EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کی اطلاعات: افغان وزارتِ دفاع کا 271 طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، طالبان کی تردید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

طالبان

Getty Images

افغان سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز فضائی حملے کر کے تاجکستان کی سرحد سے متصل ایک اہم شمالی صوبے کے صوبائی مرکز پر طالبان جنگجوؤں کے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

طالبان کا یہ حملہ ان تازہ حملوں کی ایک کڑی ہے جن کے دوران انھوں نے افغانستان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان کی پیش قدمی کی اطلاعات بدستور سامنے آ رہی ہیں۔

امریکہ کی زیر قیادت غیر ملکی افواج کا انخلا تقریباً دو دہائیوں تک افغانستان میں جاری رہنے والی جنگ کے بعد آخری مراحل میں ہے۔

طالبان عہدیداروں نے جمعہ کے روز افغانستان کے 85 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم افغان عہدیداروں نے اس دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صوبہ تخار کے گورنر عبد اللہ قرلوق نے دعویٰ کیا ہے کہ ’دشمن کے جارحانہ حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

سکیورٹی فورسز

Getty Images

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغان فضائیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کامیاب حملوں کے نتیجے میں 55 شدت پسند ہلاک جبکہ 90 زخمی ہوئے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق وہ آزاد ذرائع سے گورنر کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔

سوموار کی صبح افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ تخار کے صوبائی مرکز تالقان کے نواح میں طالبان کے ٹھکانوں پر افغان فضائیہ کے فضائی حملوں میں ایک درجن سے زیادہ طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

https://twitter.com/MoDAfghanistan/status/1414160532383444994

تخار پولیس کمانڈ کے ترجمان خلیل اسیر نے روئٹرز کو بتایا کہ ’طالبان نے کل (سنیچر) کی رات کو چار سمتوں سے تالقان پر حملہ کیا، لیکن انھیں سکیورٹی فورسز اور (مقامی) لوگوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

طالبان تالقان پر قبضہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتے جا رہے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں طالبان جنگجو مغربی صوبہ بادغیس کے دارالحکومت میں داخل ہوئے تھے، پولیس اور سکیورٹی مراکز پر قبضہ کرنے کے بعد انھوں نے گورنر کے دفتر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن خصوصی دستوں نے انھیں پیچھے دھکیل دیا۔

غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان کی جانب سے افغانستان کے کئی علاقوں پر قبضے کے لیے نیا عزم دیکھا گیا ہے۔ پینٹاگون کا خیال ہے کہ ضلعی مراکز کا کنٹرول سنبھالنے ک بعد، طالبان صوبائی مراکز پر قبصے کے لیے زور لگائیں گے۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی افغانستان میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے غزنی کے اطراف میں بھی طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے مابین تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ چند مقامی افراد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ غزنی کے نواح میں واقع رہائشی علاقے پر پیر کی علی الصبح مارٹر گولہ فائر کیا گیا۔ غزنی کے صوبائی حکام نے یہاں پیش آنے والے واقعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکی فوجی رات کی تاریکی میں بغیر بتائے بگرام فضائی اڈہ چھوڑ گئے‘

طالبان کے بڑھتے قدم: کیا انڈیا کو کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنا پڑے گا؟

’طالبان کی واپسی‘ انڈیا، ایران اور ترکی کے مفادات پر کیسے اثر انداز ہوسکتی ہے؟

افغانستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات کے پس منظر میں اقوام متحدہ نے امداد کی نئی اپیل جاری کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی آبادی کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ خوراک کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے اور انھیں امداد کی ضرورت ہے۔

افغان کی وزارتِ دفاع کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملے پسپا کرنے اور ہلاکتوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

اسی اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغان سکیورٹی فورسز نے نگرھار، میدان وردک، خوست، قندھار، فرح، ہرات، بادغیس، سر پول، جوزجان، نیمروز، ہلمند، بدخشان، قندوز، تخار اور کپیسا صوبوں میں مختلف کارروائیوں کے دوران 271 طالبان کو ہلاک اور 162 کو زخمی کیا گیا ہے۔

طالبان کی پیش قدمی اور تشدد کے واقعات کے پیش نظر اتوار کے روز انڈیا نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی افغانستان کے ایک بڑے شہر قندھار میں اپنے قونصل خانے سے عملے کو عارضی طور پر وطن واپس بھیج دیا ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے چیف ترجمان اریندم باغچی نے ایک بیان میں کہا ‘قندھار شہر کے قریب شدید لڑائی کے سبب انڈین شہریوں کو فی الحال واپس لایا گیا ہے۔’

باغچی نے مزید کہا ‘انڈیا افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور قندھار میں انڈین قونصل خانہ عارضی طور پر مقامی عملہ چلا رہا ہے۔’

دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے بھی متعدد مقامات پر طالبان کے قبضے اور دشمن فوج کو بھگانے کے متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی امارت اسلامی میں شمولیت کی ویڈیوز بھی شئیر کی جا رہی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے اب سے کچھ دیر قبل ‘طالبان کے خلاف دشمن کے دعوؤں اور پروپیگینڈا’ کے حوالے سے ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا ہے۔

طالبان

Getty Images

اس میں کہا گیا ہے کہ ‘جب ملک میں کٹھ پتلی دشمن بے نقاب ہوئے اور انھیں ذلت آمیز شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، ہزاروں افغان فوجیوں نے اسلامی امارت کی کھلے عام حمایت کر دی اور تقریباً دو سو اضلاع کو دشمن سے پاک کر دیا گیا، تو اب دشمن من گھڑت پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے اور بے کار حربوں پر اُتر آیا ہے۔’ لہذا ہم اس کے بارے میں وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ:

  • سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات، دستاویزات، دھمکیاں اور دیگر خطوط گردش کیے جا رہے ہیں اور حتیٰ کہ کئی علاقوں میں تو ہوائی جہاز کے ذریعے ایسے پوسٹر پھینکے گئے ہیں جن میں طالبان کی جانب سے مقامی لوگوں پر پابندیوں، انھیں دھمکیاں دینے، صنفی قوانین کی نشاندہی، زندگیوں پر کنٹرول، داڑھیاں رکھنے، نقل و حرکتوں اور یہاں تک کہ بیٹیوں کی شادی کے بارے میں بے بنیاد دعوے بھی شامل ہیں۔
  • داعش کی کاروائیوں پر مبنی کئی سال پرانی ویڈیوز کو طالبان کی جانب سے حالیہ کاروائیاں کہہ کر شئیر کیا جا رہا ہے۔
  • اسی طرح حال ہی میں آزاد کرائے گئے اضلاع میں مقامی افراد کے ساتھ طالبان کے ظالمانہ رویے کے متعلق دشمن کی جانب سے میڈیا میں پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔

طالبان کی ہلاکتوں اور طالبان کے زیِر قبضے علاقوں کو چھڑانے کے متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں جن کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامی ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ کسی بھی علاقے میں مرد یا عورت کسی کے ساتھ بھی غلط سلوک نہیں روا رکھا جا رہا اور نہ ہم اس کی اجازت دیتے ہیں۔

اس میں یہ بھی کیا گیا ہے دشمن کی جانب سے کیے جا رہے اس پروپیگنڈے کا مقصد ڈر و خوف پھیلانا، عوامی رائے سے توجہ ہٹانا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19976 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp