قانون بمقابلہ انصاف۔ مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میں حیران ہوتا ہوں کہ کہیں ہم آئین، قانون اور عدالتوں کے ساتھ زیادہ امیدیں وابستہ تو نہیں کر بیٹھے۔ میرا یقین کریں یہ جھوٹی امیدیں ہیں، ایسی امیدیں رکھنا غلط ہے۔ آزادی دراصل انسانوں کے دل میں ہوتی ہے اور اگر وہاں اس کی موت واقع ہو جائے تو کوئی آئین، قانون یا عدالت اس آزادی کو زندہ کرنے میں ہماری مدد نہیں کر سکتی۔ اور جب تک دل میں آزادی کی وہ امید قائم ہے تب تک اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی آئین، قانون اور عدالت کی ضرورت نہیں۔“ امریکی جج، لرنڈہینڈ، 1872 تا 1961۔

انسان نے اپنی تین لاکھ سال کی تاریخ میں دو کارنامے ایسے انجام دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ دیگر جانوروں سے خود کو ممتاز کر سکتا ہے۔ ایک، زبان کی ایجاد اور دوسرے، قانون کا ارتقا۔ قانون، انسانوں کی ایک ایسی تخلیق ہے جو معاشرے میں نظم قائم رکھتی ہے اور جس کی وجہ سے انسانوں کو اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ آپ بے شک اپنے گھر بیٹھ کر چائے ہی کیوں نہ پی رہے ہوں کسی نہ کسی قانون کا اطلاق آپ پر ہو جائے گا، قانوناً آپ اس بات کے پابند ہوں گے کہ جس گیس کا استعمال کر کے آپ نے چائے بنائی ہے سرکار کو اس کا بل بر وقت ادا کریں۔ گھر سے باہر نکلتے ہی ہم پر انجانے میں قوانین کا ایک سلسلہ نافذ ہو نا شروع ہو جاتا ہے اور دراصل ان قوانین کی چھاؤں تلے ہی ہم خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں مگر ہمیں اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا۔ حتی کہ دکاندار سے کوئی معمولی شے خریدتے وقت بھی آپ اس دکاندار سے معاہدے کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ آپ کو مقررہ قیمت پر مطلوبہ شے مہیا کرے گا۔ مہذب معاشروں میں قانون کی یہ ان دیکھی چھتری ہی انسانوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں برابری کا احساس دلاتی ہے، انہیں طاقتور کے جبر سے محفوظ رکھتی ہے اور ان کی آزادی کو یقینی بناتی ہے۔

قانون کے اس ان دیکھے تحفظ کی ایک قیمت ہے جو انسانوں نے طویل جد و جہد کی شکل میں چکائی ہے۔ یہ قانون جو آج نکھر کر ہمارے سامنے پہنچا ہے دراصل ایک مسلسل ارتقا کا نتیجہ ہے۔ کسی زمانے میں بادشاہ تمام قوانین کا منبع اور ماخذ ہوا کرتا تھا، پھر رفتہ رفتہ اس سے اختیارات چھین کر عوام نے اپنے ہاتھ میں لے لیے اور ایک ایسا نظام وضع کیا جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے انہیں یہ اختیار مشروط انداز میں استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ آج ہم جن مغربی معاشروں کو رشک کی نگاہ سے دیکھے ہیں اور اٹھے بیٹھے ان کے قانون کے نفاذ کی مثالیں دیتے ہیں، ان معاشروں نے قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اصول اپنا رکھے ہیں، یہ کوئی مسلمہ اصول تو نہیں لیکن عمومی طور پر یہ ایک قسم کا پیکج ہے جس کا ہم مہذب اور آزاد معاشروں میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ مثلاً قانون کا اطلاق تمام انسانوں پر

مساوی ہو گا، کسی کا قسم کا استثنا نہیں ہو گا، کسی فرد کے پاس ان اصولوں کو تبدیل کرنے کا صوابدیدی اختیار نہیں ہو گا، عدالتیں آزاد ہوں او ر عام آدمی کی ان تک رسائی ہو گی، کوئی قانون موثر با ماضی نہیں ہو گا بلکہ نئے قانون کا نفاذ ہمیشہ مستقبل میں کیا جائے گا، قوانین سادہ اور سہل زبان میں ہوں گے جن کی تشریح اور تعبیر کرنا نہ صرف عدالتوں کے لیے آسان ہو بلکہ عام آدمی بھی اگر انہیں سمجھنا چاہے تو اسے دقت نہ ہو، عدالتوں کے پاس قوانین کی تشریح کا اختیار تو ہو گا مگر یہ لا محدود نہیں ہو گا، ایسا اختیار ہمیشہ کسی آئین، ضابطے یا عدالتوں کے اپنے ماضی کے فیصلوں کے مطابق استعمال کیا جائے گا، وغیرہ۔ انگلش کامن لا ء زیادہ تر انہی اصولوں کے تابع کام کرتا ہے، ہماری اعلی عدالتوں کے پاس ’رٹ‘ کے نفاذ کا جو اختیار ہے وہ بھی دراصل اسی اصول کے تحت ہے، جیسے کہ ہمارے آئین میں درج ہے کہ کسی بھی شخص کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا جس کا وہ قانوناً پابند نہیں یا کسی شخص کو حبس بے جا میں نہیں رکھا جائے گا، عدالت habeas corpusکا اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ حکم دے سکتی ہے کہ اس محبوس شخص کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ یوں عدالتی نظام دراصل انسانوں کی آزادی کا محافظ ٹھہرتا ہے جہاں ریاست اپنے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے۔

قانون کا یہ خوبصورت سسٹم بھی اپنے اندر کچھ خامیاں رکھتا ہے اور یہ خامیاں اب تک دور نہیں کی جا سکیں۔ نہ جانے انہیں قانون کی خامیاں کہنا درست بھی ہے یا نہیں کیونکہ یہ خامیاں دراصل انسانوں کی ہیں جن کا قانون کے پاس کوئی آسان اور سادہ حل نہیں۔ کیا ہر قانون کی پاسداری لازمی ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو اس اصول کی رو سے تو جس زمانے میں غلامی کو قانونی تحفظ حاصل تھا اس وقت غلامی کے خلاف جد و جہد کرنا قابل سزا جرم تھا؟ چلیں اس بارے میں تو قانونی مباحث موجود ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کن حالات میں ایسے قوانین کی پاسداری لازم نہیں ہوتی مگر اس بات کا کیا جواز ہے کہ 1933 تک امریکہ میں شراب پر پابندی تھی، اس برس جب یہ پابندی ختم ہوئی تو جو لوگ پابندی کے دور میں امریکہ میں شراب پیتے تھے وہ ان کے مقابلے میں کتنے غلط تھے جنہوں نے پابندی ہٹنے کے بعد پینی شروع کی؟ اسی طرح قانون کے نفاذ میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر قانون اپنی مکمل اور اصل روح کے ساتھ نافذ بھی کر دیا جائے تو اس بات کی ضمانت نہیں کہ انصاف بھی ہو جائے گا، بیشمار ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں قانون کا درست نفاذ ہونے کے باوجود انصاف نہیں ہو پاتا کیونکہ قانون کے مقابلے میں انصاف ایکabstractشے ہے۔ بھارت نے اس موضوع پر ایک لا جواب فلم بنائی ہے جس کا نام ’سیکشن 375‘ ہے، اس فلم میں انصاف اور قانون کی اس بحث پر بہت عمدہ انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور تیسری بات وہی جو امریکی جج لرنڈ ہینڈ نے کہی تھی کہ تمام عدالتوں، قوانین اور آئین کے لکھے ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ معاشرے میں انصاف قائم کر دیا گیا ہے۔ بہت سے ممالک میں مغربی طرز پر کامن لا ء کا نظام رائج ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں، ملک میں آئین نافذ ہوتا ہے مگر اس کے باوجود اس معاشرے کے بچے بچے کو

علم ہوتا ہے کہ اس کے ملک میں انصاف نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب دلوں سے انصاف کی امید اٹھ جائے اور معاشرے مردہ ہو جائیں۔ آج وقت نکال کر دیکھیں ایسے کتنے معاشرے ہیں جن کے بارے میں یہ رائے بلا کھٹکے قائم کی جا سکتی ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 239 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments