آپریشن باربروسا: ہٹلر کی وہ غلطیاں جنھوں نے دوسری عالمی جنگ کا رخ موڑ دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جنگ

Getty Images

یہ 22 جون سنہ 1941 کی بات ہے جب نازی جرمنی نے آپریشن باربروسا کا آغاز کیا تھا۔ یہ سوویت یونین کے خلاف ایک بڑا حملہ تھا۔ اس وقت سویت یونین کی کمان اسٹالن کے ہاتھوں میں تھی۔

یہ تاریخ کا سب سے بڑا فوجی حملہ تھا۔ یہ ایک خطرناک بازی بھی تھی، جسے ایڈولف ہٹلر نے اس وقت جاری دوسری جنگ عظیم کو فیصلہ کن انداز میں اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن جرمنی کے قائد ہٹلر جس طرح چاہتے تھے چیزیں اس طرح نہیں ہوئیں۔ مورخین اس کارروائی کی ناکامی کو دوسری جنگ عظیم کا ایک اہم موڑ اور جرمنی کی برتری کے خاتمے کا آغاز بھی سمجھتے ہیں۔

آپریشن باربروسا نے دونوں مطلق العنان سپر پاوروں کے مابین چھ ماہ تک جاری رہنے والی شدید جنگ کا آغاز کیا۔ یہ ایک ایسا تصادم تھا جو دوسری عالمی جنگ کا فیصلہ کن نتیجہ لانے والا تھا۔

آپریشن باربروسا کا نام 12 ویں صدی کے مقدس رومی شہنشاہ فریڈرک باربروسا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جرمنی کے سوویت یونین پر حملے کے ساتھ ہی سنہ 1939 میں ہونے والا جرمنی-سوویت معاہدہ بھی ٹوٹ گیا۔

اتحادی ممالک کی فوجوں نے 30 لاکھ افراد کو تین گروہوں میں تقسیم کیا اور لینین گراڈ، کیئف اور ماسکو کو نشانہ بنایا۔

سوویت فوج اس اچانک کے حملے سے دنگ رہ گئی اور پہلی جنگ میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کئی لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ کیئف، اسمولنسک اور ویازما جیسے شہروں کو نازیوں نے فتح کر لیا۔

جنگی سازوسامان

Getty Images

تاہم انھیں بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ سوویت دفاع میں بتدریج بہتری اور روس کی شدید برفیلی سردی کی وجہ سے دسمبر میں جرمن انفینٹری کی پیش قدمی رک گئی۔

اگرچہ اس وقت جرمن فوج ماسکو تک پہنچ گئی تھی لیکن ہٹلر نے فیصلہ کیا کہ جرمن فوج جارحانہ کارروائی نہیں کرے گی بلکہ لینن گراڈ کے گرد ایک طویل محاصرہ کرے گی۔

اگرچہ ابتدائی حملوں میں سوویت افواج بچ گئیں لیکن جرمن افواج نے سنہ 1942 میں نیا حملہ شروع کیا اور سوویت کے بہت اندر تک گھس آئے۔ 1942 اور 1943 کے درمیان اسٹالن گراڈ کی لڑائی نے صورتحال کو بدل دیا اور بالآخر جرمن افواج کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

جرمنی کی حملوں میں سوویت یونین کے شہریوں کو وسیع پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان میں یہودی سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ دس لاکھ سے زیادہ یہودی مارے گئے۔ ہٹلر نے یہودیوں کے مکمل خاتمے کا منصوبہ بنایا تھا۔

اب اس آپریشن کے تقریباً 80 سال بعد برطانوی تاریخ دان اور فوجی تاریخ اور دوسری جنگ عظیم کے ماہر انٹونی بیور نے بی بی سی ہسٹری کے دس سوالات کے جوابات دیئے ہیں اور ہٹلر کی بڑی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔

ہٹلر

Getty Images

1۔ کیا ہٹلر کا سوویت یونین پر حملہ کرنے کا ایک طویل مدتی منصوبہ تھا؟

ایڈولف ہٹلر نے بڑے کاروبار کے متعلق اپنا رویہ تیزی سے تبدیل کیا، لیکن میرے خیال میں سوویت یونین پر ان کا حملہ پہلی جنگ عظیم کے اختتام تک کا شاخسانہ ہے۔

بولشیوزم سے نفرت ان کے اندر بسی ہوئی تھی۔ لیکن اس کا سبب سنہ 1918 میں جرمنی کے یوکرائن پر قبضے کے ساتھ اس بات میں بھی مضمر تھا کہ مستقبل میں بولشیوزم پھر سے پنپ سکتی ہے۔

ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ اس خطے کو اپنے کنٹرول میں رکھنے سے برطانوی ناکہ بندی کو روکا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں قحط پڑا تھا۔ تو یہ فطری طور پر ایک اسٹریٹجک فیصلہ تھا۔

درحقیقت یہ منصوبہ دسمبر سنہ 1940 تک پوری طرح تیار نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہٹلر نے اپنے جرنیلوں کے سامنے سوویت یونین پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ کو اس جنگ سے ہٹانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

اگر سوویت یونین کو شکست ہوئی تو برطانیہ کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ جو اس وقت کے حالات میں اہم تجزیہ تھا۔

معاہد

Getty Images
23 اگست 1939 کو جرمنی اور سویت روس کے درمیان معاہدہ ہوا تھا

2۔ کیا جرمن-سوویت معاہدہ ہٹلر کے لیے عارضی حل سے زیادہ تھا؟

یہ دانستہ طور پر کیا گیا تھا۔ ہٹلر سمجھ گئے تھے کہ انھیں پہلے مغربی اتحاد کو شکست دینا ہے۔ اور ان کی غیر معمولی خود اعتمادی کا مظہر ہے، خاص طور پر ایسے میں جب اس وقت فرانسیسی فوج کو سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا۔

نصف سے زیادہ یورپی ممالک کو کئی دہائیوں تک نازیوں اور سوویت یونین کے مابین ربینتروپ-مولوتوف معاہدے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔

اسٹالن کو بڑی امید تھی کہ اس سے سرمایہ دار ملک اور نازی کے درمیان خونریزیاں ختم ہوجائیں گی۔

جرمن سوویت معاہدہ بھی اسٹالن کی ایک ضرورت تھا کیونکہ اس نے حال ہی میں اپنی ریڈ آرمی کو ختم کردیا تھا اور جرمنی کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنا تھا۔

سویت یونین

Getty Images
نازی سویت معاہدہ

3۔ اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ جرمنی نے حملہ کے لیے بہت طویل انتظار کیا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

یقینا، یہ سچ ہے کہ آپریشن باربروسا کافی دیر سے شروع ہوا تھا اور اس بارے میں کافی بحث ہوتی رہی ہے کہ اس میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ ایک پرانا خیال یہ ہے کہ اپریل سنہ 1941 میں یونان پر حملے کی وجہ سے اسے روکنا پڑا تھا، لیکن اس وقت تک یہ معلوم ہوچکا تھا کہ اس کی اصل وجہ وقت تھا۔

سنہ 41-1940 کے موسم سرما کے دوران شدید بارش ہوئی اور اس سے دو مسائل پیدا ہوگئے۔ پہلا مسئلہ یہ تھا کہ جرمن ملٹری ایوی ایشن لفٹ وافے کا فارورڈ ایئر فیلڈ مکمل طور پر پانی میں غرقاب تھا اور جب تک یہ ایر فیلڈ خشک نہیں ہو جاتا تھا طیاروں کی نقل و حرکت نہیں ہو سکتی تھی۔

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے مشرقی محاذ پر ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی تعیناتی تاخیر کا شکار ہوئی۔ ایک اور دلچسپ حقیقت یہ تھی کہ جرمن موٹر ٹرانسپورٹ ڈویژن کے 80 فیصد لوگ شکست خوردہ فرانسیسی فوج سے آئے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ اسٹالن کو فرانسیسیوں سے نفرت تھی۔ انھوں نے سنہ 1943 میں تہران کانفرنس میں دلیل پیش کی تھی کہ ان کے ساتھ غدار اور شراکت دار کا سلوک کیا جانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انھوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو انھوں نے اپنی گاڑیاں تباہ نہیں کیں۔ اور یہی وہ چیز تھی جو اسٹالن کے لیے بہت سنگین تھی۔

جنگ

Getty Images

4۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسٹالن ایک جوش و جنون سے پر شخصیت کے حامل تھے۔ وہ کسی جرمن حملے کے بارے میں اتنے انتباہات کو کیسے نظرانداز کرسکتے تھے؟

یہ تاریخ کے سب سے بڑے تضادات میں سے ایک ہے یہ ہر چیز پر شبہ کرنے والے اسٹالن کو ہٹلر نے دھوکہ دے دیا۔ اس کی وجہ سے بہت ساری افواہیں اڑیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسٹالن پہلے جرمنی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

بہر حال، اس میں کوئی صداقت نظر نہیں آتی ہے۔ دراصل یہ بات سوویت یونین کی 11 مئی 1941 کی ہنگامی دستاویز پر مبنی ہے۔ اس دستاویز میں نازی حملے کے منصوبوں سے واقف جنرل زوخوف اور دیگر افراد نے جوابی حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

جن چیزوں پر انھوں نے غور کیا ان میں سے ایک پیشگی حملہ کرنا تھا، لیکن اسٹالن کی ریڈ آرمی اس وقت ایسا کرنے کی پوزیشن میں بالکل نہیں تھی۔ ایک پریشانی یہ بھی تھی کہ جن ٹریکٹرز پر ان کے توپ خانے جانے تھے وہ فصلوں کی کٹائی کے لیے استعمال ہورہے تھے۔

لیکن یہ بات کافی دلچسپ ہے کہ اسٹالن نے کس طرح تمام انتباہات کو مسترد کر دیا۔ انھیں صرف برطانیہ نے خبردار نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اپنے سفارت کاروں اور جاسوسوں نے بھی انھیں آگاہ کیا تھا۔ شاید ہسپانوی خانہ جنگی سے ہی انھیں اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ بیرون ملک مقیم ہر شخص کرپٹ اور سوویت مخالف ہیں۔

چنانچہ جب انھیں برلن سے اطلاع ملی تو انھوں نے اسے نظرانداز کر دیا۔ یہاں تک کہ جب انھیں جرمن فوجیوں کی ایک چھوٹی سی لغت بھیجی گئی تھی جس میں ’مجھے اپنے فرقہ وارانہ فارم میں لے چلو‘ جیسے اظہار موجود تھے۔ لیکن اسٹالن کو پوری طرح یقین تھا کہ جرمنی کے ساتھ لڑائی پر مجبور کرنا انگریزوں کی اشتعال انگیزی تھی۔

تاہم یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹالن نے ہٹلر کی اس یقین دہانی کو قبول کیا تھا کہ بہت سارے فوجیوں کو برطانوی بمباروں کی زد سے دو مشرق بعید سے لے جایا جارہا تھا۔ تاہم اس وقت وہ اتنے کمزور تھے کہ وہ مخالف فوج میں نقب زنی سے قاصر تھے۔

سویت فوجی

Getty Images
سویت فوجی جرمن سامان کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے

5۔ جرمنی کا مقصد کیا تھا؟ کیا جرمنی واقعتاً سوویت یونین پر مکمل فتح حاصل کرنا چاہتا تھا؟

منصوبہ یہ تھا کہ آرکگیل سے استرخان تک اے اے لائن کی جانب پیش قدمی کی جائے۔ اگر یہ ہوجاتا تو جرمن فوج کو ماسکو اور وولگا سے آگے بڑھنے میں مدد ملتی۔ چنانچہ جب اسٹالن گراد کی جنگ شروع ہوئی تو بہت سے جرمن فوجیوں نے سوچا کہ صرف اس شہر پر قبضہ کرنے اور وولگا تک پہنچنے سے ہی وہ جنگ جیت جائیں گے۔

خیال یہ تھا کہ سوویت فوجی جو حملے کے آغاز میں بڑی لڑائیوں میں زندہ بچ گئے تھے وہ منتشر ہوں کے اور ان کو بمباری کے ذریعے ایک جگہ گھیر لیا جائے گا۔

اس دوران میں روس اور یوکرین کے فتح شدہ علاقوں کو جرمن کالونیوں اور بستیوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ جرمن ہنگر پلان کے مطابق بہت سے بڑے شہروں میں لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ یہ تخمیہ لگایا گیا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہو گی۔

لیکن اس پورے منصوبے کا انحصار اے اے لائن پر تیزی سے پیش رفت پر تھا اور سب سے بڑھ کر بڑے پیمانے پر محاصرہ کرکے ریڈ آرمی کے مکمل خاتمے پر۔

ان میں سے کچھ چیزیں واقعتاً ہوئیں بھی۔ مثال کے طور پر کیئف انسانی تاریخ میں گرفتار شدہ قیدیوں کے معاملے میں دنیا کی سب سے بڑی جنگوں میں سے ایک ثابت ہوا۔

فوجی

Getty Images

6۔ کیا جرمنی کے پاس کامیابی کا کوئی امکان تھا؟

سنا 1941 کے آخر میں گھبراہٹ کے ایک لمحے میں اسٹالن نے بلغاریہ کے سفیر سے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ماسکو پر قبضہ ہوسکتا ہے اور سب کچھ بکھر جائے گا۔

لیکن سفیر اسٹیمینوف نے جواب دیا: ’وہ خطبی ہیں، اور اگر وہ یورال سے پیچھے ہٹتے یورالز کی جانب چلے جائیں گے ان کی فتح ہو گی۔‘

میرے نزدیک یہ ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپریشن باربروسا کیوں ناکام ہونے والا تھا۔ اس ملک کے رقبے کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو گئی کہ جرمن فوج اور اس کے اتحادی رومانیہ اور ہنگری کے پاس اتنے بڑے علاقے پر فتح اور قبضہ کرنے کے لیے وافر فوج نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہٹلر نے چین پر جاپانی کارروائی سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا، جس میں ایک انتہائی مکینیکل اور تکنیکی اعتبار سے اعلیٰ اہلیت کے حامل ملک نے ایک ایسے ملک پر حملہ کیا جس کا رقبہ بہت بڑا تھا۔

اس سے ظاہر ہوا کہ آپ ابتدا میں جیت سکتے ہیں لیکن ہٹلر نے سوویت یونین کے خلاف جس بربریت کا مظاہرہ کا تھا اس کی وجہ سے جو صدمہ اور دہشت پیدا ہوئی اس نے اسی قدر رد عمل پیدا کیا جتنا کہ دہشت گردی اور بدنظمی کرتی ہے۔

ہٹلر نے کبھی اس پر غور نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ یہ جملہ استعمال کرتے رہے کہ ‘دروازے پر لات ماریے تو سارا ڈھانچہ گر جائے گا۔ لیکن انھوں نے سوویت یونین کے زیادہ تر لوگوں کی حب الوطنی، عمر اور عزم کو کم سمجھا۔

یہ بھی پڑھیے

’ڈیئر پوتن، ہٹلر اور سٹالن نے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کیا‘

سوویت یونین کا بکھرنا حیران کن کیوں؟

یہودی لڑکی نازیوں سے چھپنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟

زندگی کے آخری دن ہٹلر نے شادی رچائی، جشن منایا اور پھر خود کو گولی مار لی۔۔۔

سٹالن

Getty Images

7۔ کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ اسٹالن سوویت کی حفاظت کی راہ میں رکاوٹ تھے؟

خاص طور پر کیئف کے محاصرے سے دستبردار نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جانیں گئيں۔ یہ مزاحمت کرنے یا مرمٹنے کا حکم تھا۔ اس حکم میں تبدیلی کی بہت کم گنجائش تھی۔

اسٹالن نے ماسکو کی طرف پیچھے ہٹنے کے معاملے میں آخری مراحل میں تھوڑی چھوٹ دی۔ ان کا ایسا کرنا مناسب بھی تھا کیونکہ اس کی وجہ سے شہر کو بچانے کے لیے کافی فوجی کو بچایا جاسکا۔

ہٹلر

Getty Images

8۔ کیا حملے کے ابتدائی مراحل میں سوویت حکومت کے خاتمے کا کوئی خطرہ تھا؟

وہاں بغاوت کا کوئی امکان نہیں تھا جس سے سوویت حکومت کا خاتمہ ہو۔

درحقیقت سوویت حکومت کی کوئی خاص تنقید بھی نہیں تھی کیوںکہ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ واقعتا کیا ہو رہا ہے۔ اس وقت لوگوں کا غم و غصہ جرمنی اور جرمن-سوویت معاہدے کے ٹوٹنے پر تھا۔

ایک وقت تھا جب کچھ سوویت رہنما ان سے ملنے آئے تھے، وہ اس وقت ڈپریشن کی حالت میں اپنے کاٹیج میں رہ رہے تھے۔

جب اسٹالن نے سوویت رہنماؤں کو وہاں آتے دیکھا تو انھیں لگا کہ وہ ان کو گرفتار کرنے آرہے ہیں۔ لیکن جلد ہی انھیں احساس ہوا کہ وہ ان کی طرح ہی خوفزدہ ہیں۔ انھوں نے اسٹالن کو یقین دلایا کہ انھیں آگے بڑھنا ہے۔

روس کی برفیلی سردی

Getty Images

9۔ ماسکو کی لڑائی میں روس کا سرد موسم کتنا فیصلہ کن رہا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ سخت سردی بہت اہم تھی۔

اس وقت بہت زیادہ سردی ہوتی تھی اور کبھی کبھی درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک چلا جاتا تھا۔ جرمن فوجی اس کے لیے تیار نہیں تھے اور نہ ہی ان کے ہتھیار اور کپڑے اس ماحول کے لیے موزوں تھے۔

مثال کے طور پر جرمن مشین گنیں اکثر جم جاتی تھیں۔ اسے قابل عمل بنانے کے لیے فوجیوں کو اکثر ان پر پیشاب کرنا پڑتا تھا۔

پینجر ٹینکوں کے ٹریک بہت تنگ تھے اور اس وجہ سے وہ برف میں ٹھیک سے حرکت نہیں کرسکتے تھے جبکہ سوویت یونین کے پاس ٹی-34 ٹینکس تھے اور اس کی وجہ سے ان کو برتری حاصل تھی۔

روس کی سخت سردی نے جرمنی کی حوصلہ مند اور بہادر انفنٹری کی پیش قدمی کو سست کردیا تھا۔ بارش سے پیدا ہونے والے کیچڑ نے جرمن فوج کی پیش قدمی کو پہلے ہی سست کردیا تھا، اب سردی کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوگئے۔

انھیں رات بھر طیاروں کے انجنوں کے نیچے آگ لگا کر رکھنی پڑتی تاکہ اگلی صبح جب وہاں پہنچیں تو وہ کام کر سکیں۔

ہٹلر

Getty Images

10- کیا سوویت یونین پر حملہ کرنا ہٹلر کی سب سے بڑی غلطی تھی؟

بالکل تھی۔ اگر فرانس کے ہاتھوں شکست کے بعد جرمنی نے جوں کی توں حالت قائم رکھی ہوتی اور ان ممالک کے وسائل سے اپنے ملک کی فوج کو مضبوط بنایا ہوتا جس پر پہلے ہٹلر نے کامیابی حاصل کی تھی تو جرمنی کی پوزیشن اور زیادہ مضبوط ہوتی۔

لہذا اگر اسٹالن نے سنہ 1942 اور 1943 میں پہلے حملہ کیا ہوتا تو یہ سوویت یونین کے لیے کافی تباہ کن ہوتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ کا اہم موڑ تھا۔ جرمن فوج کو 80 فیصد نقصانات مشرقی محاذ پر ہوا۔ یہ آپریشن باربروسا ہی تھا جس نے جرمنی کی فوج کی کمر توڑ دی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21129 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp