EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکہ نے 36 ایرانی ویب سائٹس بند کر دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Website screenshot that says the site has been seized

BBC

امریکہ نے ایران اور اس سے منسلک درجنوں ویب سائٹس کو غلط معلومات پھیلانے کے الزام پر بند کر دیا ہے۔

منگل کے روز ان ویب سائٹس پر ایسے نوٹس چسپاں تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں قبضے میں لے لیا ہے۔ بند کی جانی والی ویب سائٹس میں ایران کے سرکاری انگلش چینل پریس ٹی وی کی سائٹ کو بھی شامل ہے۔

ان میں کچھ سائٹس چند گھنٹوں بعد نئے ڈومین ایڈریس کے ساتھ واپس آ چکی ہیں۔

ایران نے سائٹس کی بندش پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ایسے وقت جب جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جاری بات چیت جاری ہے ایسا قدم’ غیر تعمیری‘ ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی اسلامک ریڈیو اینڈ ٹیلویژن یونین (آئی آر ٹی وی یو) کی 33 اور عراق کی ایرانی حمایت یافتہ کتیب حزب اللہ ملیشا کی تین سائٹس کو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی پاداش میں بند کر دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایرانی حکومت کے کچھ حصے اس آڑ میں امریکہ کے خلاف جھوٹی معلومات اور اسے بدنام کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔

امریکہ نے کہا کہ آئی آر ٹی وی یو پاسداران انقلاب کے زیر اثر ہے جو امریکہ کی غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے لہذا وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آتا ہے۔

آئی آر ٹی وی یو ایک امریکی کمپنی کی ڈومین کو استعمال کر رہا تھا اور اس نے ایسا کرنے کے لیے امریکہ کے محکمہ خزانہ سے لائسنس حاصل نہیں کر رکھا تھا۔

امریکہ کتیب حزب اللہ ملیشیا کو دہشتگرد گردانتا ہے۔

اب ان ویب سائٹس تک رسائی ممکن نہیں۔ العالم ویب سائٹ کے مطابق اس کے ڈومین ایڈریس کو امریکی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ Profile: Iran’s Revolutionary Guards

اسی طرح ایران کے پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر بھی ایسا ہی پیغام چسپاں ہے۔

ایران کے سرکاری براڈکاسٹر آئی آر آئی بی نے امریکہ پر اسرائیل اور سعودی عرب سے مل کر اپنے اتحادیوں کے جرائم کو بے نقاب کرنے والے مزاحمتی ذرائع ابلاغ کو روکنے کا الزام لگایا ہے۔

یمنی حوثی تحریک نے تصدیق کی ہےکہ اس کے نیوز چینل المسیراٹی کی ڈومین کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔

مغربی یمن کے بیشتر حصوں پر قابض حوثی قبائل یمن کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی تردید کرتا ہے۔

المسیرا نے امریکہ پر پائیریسی کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ امریکی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے۔

برطانیہ سے چلنے والا آزاد بحرینی چینل لوالوا ٹی وی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ویب سائٹس کیسے قبضے میں لیا جا سکتا ہے؟

تجزیہ: ڈیوڈ مولوئے

ٹیکنالوجی رپورٹر

جن ڈومین ایڈریس کو بند کیا گیا ہے ان کی اکثریت ڈاٹ کام، ڈاٹ نیٹ اور ڈاٹ ٹی وی کے ایڈریس کے ساتھ کام کر رہی تھیں۔ ڈاٹ کام اور ڈاٹ نیٹ جینرک ڈومین ایڈریس جبکہ ڈاٹ ٹی وی کا ڈومین ایڈریس بحرالکاہل کے ملک توالو میں رجسٹرڈ ہے جس کی ملکیت ایک امریکی کمپنی کے پاس ہے۔

کسی دوسرے ملک کی ڈومین ایڈریس مثلاۙ ڈاٹ آئی آر پر قبضہ کو خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی صدارتی آفس کے ترجمان محمود وائزی نے کہا ہے ہم اس اقدام کی عالمی اور قانونی طریقوں سے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ اانھوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے ایسی صورتحال میں یہ مثبت قدم نہیں لگتا۔

ویب سائٹس کیسے قبضے میں لیا جا سکتا ہے؟

تجزیہ: ڈیوڈ مولوئے

ٹیکنالوجی رپورٹر

جب آپ ویب سائٹ تیار کرتے ہیں تو اس کے دو اہم جز ہیں۔ پہلا سرور جس پر تمام مواد رکھا جاتا ہے اور دوسرا ڈومین ایڈریس جو اس سائٹ کا راستہ ہوتا ہے جس کے ذریعے صارفین اس کے مواد تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس بار امریکی حکومت نے ڈومین ایڈریسز کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ جب کوئی اس ڈومین ایڈریس پر جاتا ہے تو اسے سرور تک لے جانے کی بجائے ایف بی آئی کی وارننگ دکھائی جاتی ہے۔

وہ ایسا اس لیے کر لیتے ہیں کہ ٹاپ لیول ڈومین (ٹی ایل ڈی) کو امریکی کمپنی (Verisign) ویری سائن چلاتی ہے۔

یہ کمپنی چونکہ امریکی سرزمین پر ہے لہذا اس پر امریکی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

چونکہ ان تمام سائٹس کے سرور ابھی تک آن لائن ہیں اور انھیں امریکی دائرہ اختیار سے باہر کو ایک نیا ڈومین ایڈریس چاہیے

اصل چینلج صارفین تک اس نئے ایڈریس کو پہنچانا ہے۔ .

ایران

Getty Images

ایرانی ویب سائٹس کو بند کرنے کا عمل اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک سخت گیر ابراہیم ریئسی ایران کے نئے صدر منتخب ہوئے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات عشروں سے کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات 2018 میں اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے الگ کر کے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن ایران سے چھ عالمی طاقتوں کے ہونے والے جوہری معاہدے کو پھر سے جوائن کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں فریق ایک دوسرے سے پہل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Iran security forces use an armoured vehicle to destroy satellite dishes

Getty Images
ماضی میں ایران کی سیکورٹی فورسز سیٹلائٹ ڈشز کو تباہ کرنے کے لیے ٹینکوں کو استعمال کرتے رہے ہیں

امریکہ کی طرف ایران کے ساتھ جوہری معاہدی کو پھر جوائن کرنے کے لیے ویانا میں بالواسطہ بات چیت چھ دور ہو چکے ہیں۔ امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور یورپی یونین کے نمائندے بالوواسطہ مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں۔

ایران میں تمام ٹیلیوژن اور ریڈیو سٹیشن حکومت کے ہیں اور پرائیویٹ چینلز کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سیٹلائٹ ڈش کا استعمال بھی غیر قانونی ہونے کے باوجود عام ہے۔

کئی بار پولیس سیٹلائٹ دشوں کو قبضے میں لے کر انھیں ضائع کرتی رہی ہے۔

گذشتہ برس امریکہ نے 92 ایسی ویب سائٹس کو بند کر دیا تھا جن کے ذریعے ان کے بقول ایران کی پاسداران انقلاب غلط سیاسی معلومات پھیلا رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19986 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp