EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

افغانستان ایران سرحد: دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی راستے ’قلعہ اسلام‘ پر طالبان کا قبضہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


افغانستان

Reuters
افغانستان کے فوجی اہلکار ایک چوکی پر شہریوں کی تلاشی لے رہے ہیں

افغانستان کے حکام کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے ایران کی سرحد سے متصل ایک اہم سرحدی راستے ’اسلام قلعہ‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس سرحدی علاقے سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان جنگجو سرحد پر واقع کسٹم کے دفتر کی چھت پر نصب افغانستان کا پرچم اتار رہے ہیں۔

’اسلام قلعہ‘ افغانستان کی سرحد پر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تجارت اور آمد و رفت کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ اس راستے کے ذریعے ہونے والی تجارت سے افغان حکومت کو دو کروڑ ڈالر کی آمدن ہوتی ہے۔

افغانستان کے طول و عرض میں طالبان جنگجو تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں اور اسی دوران امریکی اور نیٹو افواج کا ملک سے انخلاء جاری ہے، جو کہ صدر بائیڈن کے تازہ ترین اعلان کے مطابق 31 اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔

طالبان کے سرکردہ ارکان نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے ملک کے 85 فیصد حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ حکومت اس دعوے پر تردید کرتی ہے اور آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

دیگر ذرائعے سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چار سو سے زیادہ اضلاع میں سے ایک تہائی پر طالبان قابض ہیں۔ ان میں جنوب میں ایران کی سرحد سے لے کر شمال میں چین کی سرحد سے متصل اضلاع شامل ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں غیر ملکی افواج کے افغانستان میں سب سے بڑے فوجی اڈے بگرام کے ہوائی اڈے کو امریکی افواج رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے ملک سے چلے گئے تھے۔ کئی میل پر پھیلا بگرام کا فوجی اڈہ افغانستان میں گزشتہ بیس سال سے امریکی اور نیٹو افواج کی طالبان کے خلاف کارروائیوں کا ہیڈکواٹر رہا اور ایک موقع پر یہاں ہزاروں کی تعداد میں امریکی اور نیٹو فوجی موجود تھے۔

https://twitter.com/KianSharifi/status/1413428026910691330

افغانستان کی حکومت نے جمعے کو ان اطلاعات کی تصدیق کی کہ ملک کے سرحدی صوبے ہیرات میں واقع اسلام قلعہ پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آرین نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز اور سرحدی دستے علاقے میں موجود ہیں اور وہ اسلام قلعہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ سرحدی راستہ پوری طرح سے ان کے قبضے میں ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے ہیرات صوبے کے تین اضلاع پر سرکاری فوجیوں کی طرف سے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار سے زیادہ اہلکار طالبان کی پیش قدمی اور محاصرے سے بچنے کے لیے بھاگ کر ہمسایہ ملک تاجکستان چلے گئے تھے۔

روس نے جمعے کو کہا ہے کہ طالبان نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے تاجکستان سے ملنے والی افغانستان کی سرحد کے دو تہائی حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروف کا کہنا ہے کہ روس افغانستان میں تمام متحارب دھڑوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ صبر سے کام لیں۔

یہ اطلاعات صدر بائیڈن کی طرف سے افغانستان میں 20 سال سے جاری امریکی یلغار کو ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد موصول ہونا شروع ہوئیں۔

افغانستان

Getty Images
امریکی فوج کے خالی کردہ اڈوں میں شہری بچا کچا سامان لوٹ کر لے گئے

صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ کسی معقول توقع کے بغیر کہ افغانستان میں جنگ سے کوئی اور نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے، امریکی قوم کی ایک اور نسل کو افغانستان میں نہیں بھیجیں گے۔

انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ افغان حکومت ملک کے سو فیصد حصہ پر اپنی حکمرانی برقرار رکھ سکے۔

اس سال جون میں امریکہ کے خفیہ اداروں کے تجزیہ کاروں کی عام کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ غیر ملکی فوج کے انخلاء کے چھہ مہینے کے اندر طالبان ملک پر قبضہ حاصل کر لیں گے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ افغانستان کی افواج طالبان کو اقتدار سے دور رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں اور افغان فورسز نے کئی علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کر لیا ہے۔

افغان حکام کے مطابق بدھ کے روز افغان فوجیوں نے ملک کے مغربی شہر قعلہ نو میں سرکاری عمارتوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو طالبان کی تازہ ترین پیش قدمی میں سرکاری افواج کے ہاتھوں نکل جانے والا پہلا صوبائی دارالحکومت تھا۔

برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل سر نک کارٹر نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں کہا کہ حالات تین مخلتف سمتوں میں جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اول یہ کہ حکومتی افواج ایک دائرے کے صورت میں صوبائی دارالحکومت پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں جیسا کہ فی الوقت ان کی حکمت عملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دوسرا امکان یہ ہے کہ افغان حکومت گر جاتی ہے اور ملک کے مختلف حصے مختلف ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں۔ ‘شاید آپ دیکھیں کہ ملک کے کچھ حصوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا اور دیگر قومیتیں اور لسانی گروہوں نے باقی حصوں پر قبضہ کر لیا، جیسا کہ گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں دیکھنے میں آیا تھا۔’

’تیسرا اور ایک امید افزا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ واقعی ایک سیاسی مفاہمت ہو جائے اور آپ کو مذاکرات ہوتے نظر آئیں۔ افغاسنستان میں امریک کی فوجی کارروائیاں سرکاری طور پر 31 اگست کو ختم ہو جائیں گی، لیکن غیر ملکی فوجیوں کی ایک بڑی اکثریت تو ملک سے پہلے ہی جا چکی ہے۔‘

افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور طالبان رہنماؤں کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں لیکن مذاکرات کا یہ سلسلہ اکثر تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اس میں کوئی قابل قدر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19985 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp