EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

لبنان میں دو بڑے بجلی گھر بند، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


A technician controls an electric switchboard connecting homes to electricity generators in a suburb of Lebanon's capital Beirut, on June 23, 2021.

AFP via Getty Images

لبنان کے دو مرکزی بجلی گھروں کے جمعہ کے روز بند ہو جانے کے بعد ملک بھر میں تقریباً مکمل طور پر بجلی بند ہوگئی ہے۔

ان بجلی گھروں کو بند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے لیے ایندھن ختم ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ ملک میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پہلے ہی دن میں صرف دو گھنٹے بجلی آ رہی تھی۔

ملک میں غیر زر مبادلہ کی کمی کی وجہ سے بیرونِ ملک تونائی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اسی طرح ملک میں فارمیسیاں بھی اس بات پر ہڑتال کیے ہویے ہیں کہ ملک میں ادویات بھیجنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو ادائیگیاں نہیں کی جا رہیں۔

لبنان کے دو سب سے بڑے پاور پلانٹ سیر امار اور زہرانی دونوں مشترکہ طور پر ملک کی 40 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ان پلانٹس کی مالک کمپنی ایلیکٹرک دو لبان (ای ڈی ایل) کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز انھیں بند کر دیا گیا ہے۔

ادھر گیس اور تیل سے بھرے بحری جہازوں نے ملک میں اپنا مال اتارنے سے اس وقت تک انکار کیا ہوا ہے جب تک مالکان کو اس ایندھن کی ادائیگی ڈالروں میں نہیں کر دی جاتی۔

https://twitter.com/sebusher/status/1413526874375036928


ادھر ای ڈی ایل نے مشرقی شہر زحلۃ میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ تونائی کا استعمال انتہائی کم کر دیں کیونکہ ملک میں غیر معینہ مدت تک بجلی بند کر دی گئی ہے۔

ادھر بی بی سی کے نامہ نگار سبیسٹین اشر کا کہنا ہے کہ ملک میں اب لوگ پانی کی ذخیرہ اندوزی بھی کرنے لگے ہیں۔ پانی پمپ کرنے کے سٹیشن ڈیزل پر چلتے ہیں اور چلنے کے لیے انھیں جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کی کمی ہے۔

لبنان گذشتہ 18 ماہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہے اور ان کی کرنسی بری طرح گر چکی ہے۔

کچھ ہسپتالوں میں ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ جمعے کے روز فارمیسیوں نے ہڑتال کی وجہ سے اپنی دکانیں بند کر دی ہیں۔ ان کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور دارالحکومت بیروت میں 80 فیصد سٹور بند ہیں۔

خراب حال معیشت کی وجہ سے تقریباً نصف آبادی شدید غربت کا شکار ہو چکی ہے اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ کو نکال دیا جائے جن پر کرپشن اور غفلت برتنے کا الزام ہے۔


‘زیادہ تر لوگوں کو گھنٹوں تاریکی کا سامنا ہے‘

کیرن توربی، بی بی سی نیوز بیروت

لبنان میں بجلی کی رسد کم ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ ملک میں کئی دہائیوں سے 24/7 بجلی موجود نہیں ہے۔

ریاستی تونائی کو بانٹا جاتا ہے اور لوگ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ساتھ میں نجی جینریٹر استعمال کرتے ہیں۔

مگر آج یہ کوئی کمی نہیں ہے جسے پورا کیا جا رہا ہو۔ پہلی مرتبہ پوری کی پوری گریڈ بیٹھ گئی ہے اور صرف نجی جینریٹر چل رہے ہیں۔ مگر ان پر بھی دباؤ ہے۔ وہ ڈیزل پر چلتے ہیں جو کہ ملنا مشکل اور مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنان میں اس وقت زیادہ تر لوگوں کو کئی کئی گھنٹوں تک تاریکی میں رہنا پڑ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp