میں نے افغانستان کے حالیہ دورے میں کیا دیکھا؟

جمعہ، کابل افغانستان: وہ چھڑی کے سہارے اپنے دفتر کی سیڑھیاں اترا تو میں نے آگے بڑھ کراس سے مصافحہ کیا۔ کم و بیش چھ فٹ لمبا، بھرے ہوئے جسم اور ادھیڑ عمر کا یہ شخص سوویت یونین کے دور میں افغانستان کی خفیہ ایجنسی ”خاد“ کے لئے کام کرتا تھا وہی خاد جس کے سوویت خفیہ ایجنسی کے جی بی سے قریبی روابط تھے اور جس پر پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے الزام بھی عائد کیے جاتے تھے۔

1987 میں جلال آباد میں یہ شخص اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے صرف 19 سال کی عمر میں ایک ٹانگ سے محروم ہو گیا۔ اس دور میں یہ کمیونسٹ تھا اور پاکستان کا ناقد بھی۔ مگر کچھ عرصہ بعد کابل پر طالبان کا قبضہ ہوا تو وہ برطانیہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اپنے دفتر میں مجھ سے ملاقات کرنے والا یہ کوئی اور نہیں افغانستان کا وزیرخارجہ محمد حنیف اتمر تھا۔ حنیف اتمر افغانستان میں وزیرداخلہ اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے عہدوں سے ہوتا ہوا اب یہاں کا وزیرخارجہ بن چکا ہے۔ حیران کن اور خوشگوار بات یہ ہے کہ اتمر پاکستان سے اختلاف تو کرتا ہے مگر پاکستان کا مخالف نہیں۔ اختلاف اور خلاف ہونے میں تھوڑا ہی فرق ہے۔ اختلاف دلیل پر مبنی ہوتا ہے جو ختم بھی ہو سکتا ہے جبکہ مخالفت کی بنیاد نفرت ہوتی ہے جو عقل کی دشمن ہے۔ اتمر سمجھتا ہے کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس ملاقات میں افغان وزیرخارجہ نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ طالبان دیگر بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، جیش محمد، لشکر طیبہ، جنداللہ اور چین میں متحرک ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور ازبکستان کی مبینہ دہشتگرد تنظیم اسلامک موومنٹ سب مل کر افغان حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں ہم پاکستان میں یہ سمجھتے رہے کہ کالعدم تحریک طالبان کو افغان حکومت نے پناہ دے رکھی ہے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن وقت آنے پراس جماعت نے افغان حکومت کے مخالفین کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ افغان وزیرخارجہ کے مطابق اگر طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو یہ ملک دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن جائے گا جو پاکستان، بھارت، چین، ازبکستان سمیت سب کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

یہاں کابل میں ایک روز قبل ہی افغان وزیردفاع کی بھارتی دفاعی حکام سے ملاقات ہوئی تھی مجھے خیال آیا کہ پوچھوں افغانستان بھارت سے دفاعی مدد تو حاصل نہیں کر رہا؟ اتمر نے بتایا کہ ماضی میں افغان فوج کے افسران کی بھارت نے تربیت کی تھی اور انہیں ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیے تھے تاہم کسی تازہ تعاون کے بارے میں انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ میں نے وزیر خارجہ کی توجہ بھارت کے حوالے سے پاکستان کی تشویش پر دلائی تو انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو یقین دلا چکے ہیں کہ ہم کسی کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ افغان وزیر خارجہ کو توقع ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے گا اور ان کی سپلائی بند کرنے میں افغانستان کی مدد کرے گا۔ ہماری ملاقات کے آخر میں افغان وزیرخارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی بھی دبے لفظوں میں تعریف کی اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ان دونوں صاحبان سے بہت سی اچھی باتیں سنی ہیں تاہم وہ ان پر عمل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے افغان وزیرخارجہ سے ملاقات میں پاکستان کے حوالے سے امید نظر آئی۔

اتمر کی امید کے باوجود لوگ افغان حکومت کے اندرونی خلفشار سے بھی بہت مایوس ہیں۔ حال ہی میں پاکستان پر تنقید کرنے والے افغان نائب صدر اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سابق سربراہ امراللہ صالح نے بدغیس کے علاقے میں ایک حکومتی عہدیدار کو فون پر خوب برا بھلا کہا کیونکہ وہ مبینہ طور پر افغان فورسز کے ہتھیار ڈالنے کے لئے کام کر رہا تھا۔ دونوں کی گفتگو کی آڈیو لیک ہو گئی۔ یوں افغان حکومت کے اندر باہمی چپقلش، غصے اور بداعتمادی کا ایک ثبوت بھی سامنے آ گیا۔ کابل میں میری ملاقات حکومتی شخصیات سے کم اور عام افراد سے زیادہ ہو رہی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ کیا سوچتے ہیں؟ یہاں ایک نشست دو پڑھی لکھی افغان خواتین بہاراں اور زینب سے بھی ہوئی۔ دونوں فارسی پس منظر رکھتی ہیں اور اپنے اپنے خاندان کا سہارا ہیں۔ میرا دونوں سے سوال بڑا سادہ تھا اور وہ یہ کہ ”آپ کا مستقبل کیا ہے؟“ بہاراں نے کہا کہ اسے تو کچھ نظر نہیں آتا۔ زینب بولی کہ وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی کہ والدین کو نوے کی دہائی میں افغانستان کے حالات کے باعث ایران ہجرت کرنا پڑی ابھی 2014 میں واپس آئے ہیں تو دوبارہ یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ میں تو ہوں ہی مگر والدین بھی سخت پریشان ہیں کیونکہ ایران میں ہم افغانوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے۔ اب ہم دوبارہ جلاوطنی کی دلدل میں نہیں پھنسنا چاہتے۔

افغانستان میں مجھے ایسا کوئی فرد نہیں ملا جو جنگ اور خونریزی کے حق میں ہو۔ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ سب امن چاہتے ہیں۔ جنگ کے حامی تین طرح کے طبقات ہیں ایک وہ جو ہر صورت حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہر کردار کے پیچھے کوئی نہ کوئی علاقائی حکومت موجود ہے۔ دوسرے وہ جو وار اکانومی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور تیسرے منشیات کے وہ بڑے تاجر جنہیں شاید اس بات کا علم ہے کہ افغانستان میں کوئی حکومت مضبوط ہوئی تو ان کا کاروبار مندے میں چلا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں منشیات کی سب سے زیادہ پیداوار اور سپلائی افغانستان سے ہی ہوتی ہے۔ ان سب کے سامنے عام آدمی کا کیا بس چلتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words