا آغاز کیوں کیا یا آگے ان کا کیا ارادہ ہے۔ تاہم اس معاملے میں پوری دنیا نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی اب نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

سائنس دان حیریت زدہ ہیں

نیو یارک کی سٹی یونیورسٹی ہنٹر کالج میں ہاتھیوں کی نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر جوشوا پلاٹینک نے بی بی سی کو بتایا ’حقیقت یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا۔ ان کے سفر کا تعلق شاید وسائل کی کمی سے ہو جس میں خوراک، پانی اور رہائش ہو، یہی ایک وجہ سمجھ بھی آتی ہے۔‘

’ایشیا میں ہاتھی جن جنگلوں میں رہتے ہیں ان میں سے بیشتر مقامات پر انسانی مداخلت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے رہائش کے مسائل، جانی نقصان اور ہاتھیوں کے لیے ضروری وسائل میں کمی ہو رہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اب اور کتنا چلیں گے؟: ہاتھیوں کا جھنڈ تھک ہار کر سو گیا

ہتھنی جو تین دن تک دریا میں کھڑی موت کا انتظار کرتی رہی

جب بینظیر بھٹو نے شہنشاہ جاپان کو پلّا مچھلی بطور تحفہ دینے کا وعدہ کیا

پروفیسر پلاٹینک نے مزید کہا کہ اس سفر کا اس گروپ کے سماجی رویے کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔

ہاتھی ازدواجی خصوصیات رکھتے ہیں جس کے مطابق سب سے بوڑھی اور سمجھدار ہتھنی جھنڈ میں شامل نانیوں، دادیوں، ماؤں، خالاؤں اور بیٹے بیٹیوں کی رہنما ہوتی ہے۔

بلوغت کے بعد نر ہاتھی الگ ہوجاتے ہیں اور تن تنہا سفر کرتے ہیں یا کچھ وقت کے لیے دوسرے نر ہاتھیوں کے جھنڈ میں وقت گزارتے ہیں۔ وہ مختصر وقت کے لیے بچے پیدا کرنے کی نیت سے مادہ سے ملتے ہیں اور پھر سفر پر نکل پڑتے ہیں۔

تاہم یہ جھنڈ تین نر ہاتھیوں سمیت 16 یا 17 ہاتھیوں کے گروپ میں سفر پر نکلا تھا۔

ہاتھی

Reuters

ایک مہینے کے بعد دو نر جھنڈ سے بچھڑ گئے جن میں سے ایک نر ہاتھی رواں مہینے کے آغاز میں جھنڈ سے الگ ہو کر چار کلو میٹر دور چلا گیا۔

احمسہ کیمپوس اریز، جو زیشوانگبانا ٹروبپیکل گارڈن میں پروفیسر اور پرنسپل تفتیش کار ہیں، کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن میں حیران ہوں کہ انھوں نے اتنا عرصہ سفر کیا۔ یہ شاید نئے علاقوں سے ناواقفیت کے باعث ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی میں نے انھیں کسی قصبے یا گاؤں میں گھومتے ہوئے دیکھا تو وہ ایک ساتھ مل کر چل رہے تھے اور یہ تناؤ کی علامت ہے۔‘

ہاتھیوں کا رویہ دوسرے جانوروں کی نسبت انسانوں سے زیادہ قریب ہے اور وہ بھی انسانوں کی طرح بہت سے جذبات سے گزرتے ہیں جیسے پیدائش پر خوشی، موت میں غم اور نئے علاقے میں اضطرابی کیفیت۔

محققین کو اس وقت مزید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب دو مادہ ہتھنیاں سفر کے دوران زچگی سے گزریں۔

زمبیا میں مقیم جنگلات کو بچانے والی ایک تنظیم گیم رینجرز انٹرنیشنل سے وابستہ لیزا اولیویر کہتی ہیں ’ہاتھی عموماً عادتوں سے ہٹ کر کچھ نہیں کرتے اور معمول کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، بچے کو جنم دینے کا وقت قریب ہو تو نئے علاقوں کی طرف جانا غیر معمولی ہے۔ وہ عموماً محفوظ ترین جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘

Wild Asian elephants lie on the ground and rest in Jinning district of Kunming, Yunnan province

Reuters

اولیویر کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کی وہ تصاویر جن میں وہ سب ایک ساتھ سو رہے ہیں، وہ بھی غیر معمولی ہیں۔

انھوں نے کہا ’عام طور پر بچے زمین پر سوتے ہیں اور بڑے ایک درخت یا ٹیلے کے ساتھ ٹیک لگاتے ہیں۔ کیونکہ وہ اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ اگر کسی قسم کا خطرہ ہو تو انھیں اٹھنے اور لیٹنے میں بہت وقت لگتا ہے اور زمین پر لیٹنے کی صورت میں ان کے دل اور پھیپھڑوں پر بہت دباؤ پڑتا ہے۔‘

’حقیقت یہ ہے کہ وہ لیٹے تھے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب مکمل طور پر تھک چکے تھے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے بالکل نیا ہو گا۔ ان ان کے ذریعہ مواصلات کا زیادہ تر انحصار ’انفراسونک آوازوں‘ پر ہوتا ہے۔۔ جیسے ان کے پاؤں رکھنے کی آواز۔ لیکن شہروں اور گاؤں میں وہ گاڑیوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔‘

جگہ کی کمی

سائنسدان متفق ہیں کہ یہ ہاتھیوں کے جھنڈ کی کسی ایک مقام سے ہجرت نہیں ہے کیونکہ اس سفر کے دوران وہ کسی طے شدہ راستے پر نہیں چل رہے۔

تاہم چین دنیا کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں تحفظ کے وسیع کوششوں کی بدولت ہاتھیوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

چین نے غیر قانونی شکار پر سخت پابندی لگائی ہے اور اس کے نتیجے میں یونان صوبے میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی جو 90 کی دہائی میں 193 تھی اب بڑھ کر 300 کے قریب ہوگئی ہے۔

لیکن شہروں کا بڑھنا اور جنگلات کی کٹائی نے ہاتھیوں کی رہائش گاہوں کے رقبے کو کم کر دیا ہے اور اسی وجہ سے ماہرین کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے وہ بہتر کھانا اور نیا گھر ڈھونڈنے نکلے ہوں۔

جنگل کے یہ جانور کھانے کی مشینیں ہیں اور اپنی آنتوں کے غلام ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی زندگی کا بیشتر حصہ 150 سے 200 کلوگرام خوراک کی تلاش میں صرف کرتے ہیں جن کی انھیں روزانہ ضرورت ہوتی ہے۔

انھیں ڈرون سے بھی دیکھا گیا

ماہرین اس بات پر خوش ہیں کہ یہ سفر انسانوں کے ساتھ کسی خطرناک تصادم کا سبب نہیں بنا اور اس کے علاوہ بھی کچھ اور مثبت نتائج ملے ہیں۔

ہاتھیوں کی نگرانی کے لیے حکام نے جو ڈرون متعین کیے ہیں اس سے ہاتھیوں کے جھنڈ کو پریشان کیے بغیر محققین کو معیاری معلومات کا ایک ذخیرہ ملا ہے۔

اور ناقابل فراموش تصاویر جنھوں نے عوام کا دل موہ لیا۔

چین کے حکام ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس جھنڈ کے تحفظ کے لیے حکومت اور مقامی حکام مل کر کام کر رہے ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این نے اطلاع دی تھی کہ حکومت نے ان ہاتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھیوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔

An aerial view shows wild Asian elephants grazing on a farm at a village in Jinning district of Kunming

Reuters

حالیہ مہینوں میں ہاتھیوں کی حفاظت کے لیے بھیجے گئے اہلکار ٹرکوں پر کھانے پینے کا سامان چڑھاتے اور کئی مقامات پر انھیں راستہ دینے کے لیے سڑکیں بند کرتے دیکھے گئے ہیں۔

پروفیسر کیمپوس آرسیز کا کہنا ہے کہ ’مجھے خوشی ہے کہ یہ نقطہ نظر بہت پیچیدہ نہیں ہے۔ ہاتھیوں کو یہ بتانے کی کوشش کرنا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے، ایک بہت ہی عام سی غلطی ہو سکتی ہے۔‘

’ہاتھیوں کی تربیت اس طرح نہیں کی جاتی کہ انھیں بتایا جائے کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ اگر ہم انھیں ایسا کچھ بتانے کی کوشش کریں کہ لمبے سفر کے دوران انھیں کیا کرنا ہے۔۔۔ تو یہ بہت ہی جارحانہ رویے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

چینی میڈیا نے ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے اور یہ جھنڈ چین سے باہر بھی انٹرنیٹ پر بہت مشہور ہو گیا ہے۔

اس تمام توجہ نے معدومیت کا شکار ہاتھیوں کی حالت زار کے بارے میں شعور میں اضافہ کیا ہے اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

اولیویر کا کہنا ہے کہ ’یہ توجہ اور دلچسپی، پوری دنیا کے جانوروں کے تحفظ میں مدد دے گی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20016 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp