میں ایک کشمیری ہاتو تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہاؤس جاب کا آخری مہینہ، دسمبر 1976ء، تھا کہ فوج کی طرف سے جنوری کے پہلے ہفتے میں سی ایم ایچ، راولپنڈی، میں حاضر ہونے کا، شاہی حکم موصول ہوا۔ یوں میں، کشمیری ہاتو کی طرح، فوج میں دھر لیا گیا۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کے زمانہ میں، میں خوش فہمی میں امتحانوں میں عمدہ کارکردگی کو عملی زندگی میں کامیابی کی کلید سمجھتا رہا، لیکن جب دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھا تو اسے اپنی توقعات کے بر عکس پایا۔ یہاں ڈگری پر سرسری نگاہ ڈال کر، آپ کی شخصیت پر اس کا انعکاس یعنی چھاپ کو دیکھا جاتا تھا۔

میں جیسے ناتراشیدہ میڈیکل کالج میں گیا تھا اسی طرح ان گھڑ واپس آ گیا تھا۔ فوج میں ویسے تو بہت سے بوالعجبوں سے پالا پڑا لیکن حماقتوں کے شاہکار ہماری یونٹ کے ٹو آئی سی ( سیکنڈ ان کمان) تھے۔ ڈاکٹر اور میجر تھے، لیکن عام فہم و فراست کا ان کے قریب سے بھی نہیں گزر نہیں ہوا تھا۔ ہماری یونٹ کا بسیرا، ان دنوں جلال پور جٹاں سے آٹھ دس میل آگے درختوں کے ایک جھنڈ میں تھا۔ اسے ہم ایم ڈی ایس (Main Dressing Station) کہتے تھے۔

10 مارچ 1978ء کی شام مجھے بلا کر حکم دیا کہ کل تم فلاں یونٹ میں حفظان صحت و صفائی کے معائنہ کے لئے جاؤ گے۔ جو جگہ انہوں نے بتائی وہ وہاں سے کوئی پندرہ میل کے فاصلے پر بالکل سرحد پر واقع تھی۔ میں اس علاقے سے بالکل نا واقف تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ مجھے نقشہ دے دیں تا کہ مجھے یہ اندازہ تو ہو کہ کہاں جانا ہے۔

تمہارے ساتھ ایمبولنس ڈرائیور کے علاوہ تین سپاہی بھی ہوں گے، جو اس علاقے سے خوب واقف ہیں۔ تمہیں نقشے کی کیا ضرورت ہے؟ بس تم صبح آٹھ بجے سے پہلے روانہ ہو جانا۔ کوثر و تسنیم میں دھلی زبان میں، انہوں نے حکم جاری فرما دیا۔

سر، علاقے کا کچھ پتہ تو ہونا چاہیے کہ راستہ کیسا ہے۔ میں نے کہا۔
کہہ جو دیا ہے کہ ڈرائیور راستہ جانتا ہے، گاڑی تم نے تو نہیں چلانی۔

رات سے ہی بارش ہو رہی تھی۔ آٹھ بجے بادلوں اور بارش کی وجہ سے ابھی اندھیرا تھا کہ ہم نکل کھڑے ہوئے۔ ٹانڈہ سے تین چار میل آگے جا کر ڈرائیور نے گاڑی دائیں طرف موڑ لی۔ یہاں سے آگے کوئی سڑک، کوئی گزرگاہ، یہاں تک کہ پیدل راستہ بھی نہیں تھا۔ ہر سو ایک ہی جیسے سرکنڈوں کے پودے اور خود رو جھاڑیاں، ٹویے اور ٹبے تھے۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ڈرائیور بھی محض اندازے سے گاڑی چلا رہا تھا۔ گاڑی کی رفتار پانچ میل فی گھنٹہ سے زیادہ نہیں تھی۔ دو گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ دریا کا پاٹ کم از کم آدھا میل تھا۔ اس میں اٹھنے والی لہریں ہمارے ایمبولنس کی اونچائی سے بھی زیادہ اونچی تھیں۔ ڈرائیور نے کہا: اس کے پار جانا ہے۔

ارے بھئی یہ کون سا دریا ہے؟ اس کے پار کیسے جا سکتے ہیں؟ میں نے پوچھا۔

یہ دریا نہیں، مناور توی ’نالہ‘ ہے، برساتی نالہ۔ یہ پانی ایک گھنٹے میں اتر جائے گا، ڈرائیور نے کہا۔

یہ پانی ایک گھنٹے میں اترنے والا دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے کہا۔

بارش برستی رہی، ہم اس دریا کے کنارے ایمبولنس میں بیٹھے رہے۔ آدھا گھنٹا وہاں بیٹھنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ پانی کی سطح نیچے جانے کی بجائے بلند ہو رہی ہے۔ میں نے پاس پڑی ایک خشک ٹہنی کی چھڑی سی بنائی، اس پر نشان لگائے اور اسے دریا کے کنارے گاڑ دیا۔ گھنٹے بھر بعد دیکھا تو دریا کی سطح چار پانچ انچ اور بلند ہو چکی تھی۔ ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔

دریا کے بہاؤ کی الٹی سمت میں بارش بدستور ہو رہی ہے، یہ پانی کل تک اترنے والا نہیں، یہاں بیٹھ کر وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ چلو واپس چلتے ہیں۔ میں نے کہا اور واپس چل دیے۔ تھوڑی دور تک گاڑی کے ٹائروں کے نقش پا پر واپس چلے اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ سورج تھا نہیں، نقشہ پاس نہیں تھا، ہر سو جھاڑیوں، سر کنڈوں، ٹویوں ٹبوں کی وجہ سے زمین کے خد و خال ایک جیسے تھے۔ گاڑی گھنٹہ بھر چلتی رہی لیکن کچھ بھی

جانا پہچانا نظر نہیں آیا۔ دور و نزدیک کوئی بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔ چوں کہ ہم سرحد سے زیادہ دور نہیں تھے، اس لئے مجھے تشویش ہوئی کہ ہم بھولے بھٹکے کہیں اور نہ جا پہنچیں۔ دور ایک شخص نظر آیا، وضع قطع سے فوجی لگ رہا تھا۔ میں گاڑی کسی اوٹ میں رکوا کر اس کا جائزہ لینے کا سوچ ہی رہا تھا، کہ وہ ذرا اوپر آیا تو اس کی خاکی وردی نظر آ گئی۔ اس کے پاس پہنچے۔ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ہم چھمب میں پہنچ چکے ہیں۔

گویا ہم مغرب کی طرف جانے کی بجائے پندرہ میل شمال میں، چھمب میں جا نکلے تھے۔ وہاں ہمارا ایک اے ڈی ایس (Advance Dressing Station) تھا جہاں ہماری یونٹ کے کیپٹن سلطان، انچارج تھے۔ انہوں نے چائے پلا کر واپسی کے لئے ہمیں صحیح راستے پر ڈال دیا۔ دو بجے کے بعد خجل و خوار ہوتے ہم اپنے ٹھکانے پہ پہنچے۔ شام کو پھر اسی کوثر و تسنیم میں دھلی زبان کا سامنا ہوا۔ فرمایا: کر آئے سینیٹری انسپیکشن اس یونٹ کی؟

نہیں صاحب ہم تو وہاں پہنچ ہی نہیں پائے، میں نے کہا۔
کیوں؟
راستے میں ایک دریا آ گیا تھا۔
کون سا دریا؟
مناور توی۔
یہ کون سا دریا ہے؟ تو تم اس کے پار نہیں گئے؟
جی نہیں گیا۔
کیوں نہیں گئے؟
ایمبولنس اس دریا میں سے گزر نہیں سکتی تھی۔
تو تمہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ راستے میں ایک دریا بھی ہے۔
مجھے پتہ نہیں تھا۔
کیوں پتہ نہیں تھا۔ آپ نے مجھے نقشہ ہی نہیں دیا تھا۔
نقشے کو تم نے کیا کرنا تھا، ڈرائیور کو راستے کا پتہ تھا۔
لیکن مجھے پتہ نہیں تھا۔ ویسے وہاں کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔
تو کیا تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں تھا رات بھر بارش ہوتی رہی ہے۔
جی پتہ تھا۔
تو کیا تمہیں اتنا بھی علم نہیں کہ بارش برسنے سے ندی، نالوں اور دریاؤں میں طغیانی آجاتی ہے؟
وہ تو علم تھا لیکن راستے میں کسی ندی ’نالے یا دریا کا پتہ نہیں تھا۔
تم برستی بارش میں ادھر گئے ہی کیوں؟
آپ نے کہا تھا کہ صبح آٹھ بجے سے پہلے نکل جانا۔
میں نے یہ تو نہیں کہا تھا، اگر بارش برس رہی ہو تب بھی چلے جانا۔

بارش تو کل بھی برس رہی تھی جب آپ نے مجھے جانے کا کہا تھا۔ آپ نے مجھے نقشہ ہی نہیں دیا تھا، مجھے کیسے پتہ ہوتا کہ راستے میں کوئی دریا بھی ہے۔

تم کس طرح کے آرمی افسر ہو کہ تمہیں راستے کا ہی پتہ نہیں تھا؟ تم دیر سے واپس کیوں آئے؟
ہم راستہ بھول گئے تھے۔
وہ کیوں؟
بارش برس رہی تھی، سورج تھا نہیں، راستے کا پتہ نہیں تھا۔ آپ نے نقشہ ہی نہیں دیا تھا۔
نقشے کو تم نے کیا کرنا تھا، ڈرائیور کو راستے کا پتہ تھا۔
ڈرائیور ہی گاڑی چلا رہا تھا۔
گاڑی تو ڈرائیور چلا رہا تھا لیکن ذمہ دار افسر تو تم تھے۔
جب مجھے راستے کا علم نہیں تھا اور نقشہ میرا پاس نہیں تھا تو میں ڈرائیور کو کیا بتاتا؟
نقشے کو تم نے کیا کرنا تھا، ڈرائیور کو راستے۔

ہم بہت دیر تک انہی گھمن گھیریوں میں چکر کاٹتے رہے۔ آخر انہوں نے کہا کہ کل فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ میں بری طرح زچ ہو چکا تھا۔ ٹھیک ہے فوج کو ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔ لیکن ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہمیں اس طرح کے لال بجھکڑوں کے حوالے کرنا، علم طب کی توہین تھی۔ دوسرے دن انہوں نے مجھے اپنے آفس میں طلب کیا اور فیصلہ سنا دیا:

تم اپنا سامان اٹھاؤ اور اسی جگہ پر چلے جاؤ، جہان تم کل راستہ بھول کر پہنچ گئے تھے۔ وہاں کیپٹن سلطان سے چارج لے کر اسے یہاں بھیج دینا۔ میں نے سوچا، میں یہاں کون سے ہیرے جواہرات کے محل میں حور و غلمان کے ساتھ رہ رہا ہوں، جو دور ایک بیابان میں جانے سے میرے آرام و آسائش میں کمی واقع ہو جائے گی۔ میرے سامان کی کل متاع ایک بقچی سی تھی، جسے میں عزت نفس کی خاطر اٹیچی کیس کہتا تھا۔ کل سامان ٹوتھ پیسٹ و برش، شیونگ باکس اور ایک سلیپنگ سوٹ تھا۔

یونی فارم، بیٹ مین کی تحویل میں ہوتی تھی۔ اور ہاں کچھ طبی کتابیں بھی ہم رکاب تھیں۔ پندرہ منٹ میں اپنی بقچی کو سمیٹا اور کوچ کرنے کو تیار ہو گیا۔ لیکن بیس میل کے سفر کے لئے گاڑی کہیں ایک بجے جا کر ملی۔ گاڑی کیا تھی، خاصی عمر رسیدہ، لاغر، دمہ اور کالی کھانسی کی مزمن مریضہ، ایک پھٹیچر سی جیپ تھی۔ یہ جیپ چند قدم چلنے کے بعد ہانپ اٹھتی تھی اور کالے دھوئیں کے بادل ہر سو چھا جاتے تھے۔ اس گاڑی کو پہلے دس میل کے سفر میں دو مرتبہ سانس پھولنے کا دورہ پڑا۔

ڈرائیور کی منت سماجت سے بہل کریا اس کی ڈانٹ ڈپٹ اور گالیوں سے دہل کریہ چل تو پڑتی لیکن تھوڑی دیر بعد اسے پھرسے حبس دم کا دورہ پڑ جاتا۔ منزل سے پانچ میل ادھر اسے ایسا جان لیوا دورہ پڑا کہ اس کا سانس ہی نہیں رکا، دل کی دھڑکن بھی بند ہو گئی۔ آخری طبی امداد بھی کام نہ آئی۔ منت سماجت، ڈانٹ ڈپٹ اور گالیاں سب بے کار گئیں، یہاں تک کہ ڈرائیور نے میری نظر بچا کر اسے دو تین دولتیاں بھی جھاڑ دیں لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ میں نے اپنی بقچی اٹھائی اور سڑک کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ سڑک وڑک تو وہاں کوئی نہیں تھی بس فوج کی گاڑیوں کے ٹائروں کے نشان تھے جو گزر گاہ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ آرٹلری کے ایک ٹرک نے مجھے از راہ ہمدردی بٹھا لیا اور اپنی منزل کھوٹی کر کے تین بجے میری نئی منزل تک پہنچا دیا۔

کیپٹن سلطان مجھے دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ وہ خاصا آزردہ ہوا۔ سچ پوچھیں تو مجھے اس کے چہرے پر آزردگی سے زیادہ غصے کے آثار نظر آئے۔ یونٹ نے اسے میرے وہاں آنے اور اس کے واپس بلائے جانے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ یہ فریضہ مجھ سے انجام دلوایا گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہاں مقامی انفنٹری یونٹ کے افسر بھی مجھے غیظ آلود نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ میں ایک طرف ہو کر بیٹھ رہا۔ آدھ گھنٹے بعد مقامی یونٹ کے دو افسر میرے پاس آئے اور مجھے ایک آفس میں لے گئے۔ کہنے لگے تم کس طرح کے افسر ہو کہ اپنے ہی ایک کولیگ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے۔

ارے بھئی میں نے ایسا کیا کر دیا ہے؟

کیپٹن سلطان کہہ رہا ہے کہ کل کیپٹن جمیل یہاں آیا تھا۔ میں نے تو اس کی آؤ بھگت کی تھی۔ اسے یہ جگہ پسند آ گئی اور اس نے کمانڈنگ افسر سے کہہ کر اپنی تبدیلی ہی یہاں کروا لی ہے۔

بھائیو! میں مصیبت کا مارا، کل راستہ بھول جانے پر، سزا کے طور پر یہاں بھیجا گیا ہوں۔ مجھے یہاں آنے کی کوئی خوشی نہیں ہے۔

اچھا! تم یہیں بیٹھے رہو، ہمیں دو گھنٹے دے دو، ہم برگیڈ کمانڈر سے بات کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ سلطان یہاں رہے گا اور تم واپس جاؤ گے۔

یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ آپ اپنی سی کوشش کر دیکھیں۔

دو گھنٹے گزرے تو باہر کھاؤں کھاؤں، کھرر کھرر کی آواز آئی۔ میں نے باہر نکل کے دیکھا تو ہماری وہی جیپ جو راستے میں انتقال کر گئی تھی پھر سے جی اٹھی تھی۔ اب تو وہ اچھی طرح سے سانس لے رہی تھی بلکہ اس کے سانسوں میں ایک تسلسل تھا۔ پانچ بجے کے قریب بہت سے افسر آئے اور بتایا کہ برگیڈ کمانڈر سے بات نہیں ہو سکی اور آپ کے یونٹ کے کمانڈر بڑے ہٹ دھرم ہیں، ہماری بات نہیں مانتے۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ اس معاملے میں ستم رسیدہ سلطان نہیں، تم ہو۔

چلو اپنا سامان نکالو اور فلاں ہٹ میں اپنا ٹھکانہ بنا لو۔ میں نے وہ ہٹ دیکھا تو حیرت زدہ ہوا بلکہ جی خوش ہو گیا۔ اپنی یونٹ میں تو اسی پونڈ کا خیمہ اور اور لوہے کی ہسپتالی چارپائی اپنی آرام گاہ تھی۔ اور یہاں پتھروں کی دیواروں پر گھاس پھونس کا چھت تھا اور اندر بان کی چارپائی۔ اپنے تو ٹھاٹ ہو گئے تھے۔ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہی چارپائی، جس میں برسات کے موسم میں کان نکل آتی ہے اور اسے نکالنے کے لئے اس کی ساری چولیں ڈھیلی کرنی پڑتی ہیں۔ میں نے خود کئی بار ایسی چارپائی پر کدکڑے لگا کر اس کی کان نکالی تھی۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ ہمارے سیکنڈ ان کمان کی چارپائی جو بظاہر سوت کی تھی اور جس کی چولیں پہلے سے ہی ڈھیلی تھیں، کو آفس میں پڑے پڑے، ہر دوسرے تیسرے روز، کان کیسے نکل آتی ہے۔

دو تین دن میں ماحول سے آشنائی ہوئی تو پتہ چلا یہاں ’انسان کو میسر نہیں انسان ہونا‘ ۔ ہر سو اس مخلوق کا راج تھا، جن کا نام لینے سے زبان چالیس دن تک ناپاک رہتی ہے۔ یہ سینکڑوں نہیں، ہزاروں کی تعداد میں یہاں آباد تھی۔ جب بھی کسی سرکنڈے (سروٹ ) کے پیچھے سے اٹھ کر، بغیر سلیوٹ کیے، کوئی بھاگ کھڑا ہوتا، تو ہم سمجھ جاتے کہ وہ انڈین فوجی ہے یا اس مخلوق کا نمائندہ، جنہیں ہم نجس سمجھتے ہیں۔ ہمارے لئے دونوں ایک برابر تھے۔

یہ بات مشاہدے میں آئی کہ سرحد کی دوسری طرف سے بھی یہ مخلوق، سکھوں کی گولیوں سے ڈر کر ہماری جانب آ گئی ہے۔ جب کہ نیل گاہیں ہماری چھریوں سے خوفزدہ ہو کر ہندؤوں کی پناہ میں چلی گئی تھیں۔ مخلوق خدا بھی کتنی سیانی ہوتی ہے انہیں پتہ ہوتا ہے کہ انہیں جان کی امان کہاں مل سکتی ہے۔ غالباً من حیث القوم ہم بڑے گداز دل واقع ہوئے ہیں، جبھی تو وہ مکروہات زمانہ جنہیں حرام سمجھتے ہوئے دنیا میں کوئی منہ نہیں لگاتا، ہم انہیں لاوارث جان کر، ازراہ ہمدردی سینے سے لگا لیتے ہیں۔

دو نئے افسر اس انفنٹری یونٹ میں آئے جو ابھی ابھی پاس آؤٹ ہوئے تھے۔ ان میں ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ سید حسن شاہ تھے۔ حسن، نہایت سیدھا سادہ اور بھولا بھالا سا لگتا تھا۔ رنگ گہرا سانولا تھا۔ جب کبھی فارغ ہوتا تو میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا۔ میں اپنی کتابوں میں مگن ہوتا اور وہ بیٹھا مجھے دیکھتا رہتا۔ ایک دن کہنے لگا:

ڈاکٹرصاحب! آپ کو اپنے آپ پر رشک نہیں آتا؟
وہ کس بات پر، میں نے پوچھا۔

ا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اچھے نقش و نگار دیے ہیں اور کیا خوب صورت رنگ روپ دیا ہے اور پھر آپ کو ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی عطا کردی ہے؟

حسن یہی کچھ تو تمہارے پاس بھی ہے، اب تم پاک فوج میں افسر ہو، میں نے کہا۔
حسن نے اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ کے ساتھ رکھ کر کہا، میرے اس رنگ کو آپ خوب صورت کہتے ہیں؟

میں نے محسوس کیا کہ اپنے رنگ کی وجہ سے، جو وہاں دھوپ میں رہنے سے اور گہرا ہو گیا تھا، حسن احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ میں نے کہا:

حسن! انسان کو اپنی شکل و صورت، رنگ روپ اور نسل پر اختیار نہیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن اپنی شخصیت کو بدلنے کا اختیار اللہ نے ہمیں دے رکھا ہے۔ یہ نقش و نگار، رنگ روپ اور ظاہری چمک دمک تو پہلی ایک دو ملاقاتوں میں نظر آتی ہے لیکن جب انسان کی شخصیت کا اصل حسن ظاہر ہو جاتا ہے، تو یہ سب چیزیں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ تب کسی کو آپ کے ناک نقشے اور ظاہری حسن سے کوئی غرض نہیں رہتی۔ ویسے حسن! شاید تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کی تم پر کتنی عنایات ہیں۔ اس نے تمہیں آل رسول میں پیدا کیا، یہ کتنی سعادت کا مقام ہے۔ اس نے تمہیں حسن اخلاق اور حسن سیرت سے نوازا اور اس پر تمہارے ماں باپ نے تمہارا نام بھی حسن رکھ دیا، تمہیں اور کیا چاہیے۔ حسن کا چہرہ کھل اٹھا۔ میں اس کی نظر میں اب شہزادہ گلفام بن گیا۔

ایک بار میں نے دیکھا کہ سہ پہر کے وقت اس انفنٹری یونٹ کے افسر، جن کے ساتھ میں رہ رہا تھا، سر جوڑ کے بیٹھے ہیں۔ جب دوسرے دن بھی یہی کیفیت دیکھی تو میں ان کے ساتھ جا بیٹھا۔ جو معاملہ مجھے سمجھ آیا وہ یہ تھا کہ جہاں ہم تھے، اس کے بالکل سامنے سرحد کی دوسری طرف، انڈین آرمی نے ایک پوسٹ بنانی شروع کر دی تھی، جو وہ پاکستانی فوج کو بتائے بغیر نہیں بنا سکتے تھے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ انہیں روکا کیسے جائے۔ زیادہ تر کی رائے یہ تھی کہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو اطلاع کی جائے اور وہی اس کے بارے میں کارروائی کریں۔

میرا اس طرح کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن میں خاموش نہ رہ سکا۔ میں نے کہا، جناب آپ کل سے مشاورتی کونسل سجائے بیٹھے ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔ میجر آفریدی! (میجر آفریدی یونٹ کے سیکنڈ ان کمان تھے ) آپ کوارٹر ماسٹر کیپٹن ضیاء الدین سے کہیں کہ وہ مجھے گیارہ اے کے 47 (AK۔ 47 ) رائفلیں (کہ اتنے ہی جوان میرے اے ڈی ایس میں میری زیر کمان تھے ) اور بیس گرنیڈ دے دیں، آج رات آپ سب سکون سے سو جائیں، کل صبح وہاں کوئی پوسٹ نہیں ہو گی۔ سب ہنس پڑے اور میری طرف دیکھنے لگے دے۔ میرے چہرے پر ہنسی تو کیا، مسکراہٹ کے بھی آثار نہیں تھے۔ میں نے نہایت ہی سنجیدگی اور متانت سے میجر آفریدی سے پھر کہا، برائے مہربانی مجھے وہ اسلحہ دے دیں جو میں مانگ رہا ہوں اور نتائج مجھ پر چھوڑ دیں۔

ڈاکٹر! آپ کو یہاں لڑنے کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ یہ آپ کا کام نہیں۔

جناب! یہ دھرتی میری ہے، اس دھرتی کا مجھ پر قرض ہے۔ میں وہ قرض ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پلیز مجھے یہ کام کرنے دیں۔

نہیں میں یہ نہیں کر سکتا، اگر آپ گویا آپ کے کسی جوان کو کچھ ہو گیا تو میں کہاں پیشیاں بھگتتا پھروں گا۔

تو پھر یہ پوسٹ بنے گی اور ہم سب کے سامنے بنے گی اور ہم کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔
اور پھر یہی ہوا کہ وہ پوسٹ بنی اور مستقل ہو گئی اور ہماری جانب سے کچھ بھی نہ ہوا۔

الغرض اس ویرانے میں، جن و انس و حیواں کے ساتھ، آٹھ نو ماہ میں سے کچھ شاداں و فرحاں، کچھ افتاں و خیزاں، کچھ حیراں و پریشاں، کچھ شاکی و نالاں، کچھ لرزاں و ترساں اور کچھ محض گراں گزرے۔ دسمبر میں ایک بڑی جنگی مشق ہوئی اور مہینہ کے اختتام پر ہم جہلم پہنچ گئے۔ میں نے فوج سے فراغت حاصل کرنے کی عرضی ڈال دی تھی۔ ایک دن کسی کام سے میں اپنے ہر دلعزیز سیکنڈ ان کمان کے آفس میں گیا تو موصوف نے پوچھا: آج کیا دن ہے؟

بدھ، میں نے عرض کیا۔
اگر آج بدھ ہے تو کل جمعرات ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
کل منگل تھا، آج بدھ ہے تو کل جمعرات کا دن ہی ہوگا، میں نے کہا۔
لیکن آج بدھ کیسے ہو سکتا ہے؟
کیلنڈر کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا؟
انہوں نے گھنٹی بجائی۔ دربان اندر آیا تو اس سے پوچھا: آج کیا دن ہے؟
سر، آج بدھ ہے، اس نے کہا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دربان میرے منہ کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔ میں وہاں کیا کہتا۔ چپ رہا۔ انہوں نے مجھے کہا :تم کیپٹن میمن کو بلا لاؤ۔ کیپٹن میمن آرٹلری سے تھے اور ہماری یونٹ میں کوارٹر ماسٹر تھے۔

سر آپ کے سامنے گھنٹی پڑی ہے۔ دربان سے کہیں کہ وہ کیپٹن میمن کو بلا لائے۔ ایک ڈاکٹر کو ہرکارہ تو نہ بنائیں نا۔ دربان کیپٹن میمن کو بلا لایا۔ اس کے آتے ہی پوچھا، آج کیا دن ہے۔

سر، آج بدھ ہے، کیپٹن میمن نے کہا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا۔ پھر مجھے وہاں بیٹھے دیکھ کر کہا کہ آپ اب جائیں۔ میں اٹھ کر باہر چلا گیا لیکن دروازے کے آس پاس کھڑا رہا۔ کیپٹن میمن باہر آیا تو مجھے دیکھ کر آہستہ سے بولا یہ ’جمعرات‘ کا کیا چکر ہے۔ میں نے انگلی سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس کے ساتھ اس کے آفس میں جا کر ہم دونوں نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔

میمن، مجھے بھی پتہ نہیں کہ ’جمعرات‘ کا کیا مسئلہ ہے؟
بھئی وہ تو میرے پیچھے ہی پڑ گئے کہ کل جمعرات کا دن کیسے ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی ما بعد الطبیعاتی معاملات ہیں جو میری سمجھ سے بالا ہیں۔ میں نے بات کو سمیٹا اور اٹھ کر آ گیا۔ یہ پتہ نہ چل سکا کہ بدھ کا دن ان کی اجازت اور مرضی کے بغیر کیسے آ وارد ہوا تھا۔

مئی 1979ء کے آخری ہفتے میں میرا فوج کی زنداں سے رہائی کا پروانہ آ گیا اور میں زندگی کے ایک اور سفر پر نکل کھڑا ہوا۔ محض ضمناً عرض کرتا چلوں، بہت بعد ، غالباً اوائل 1993ء، کی بات ہے، میں ان دنوں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں شعبہ سرجری کا سربراہ تھا۔ پتہ چلا کہ وہ اب برگیڈیئر کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں۔ میں انہیں ملنے چلا گیا۔ وہ اے ایف آئی سی (Armed Forces Institute of Cardiology) میں، زیر زمین سٹور میں، سٹور انچارج کی حیثیت میں ایک شکستہ سے آفس میں تشریف فرما تھے۔

’جی خوش ہوا ان کے آفس ویراں کو دیکھ کر‘ ۔ کچھ دیر ان سے بیٹھک رہی۔ کچھ پرانی باتیں زیر بحث آئیں، کچھ پر معافی تلافی ہوئی۔ باتوں باتوں میں، میں نے کہا آپ ہمارے کشمیر میں کیا کر رہے ہیں؟ گھر، جان مال اور عصمت سبھی کچھ کشمیریوں کا لٹ رہا ہے اور آپ خوش ہو رہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو رہا ہے۔ اس قدر گراں قیمت، جو ہم کشمیری ادا کر رہے، پر آپ خوش کیوں ہو رہے ہیں؟ وہ خاموش رہے۔ میں اٹھ کر آنے لگا تو مجھے چھوڑنے کار پارک تک آئے۔ میں نے ان کی عزت افزائی کے لئے کہا، مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔

کہنے لگے، مقام تو آپ کو عطا ہوا ہے کہ اس تھوڑے سے عرصے میں آپ اپنے پیشے کی معراج پر پہنچ گئے۔ ہم کیا اور ہمارا رینک کیا؟ جب ہم دونوں ریٹائر ہوں گے، تو میرے پاس کیا بچے گا۔ صرف اپنا نام۔ ہو سکتا ہے کہ محض میری دل جوئی کی خاطر کوئی رینک کا سابقہ لگا کر میرا نام لے، جب کہ آپ کی ایف آر سی ایس کی ڈگری کا لاحقہ اور سرجن کا سابقہ ہمیشہ آپ کے نام کے ساتھ چپکے رہیں گے۔

میں نے سوچا میں تو انہیں مٹی کا مادھو سمجھتا تھا، لیکن یہ تو اب کسی اور روپ میں سامنے آرہے ہیں۔

جمیل! یہ جو آپ کشمیر کے بارے میں بات کر رہے تھے، میں آپ سے کلی اتفاق کرتا ہوں، اس لئے کہ میں بھی کشمیری ہوں۔

میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ سر آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ اب تو بہت دیر ہو چکی ہے، میں نے کہا۔
پہلے بتاتا تو کیا ہوتا؟

سر! میں دریائے توی میں ایمبولنس تو کیا، بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دیتا۔ بے شک ایمبولنس اور میں دوسرے دن ہیڈ مرالہ سے جاکر برآمد ہوتے۔ ہنس دیے۔ کہنے لگے :اس وقت تم کسی اور دنیا کے باسی تھے۔ کچھ غلطی ہماری بھی تھی کہ ہم نے تمہاری تعلیمی اسناد پر کبھی نظر ہی نہیں ڈالی تھی۔ بریگیڈیئر صاحب، میجر جنرل ہو کر ریٹائر ہوئے۔ میں انہیں فہم و فراست سے عاری سمجھتا تھا لیکن اصل بات یہ تھی کہ وہ حکم مانتے تھے۔ ان کے لئے حکم، بس حکم تھا، اسے جاننا ضروری نہیں تھا۔ جب کہ میں عقل کو استعمال کر کے، حکم کو جاننے کی کوشش کرتا تھا، اور اس کوشش میں اکثر فالتو عقل بھی استعمال کر بیٹھتا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments