مفلوک الحال عوام کو جلد سجدۂ شکر ادا کرنے کا موقع دیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم پاکستان نے دو روز قبل بیان دیا کہ ہم ایسا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے کہ آنے والی نسلیں اسے دیکھ کر شکر ادا کریں گی۔ ان کا یہ بیان ان کی اس خواہش کا غماز لگتا ہے کہ مقتدر ادارے انہیں کم از کم تیس سال تک ایک پیج والی حکومت کا انتظام سونپیں کیونکہ ایک نسل کو پروان چڑھنے میں کم و بیش اتنا ہی عرصہ لگتا ہے۔ دوسری طرف یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ تیس سال تو کجا ملک کے مفلوک الحال اور آشفتہ حال عوام ایک پیج والی حکومت کے پہلے تین سال ہی میں اس قدر شکستہ حال اور نڈھال ہو چکے ہیں کہ جھولیاں پھیلا پھیلا کر تبدیلی سرکار کی رخصتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

ہمارے جیسے ملکوں کا المیہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت جانے والی سے زیادہ نا اہل، سفاک، نکمی اور ظالم ہوتی ہے۔ 2008 سے 2013 تک مسلط رہنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے امن و امان کے شعبے سے لے کر معیشت تک ہر چیز کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ دہشت گردی کی پچھل پائی غریب عوام کا خون نچوڑ رہی تھی۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی مت مار دی تھی۔ گیس کے بحران کی وجہ سے صنعت کا پہیا جام تھا۔ بیڈ گورنس، نا اہلی، اقربا پروری اور جور و جبر کے بھوت ہر سو ناچ رہے تھے۔

ایسے میں 2013 میں نون لیگ بر سر اقتدار آئی تو نواز شریف کی قیادت میں ملک کا ہر شعبہ ترقی کی پٹڑی پر چڑھنے لگا۔ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نون لیگ کی ٹیم زیادہ فعال، متحرک، پیشہ ورانہ امور میں ماہر اور سبک رفتار تھی۔ نواز شریف نے پچھلی حکومت پر تبرہ بازی کے لیے پچاس ترجمانوں پر مشتمل کوئی ٹیم بنائی نہ سیاسی قلا بازی کھائی۔ وہ دیانتداری اور ثابت قدمی کے ساتھ ملک کی ترقی و خوشحالی کے کام جت گئے اور جی ڈی پی کو 5.8، سٹاک مارکیٹ کو دو ہزار پوائنٹس سے تریپن ہزار پوائنٹس تک، پانچ سو کلو میٹر کی موٹر ویز کو پچیس سو کلو میٹر تک پھیلا دیا۔

2013 سے 2018 تک کل 42 ارب ڈالرز کے قرض لیے اور محیر العقول ترقی کے ساتھ 70 ارب ڈالرز کے قرض واپس بھی کیے۔ اٹھارہ گھنٹے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کو ختم کر کے سرپلس بجلی دی۔ گیس کی بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کی اور اضافی گیس دی۔ ٹیکس کلیکشن 2800 ارب سے 4500 ارب تک پہنچایا۔ دفاعی بجٹ 850 ارب سے 1100 ارب تک پہنچایا اور ڈالر 108 سے 98 تک لایا۔ پبلک ہیلتھ یونٹس اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کو فعال کیا۔ طلبہ کے لیے سپیشل فنڈز، وظیفے اور لیپ ٹاپ کے مستحسن پروگرام شروع کیے۔

بیروز گار نو جوانوں کے لیے گرین کیپ سکیم شروع کی اور اشیائے خور و نوش کے علاوہ کھادوں، بجلی، خوراک اور حج و عمرے پر مثالی سبسڈی دی۔ ساٹھ ارب ڈالرز کا سی پیک کا میگا منصوبہ لایا، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں لایا، سبز پاسپورٹ کی تو قیر میں اضافہ کیا، چین، سعودی عرب، امریکہ سمیت بڑی طاقتوں سے تعلقات بہتر بنائے، کلبھوشن کو پکڑا اور مسئلۂ کشمیر کو زندہ کیا۔

ملک بڑی تیزی سے خوشحالی اور کامیابی کی منازل طے کر رہا تھا کہ مقتدرہ کو معاشی صورت حال پر ”تشویش“ ہوئی۔ سپانسرڈ دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ چین کے صدر کے دورے کو التوا میں ڈالا گیا۔ ترقی کے پہیے کو جام کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاناما کے شور شرابے میں اقامہ دریافت کیا گیا اور عدالتی تاریخ میں کئی نئی نظیریں قائم کر کے آخر کار تعمیر و ترقی کے ہیرو اور استحکام پاکستان کے استعارے کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں معزول کر کے پس دیوار زنداں ڈال دیا گیا۔

2018 کے الیکشن میں الیکٹیبلز کو نیب اور ایجنسیوں کی ”لاٹھی“ سے ہانک کر تبدیلی کی دعویدار پارٹی میں شامل کروایا گیا۔ نون لیگ کے جیتنے والے امیدواروں کو ایک ایک کر کے نا اہل کیا گیا۔ آر ٹی ایس بٹھایا اور جعلی تبدیلی کو اٹھایا گیا۔ نوے دن میں کرپشن کے خاتمے، ایک ارب درخت، ایک کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں، مافیاز کی سر کوبی، مہنگائی کا قلع قمع کرنے جیسے سبز باغ دکھائے گئے مگر تین سال کے اندر اندر ملک کا ہر شعبہ پاتال میں اتر گیا۔

بجلی، گیس، پٹرول، اشیائے خور و نوش، ادویات، حج، عمرہ، تعمیراتی سامان اور لباس سمیت ہر چیز کئی سو گنا مہنگی ہو گئی۔ بیروزگاری، گرانی، ذخیرہ اندوزی، اقربا پروری، افراط زر، سٹاک ایکسچینج میں مندی، جی ڈی پی کا تنزل، زراعت، صنعت، بیرونی سرمایہ کاری کی سیاہ کاری غرض ہر چیز روبہ زوال ہو گئی۔ ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار جون جولائی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب مسلط کر دیا گیا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور یہ بتاتے ہوئے رو پڑا کہ وہ بغیر ناشتہ کیے گھر سے نکل آیا مگر ایل این جی بند اور پٹرول مہنگا ہے، ان حالات میں وہ کس کے نصیبوں کو روئے؟

ہمارے وزیراعظم پہلے بھی اطلاع دے چکے ہیں کہ سکون صرف قبر میں ہے۔ وہ اپنے کیے گئے صرف ایک وعدے پر پوری دیانتداری سے عمل پیرا ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ غریب طبقے کو اوپر اٹھائیں گے۔ واقعی وہ پوری تند ہی سے غریب کو ”اوپر“ اٹھا رہے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی پوری ٹیم وہ اناڑی الیکٹریشن ہیں جو زیرو کا بلب ٹھیک کر نے آئے تھے مگر اپنی نا اہلی کی وجہ سے سارے گھر کی وائرنگ جلا بیٹھے ہیں۔ دریں حا لات وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ فوراً مستعفی ہو کر بائیس کروڑ پاکستانیوں پر احسان عظیم کریں تاکہ وہ شکرانے کے نوافل ادا کر سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments