EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سوریادم: بنگلہ دیش میں کاشت کیے جانے والے دنیا کے ’سب سے مہنگے آم‘، مگر ان میں ایسا خاص کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنگلہ دیش کے جنوبی حصے میں ایک پہاڑی ضلعے ’کھگڑاچاری‘ میں دنیا کا سب سے مہنگا آم کاشت کیا جاتا ہے جو ملک میں تو 800 سے 1000 روپے فی کلو میں فروخت ہوتا ہے مگر بیرونِ ملک پانچ ہزار سے چھ ہزار روپے فی کلو تک میں فروخت ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش میں عام فروخت ہونے والے آموں کی قیمت اُن کی کوالٹی اور قسم کے اعتبار سے 40 سے 100 روپے فی کلو کے درمیان ہوتی ہے۔ (یاد رہے کہ بنگلہ دیشی کرنسی یعنی ایک ٹکا کی قیمت لگ بھگ 1.8 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔)

آم کی یہ ورائٹی بنگلہ دیش کی مقامی ورائٹی ہے بھی نہیں۔ بنگلہ دیش کے زرعی حکام کا کہنا ہے کہ آم کی یہ قسم سب سے پہلے جاپان میں اُگائی گئی تھی جسے اب بنگلہ دیش سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کاشت کیا جا رہا ہے۔

جاپان میں اسے ’میازاکی‘ کہا جاتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں اسے ’سُرخ آم‘ یا پھر ’سورج کا انڈہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مگر بنگال میں اس آم کو ‘سوریادم’ کہا جاتا ہے۔

یہ آم دیگر آموں کے مقابلے میں زیادہ بڑا، لمبا اور میٹھا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ گہرا سرخ یا بینگنی مائل سُرخ ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش کے زراعت کے حکام کے مطابق ہر آم کا وزن ساڑھے تین سو گرام سے ساڑھے چار سو گرام (لگ بھگ آدھا کلو) تک ہوتا ہے، اسی وجہ سے آدھا کلو کا ایک آم چار سو سے پانچ سو روپے تک میں فروخت ہوتا ہے۔

اس آم کے اتنا مہنگا ہونے کی بنیادی وجوہات اِس کا طریقہ کاشت، اس پھل کے دیدہ زیب رنگ، بہت زیادہ مٹھاس اور رسد سے کہیں زیادہ طلب ہونا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

آم کے بارے میں چند رسیلے حقائق

پاکستان، چین، انڈیا اور آم کی سیاست: ایک طویل کہانی

آم سفارتکاری: پاکستان دوسرے ممالک کو آموں کا تحفہ کیوں بھجواتا ہے؟

‘کھگڑاچاری’ ضلع سے تعلق رکھنے والے کسان مسٹر چوہدری اس مہنگے آم کی کاشت کرتے ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات انھوں نے ہمارے ساتھ شیئر کی ہیں۔

چٹاگانگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مسٹر چوہدری نے زراعت کو بطور پیشہ اپنایا ہے۔ کھگڑاچاری ضلع سے لگ بھگ 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں میں مسٹر چوہدری نے سطح سمندر سے بارہ سو فٹ کی بلندی پر موجود 35 ایکٹر زمین پر آم کے باغات لگائے ہیں۔ انھوں نے اپنے باغات کو ’اے اے ایگرو فارم‘ کا نام دیا ہے۔

اس باغ کے ایک حصے میں ‘سوریادم’ نسل کے اس آم کی کاشت بھی کی جا رہی ہے۔

مسٹر چوہدری بتاتے ہیں کہ وہ اس نسل کے آم کے دس سے پندرہ پودے خرید کر لائے تھے جنھیں انھوں نے اپنے آم کے باغ کے ایک کونے میں لگا دیا اور ان پودوں پر سنہ 2019 سے آم لگ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب پودے بڑے ہوئے تو انھی کی مدد سے مزید درخت لگائے گئے اور اب ان کے باغ میں ’سوریادم‘ نسل کے آم کے 120 درخت ہیں جن سے ہر سال تین سو سے چار سو کلو آم حاصل ہوتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ پانی کی قلت اور سخت موسم کے باعث وہ اس آم کی کاشت کو زیادہ بڑھا نہیں سکے ہیں۔

سوریادم آم عام طور پر بنگلہ دیش میں 20 سے 25 مئی کے درمیان پکنے لگتا ہے اور 15 سے 20 جون تک مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہو جاتا ہے۔

مگر رواں برس خشک سالی اور سخت موسم کے باعث یہ آم جلد پک کر وقت سے پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب تھا۔

مسٹر چوہدری بتاتے ہیں کہ اس آم کی کاشت کاری آم کی دیگر قسموں کی طرح نہیں ہے کیونکہ ان آموں کا خصوصی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ معتدل روشنی، پانی اور سایہ فراہم کرنے کے علاوہ پیڑ پر لگے ہر آم کو ایک پیکٹ سے ڈھانپنا ہوتا ہے۔

درخت سے آم حاصل کرنے کے بعد آپ انھیں زیادہ دن تک اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ہیں اور اسے جلد از جلد فروخت کرنا ہوتا ہے کیونکہ موسم کی سختی سے یہ آم جلد خراب ہو جاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اپنے باغ سے حاصل ہونے والے اس مخصوص نسل کے کچھ آم تو وہ تحفے میں دے دیتے ہیں جبکہ کچھ آن لائن فروخت کر دیتے ہیں۔

اگرچہ کسانوں سے یہ آم 300 سے 500 روپے فی کلو میں اٹھایا جاتا ہے مگر مارکیٹ میں یہ اس سے دگنی قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

مسٹر چوہدری 35 ایکڑ پر موجود اپنے باغات میں آم کی تقریباً چھ اقسام کی کاشت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ بعض ایسے روایتی پھلوں کی محدود پیمانے پر کاشت کرتے ہیں جو اب ناپید ہیں یا موسم کی وجہ سے جن کی کاشت بنگلہ دیش میں اب زیادہ نہیں ہوتی جیسا کہ ڈریگن فروٹ، مالٹا وغیرہ۔

تاہم ان کا فارم بنگلہ دیش کا پہلا فارم ہے جو پہاڑی علاقے میں ’سوریادم‘ آم کی کاشت کر رہا ہے۔

مسٹرچوہدری کا منصوبہ ہے کہ اس آم کی فصل کو پورے ملک میں پھیلائیں اور اسے قابل برآمد مصنوع بنایا جائے۔

انھوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ یہ پھل پورے بنگلہ دیش میں اگایا جائے۔ میں دیگر کاشتکاروں کو مفت یا انتہائی معمولی قیمت پر اس کے پودے دے رہا ہوں۔ اگر ہر کوئی اس آم کی کاشت کرے اور ملک میں اس کی پیداوار میں اضافہ ہو تو اس پھل کی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ملک کا۔ مگر یہ سب کچھ کرنا صرف میرے لیے ممکن نہیں ہے۔‘

تاہم وہ آج کل ماہرین سے رابطے میں ہیں تاکہ یہ جانچ پائیں کہ اُن کے باغ میں اُگائے جانے والے آم عالمی معیار کے ہیں اور جاپانی قسم ’میازاکی‘ آم کی ہی طرح زیادہ ذائقہ دار ہیں۔

مزید پڑھیے

یہ سال آم اور عوام، دونوں کے لیے اچھا نہیں۔۔۔

آسٹریلوی سفیر نے آم کھانے کا صحیح طریقہ سیکھ لیا

ملتان میں آم کے درختوں کی کٹائی کی کہانی کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ اگر نتائج بہتر آئے تو ان کی کاشت کے مزید ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

چٹاگانگ کے پہاڑی علاقوں کی مٹی اور آب و ہوا میازاکی آم کی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔ اس آم کو بنگلہ دیش کے مزید کچھ اضلاع میں تجرباتی طور پر کاشت کیا جا رہا ہے۔

زرعی آفیسر رضاالکریم کہتے ہیں کہ اس آم کی تجارتی بنیادوں پر پیداوار سے کاشتکاروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال پہاڑی علاقوں میں آم کے عام روایتی قسم ‘آمپالی’ کی پیداوار اور تجارتی توسیع پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 20015 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp