ہم اپنے بچوں کو جنسی استحصال سے کیسے بچائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن 1833 میں برطانیہ میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے جو قانون آیا تھا اس کی اہم شقیں کچھ یوں تھیں۔ نو سال سے کم عمر بچے کو فیکٹری میں مزدوری پر نہیں لگایا جائے گا، نو سے تیرہ سال کی عمر کے بچے کو دن میں نو گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، تیرہ سے اٹھارہ برس کے بچوں کو دن میں بارہ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور بچوں کو رات کے وقت کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ بچہ مزدوری کے حوالے سے دنیا کا شاید پہلا قانون تھا۔

اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پورے برطانیہ میں کل چار فیکٹری انسپکٹر تعینات کیے گئے۔ ان انسپیکٹرز کی رپورٹس دل دہلا دینے والے حقائق بیان کرتی ہیں۔ اس قانون کی شقوں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان دنوں برطانیہ جیسے ملک میں بچوں، خاص طور پر مزدوری کرنے والے بچوں، کے حالات کیا تھے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ غریب خاندانوں کے بچوں کے حالات کیا تھے۔

انسانی بچوں نے بڑی تکلیفیں جھیلی ہیں۔ بہت ساری تکالیف کی جڑیں چائلڈ لیبر یعنی بچہ مزدوری کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ یہ بچہ مزدوری بچوں کو ہر قسم کے استحصال کے لیے آسان شکار بنا دیتی ہے۔ یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ بچہ مزدوری کے لیے جب گھر سے نکالا جاتا ہے تو پھر اسے ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کا سامنا ہوتا ہے۔ اس میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔

یتیم خانے اور غریب بچوں کے بورڈنگ سکولز جیسے ہمارے ہاں مدرسے ہیں ان میں بچوں کے جنسی استحصال کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے ادارے چلانے اور بچوں کو جنسی یا دوسرے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ساری تدابیر کے ہوتے ہوئے بھی بچے مکمل محفوظ نہیں ہو سکتے۔ تشدد خاص طور پر جنسی تشدد کے امکانات بہرحال رہتے ہیں۔

دنیا میں، خاص طور پر امیر ممالک میں بچوں کو جنسی زیادتی سے محفوظ رکھنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اب یہ علم کافی حد تک موجود ہے کہ کون سے اقدامات کارآمد ہیں ہے اور کون سے بیکار ہیں۔ ہمیں نئے سرے سے پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے آزمودہ کار مفید اقدامات کو اپنے حالات کے مطابق اپنا لینا چاہیے۔ اس طرح ہم اپنے بچوں کو جسمانی، نفسیاتی اور جنسی تشدد سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

آج کل مدرسے میں پڑھنے اور رہنے والے بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کی خبریں بہت آ رہی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کے علم میں تھا کہ مدرسوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہو رہی ہے البتہ کچھ لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اب کیمرے نے لوگوں پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے۔ یورپ امریکہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لاکھوں بچے چرچ کے ہاتھوں صدیوں تک جنسی تشدد کا شکار ہوتے رہے اور چرچ نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اس بات پر پردہ ڈالا جاتا رہا کہ کہیں چرچ بدنام نہ ہو جائے۔ بالآخر سچ نے سامنے آنا ہی ہوتا ہے سو آ گیا۔ اب چرچ اس بات پر معافی کا طلب گار ہے اور اس بات کا برملا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس ظلم پر پردہ ڈالنا غلط تھا۔ اگر وہ پردہ نہ ڈالتے اور پہلی دفعہ ہی اقرار کر لیتے تو بہت سارے بچے اس اذیت سے بچ جاتے۔

پاکستانی مدرسوں اور مذہبی طبقے کو چاہیے کہ چرچ کی غلطی سے سیکھیں۔ اس بات کا اقرار کریں کہ یہ مسئلہ موجود ہے اور صرف نصیحت یا نیکی کی تبلیغ سے حل نہیں ہو گا تو بہت سارے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

اپنے بچوں کی حفاظت والدین اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ریاست کی ذمہ داری دوہری ہے۔ ریاست نے ہی والدین کو بھی اس قابل بنانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت ٹھیک طریقے سے کر سکیں۔ ہماری ریاست اب تک اس میں فیل ہوئی ہے۔ بچوں کی حفاظت اور تعلیم و ترقی ہماری ریاست کی ترجیح ہی نہیں رہی ہے۔ ہمارے بجٹ سے صاف ظاہر ہے۔

مثال کے طور پر ہمارے بچوں کا، اور شاید بڑوں کا بھی، سب سے بڑا مسئلہ کثرت اولاد ہے۔ کم آمدنی والے چھوٹے چھوٹے گھر بچوں سے بھرے پڑے ہیں۔ والدین خاص طور پر مائیں انتہائی مصیبت کا شکار ہیں کیونکہ بڑے فیملی سائز کا زیادہ بوجھ انہیں ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مدرسے، آٹو ورک شاپس، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، بے حس امیروں کے گھر جو بچوں کو ڈومیسٹک کاموں کے لیے رکھتے ہیں اور دوسری ایسی جگہیں جہاں بچوں کو کام کرنا پڑتا ہے ان سب جگہوں پر ہمارے بچوں کے ساتھ بے پناہ جنسی تشدد ہو رہا ہے۔

اور بچے بے بس ہیں۔ اس سارے مسئلے کی ایک اہم اور بنیادی وجہ بڑا فیملی سائز ہے۔ اگر آپ کے صرف ایک یا دو بچے ہوں اور آپ ان کے لیے گھر میں مناسب سہولیات مہیا کر سکتے ہوں تو کون اپنے بچوں کو اپنے سے جدا کر کے ان ورک شاپوں، مدرسوں یا دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے بھیجے گا۔ لیکن ریاست نے والدین کو فیملی پلاننگ پر قائل کرنے کی کوشش کی نہ ہی اس کی مناسب سہولت مہیا کی۔ اس لیے والدین بے بس ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت اتنے بچے ہیں کہ نہ ریاست ان کا مناسب خیال رکھ سکتی اور نہ ہی والدین اس قابل ہیں۔ اس لیے کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور مدرسوں میں زکواۃ اور صدقات پر پل رہے ہیں۔

ہمیں ریاست پر زور دینا چاہیے کہ وہ والدین کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنے فیملی سائز کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور اس قابل ہوں کہ اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ ریاست کو چاہیے کہ بچوں کے لیے بورڈنگ سکولوں اور مدرسوں کے لیے قوانین بنائے اور ان پر سختی سے عمل کروائے۔ چائلڈ لیبر کے حوالے سے قوانین کو مزید بہتر بنائے اور ان پر بھی سختی سے عمل کروائے۔ جو لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ان کی مدد کرے کہ وہ اپنا بوجھ اتنا نہ بڑھائیں کہ جو وہ اٹھا نہ سکیں۔ ریاست کی بے حسی کی قیمت ہمارے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کی شکل میں ادا ہو رہی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 289 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments