EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل: نیوزی لینڈ نے انڈیا کو آٹھ وکٹوں سے ہرا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیلر، ولیمسن
Reuters
انگلینڈ کے شہر ساؤتھ ہیمپٹن میں نیوزی لینڈ نے انڈیا کو آٹھ وکٹوں سے ہرا کر آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی ہے۔

بدھ کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے آخری روز انڈیا کی ٹیم 170 پر آل آؤٹ ہوگئی تھی جس کے بعد نیوزی لینڈ کو قریب 50 اوورز میں 139 کا ہدف ملا تھا۔

نیوزی لینڈ نے 45.5 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 140 رنز بنا کر اس ہدف کا کامیابی سے تعاقب کیا۔ کپتان کین ولیمسن نے نصف سنچری جبکہ بلے باز روس ٹیلر نے 47 رنز کی نمایاں باری کھیلی۔ انڈیا کی طرف سے آر ایشون دو وکٹیں حاصل کر کے واحد کامیاب بولر رہے۔

میچ کے پہلے اور چوتھے روز بارش کی وجہ سے کھیل نہ ہونے کے باوجود دونوں ٹیموں نے میچ نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی جبکہ پانچ روزہ ٹیسٹ میں ایک اضافی دن (ریزرو ڈے) دیا گیا تھا۔

میچ کا مکمل سکور کارڈ

نیوزی لینڈ کی 32 رنز کی برتری بھی کام آئی

ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے پہلے روز بارش کی وجہ سے کھیل ممکن نہ ہوسکا مگر اگلے ہی روز ٹاس جیتنے کے بعد نیوزی لینڈ نے آسمان پر بادل دیکھ کر انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

پہلی اننگز میں انڈیا کی ٹیم 217 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ کپتان ویرات کوہلی نے 44 جبکہ آجنکے راہانے نے 49 رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دیا تھا۔

جیمیسن

Reuters

نیوزی لینڈ کے پیسر کائل جیمیسن نے محض 31 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

جواب میں نیوزی لینڈ نے 249 رنز بنا کر 32 رنز کی برتری حاصل کی تھی جس میں اوپنر ڈیون کونوے 54 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے تھے۔ ان کا ساتھ کپتان کین ولیمسن نے 49 رنز کی باری کے ساتھ دیا۔

انڈیا کی میچ میں واپسی کے لیے محمد شامی نے اہم کردار نبھایا۔ انھوں نے 76 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں جس میں روس ٹیلر، بی جے واٹلنگ، ڈی گرینڈہوم اور کائل جیمیسن ان کے شکار بنے۔

شامی، کوہلی

Reuters
انڈیا کی میچ میں واپسی کے لیے محمد شامی نے اپنی چار وکٹوں سے اہم کردار نبھایا

اب انڈیا کے پاس موقع تھا کہ وہ نیوزی لینڈ کو بڑا ہدف دے کر میچ جیتنے کی کوشش کریں۔ تاہم انڈین ٹیم آخری روز 170 رنز ہی بنا سکی اور یوں نیوزی لینڈ کو قریب 50 اوورز میں 139 رنز کا ہدف دیا گیا۔

ٹِم ساؤتھی نے 48 رنز دے کر انڈیا کے چار اہم بلے بازوں کو پویلین واپس بھیجا جن میں اوپنرز روہت شرما اور شبھمن گِل، محمد شامی اور جسپریت بھمرا شامل تھے۔ یوں منگل کو محمد شامی اور ٹِم ساؤتھی نے اپنی اپنی ٹیموں کو میچ میں کامیابی دلانے کے لیے بہترین سپل کرائے اور مجموعی طور پر دن میں 10 وکٹیں گِری تھیں۔

ساؤتھی

Reuters
انڈیا کی دوسری اننگز میں ٹِم ساؤتھی نے 48 رنز دے کر انڈیا کے چار اہم بلے بازوں کو پویلین واپس بھیجا

آخری روز کے آغاز پر انڈیا کو دو وکٹوں کے نقصان پر 64 رنز کے سکور کے ساتھ 32 رنز کی برتری حاصل تھی۔

مگر نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولرز ٹرینٹ بولٹ، کائل جیمیسن اور نیل ویگنر نے دباؤ برقرار رکھا اور ایک ایک کر کے تمام انڈین بلے باز اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے۔

’آئی سی سی ٹورنامنٹس میں کوہلی کی قسمت اچھی نہیں‘

انڈیا کی شکست پر انڈین فینز میں غم اور غصہ پایا جاتا ہے اور مگر بعض صارفین اب بھی کپتان ویرات کوہلی کی حمایت کر رہے ہیں۔

سندھو نامی صارف کہتی ہیں کہ ’کوہلی کو صرف ٹاس کے لیے اچھی قسمت درکار ہے۔ مجھے ان سے ہمدردی ہے۔ ایک اور آئی سی سی ٹورنامنٹ میں شکست سے مایوسی ہوئی ہوگی۔‘

اسی طرح ایک صارف نے کہا کہ ’آئی سی سی ٹورنامنٹس میں کوہلی کی قسمت اچھی نہیں۔‘ خیال رہے کہ دوسری اننگز میں کوہلی صرف 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے مگر پہلی اننگز میں انھوں نے 44 رنز بنائے تھے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کے دوران انڈین ٹوئٹر صارفین میں ایک بحث کافی نمایاں رہی ہے اور وہ یہ کہ دونوں ملکوں کی آبادی میں کافی زیادہ فرق ہے۔

اشوک سوان نے لکھا کہ ’انڈیا کو کرکٹ کا سپر پاور سمجھا جاتا ہے مگر ساؤتھ ہیمپٹن میں ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں نیوزی لینڈ سے مقابلے میں اسے دشواری کا سامنا ہے۔ نیوزی لینڈ کے مقابلے انڈیا کی آبادی 240 گنا زیادہ ہے اور نیوزی لینڈ میں تو کرکٹ نمبر ون کھیل بھی نہیں۔‘

صارف سمیتا دیپ نے طنزیہ لکھا کہ ’انڈیا نے نیوزی لینڈ کی آبادی سے بھی زیادہ لوگوں کو ایک دن میں ویکسین دی ہے۔‘ اس روز مقامی ذرائع ابلاغ نے مطابق انڈیا کے 52 لاکھ شہریوں کو ویکسین دی گئی تھی۔

مگر بھارت سندریسن نے اس پر تبصرہ کیا کہ انھیں اس بحث کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ ’انڈیا کے مقابلے نیوزی لینڈ میں لوگوں کے پاس کھیلوں کے لیے زیادہ کھلے میدان اور سوشل سکیورٹی ہے۔‘

پاکستانی کرکٹ فینز نے بھی بظاہر میچ میں کافی دلچسپی لی مگر اکثر نیوزی لینڈ کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔ پی ایس ایل میں کراچی کنگز کے فین یوسف خٹک نے لکھا کہ ’کراچی کنگز کے بعد ہماری آخری امید نیوزی لینڈ ہے۔‘

22 جون کو آئی سی سی نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ انھیں گراؤنڈ میں کچھ شائقین کی جانب سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں سے بد زبانی کی شکایت موصول ہوئی تھی جس پر سکیورٹی ٹیم نے ان کی نشاندہی کر کے انھیں گراؤنڈ سے نکال دیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق یہ شکایت شہری کے ایک نیوزی لینڈ نے کی تھی جب اس نے ٹی وی پر دیکھا کہ روس ٹیلر، جن کی والدہ سامووا سے تعلق رکھتی ہیں، پر نسل پرستانہ جملے کسے گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19926 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp