EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

گوجرانوالہ کے ہسپتال میں شادی: ’دلہن نے کہا میں اس حالت میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی‘

احتشام احمد شامی - صحافی، گوجرانوالہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سبز رنگ کے عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن کے ماتھے پر جھومر ہے اور وہ مہندی لگائے اپنے نکاح نامے پر دستخط کر رہی ہیں۔ لیکن ویڈیو کا پس منظر کسی شادی ہال یا گھر جیسا نہیں لگتا۔ یہاں آنکھیں چیک کرنے والی ایک مشین بھی پردے کے اُس پار دکھائی دے رہی ہے۔

آپ نے شادی کے مناظر گھروں، ہوٹلوں یا میرج ہالز میں تو بہت دیکھے ہوں گے لیکن شاید ہی ایسا دیکھا ہو گا کہ کسی ہسپتال میں شادی کی تقریب منعقد کی جائے۔ یہ ایک غیر معمولی شادی تھی جس میں روایت سے ہٹ کر دولہا بارات لے کر نہیں آ سکا۔ بلکہ دلہن خود چل کر اس کے پاس آئی جیسے وہی بارات لائی ہو۔

نکاح کا یہ منظر وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کا ہے جہاں ایک نجی ہسپتال میں ایک باریش نکاح خواں دولہا دلہن کا نکاح پڑھا رہا ہے۔

لو سٹوری میں نیا موڑ

دراصل ہوا کچھ یوں کہ دریائے چناب کے قریب آباد قصبے دھونکل کے نوجوان رہائشی محمد رضوان کئی برسوں سے بسلسلہ روزگار اٹلی میں مقیم تھے۔ ان کی پانچ سال سے گوجرانوالہ کی رہائشی لڑکی ماریہ سے فیس بک کے ذریعے جان پہچان تھی۔

وقت کے ساتھ دونوں کی دوستی گہری ہوتی گئی اور پھر انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ 24 سالہ ماریہ نے رضوان کو بتایا کہ مشرقی روایات کے مطابق وہ اپنے گھر والوں سے کہیں کہ باقاعدہ رشتہ مانگنے گھر آئیں۔

رضوان تو نہ آ سکے لیکن ان کے والدین ماریہ کے گھر پہنچے جہاں دونوں گھرانوں کی بات طے پا گئی اور مٹھائیوں کے تبادلے کے ساتھ رشتہ منظور ہو گیا۔

رضوان اپنی شادی کے لیے نوکری سے چھٹی لے کر اٹلی سے پاکستان پہنچے۔ شادی کی تاریخ نو جولائی کو طے پائی اور کارڈ بھی چھپ چکے تھے۔

یہاں تک تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ مگر پھر ایک اچانک حادثے نے اس جوڑے کی کہانی کو ٹوئسٹ دیا۔

30 سالہ رضوان بتاتے ہیں کہ ’میں آٹھ جولائی کو مہندی کی تیاری کے لیے موٹر سائیکل پر گاؤں سے شہر آ رہا تھا۔ گاؤں سے نکلا تو ایک چیک پوسٹ پر اگلی گاڑی نے اچانک بریک لگا دی اور مجھ سے موٹر سائیکل کنٹرول نہ ہوئی۔‘

’(ٹریفک حادثے کے بعد) میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ٹانگ نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ مجھے احساس ہوا کہ میری ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔‘

انھیں فوری طور پر ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ’ایکسرے کے بعد مجھے آپریشن تھیٹر لے گئے۔‘

چار گھنٹے پر محیط یہ آپریشن کامیاب رہا مگر ڈاکٹروں نے رضوان کو کم از کم تین ماہ کے بیڈ ریسٹ کی تجویز دی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں خاندانوں کو بارات اور ولیمے کی تقاریب کو ملتوی کرنا پڑا۔

’دلہن نے کہا جیسے بھی ہے میں نے شادی کرنی ہے‘

رشتہ داروں اور دوست احباب سمیت جن لوگوں کو شادی کے کارڈز دیے گئے تھے، سب کو فون کالز اور ایس ایم ایس کے ذریعے بتایا گیا کہ ’آپ شادی یا ولیمہ پر نہ آئیں، ہمارا پروگرام عارضی طور پر ملتوی ہو گیا ہے۔‘

رضوان کے خاندان کا کہنا ہے کہ شادی ملتوی کیا ہوئی کہ دونوں گھرانوں کے رشتہ دار اور دوست احباب کی فون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا جو خیریت دریافت کرنے لگے اور طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔

شادی کے دونوں گھر، جہاں آٹھ جولائی کو مہندی کی خوشیوں کا ماحول تھا، اگلے ہی روز بارات سے قبل رات کو اُداسی چھا چکی تھی۔

ایسے میں ماریہ اور رضوان نے فون پر رابطہ کر کے فیصلہ کیا کہ یہ شادی تو ہر قیمت پر ہو کر رہے گی تاکہ ایک تو لوگوں کی باتیں رُک سکیں اور دوسرا یہ کہ جس شادی کی دونوں نے آپس میں قسمیں کھائیں تھیں، وہ پوری ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا پہلا ٹیسٹ ٹیوب بےبی جسے ‘گناہ’ اور ‘حرام’ قرار دیا گیا

’پہلا بچہ ہوگا جو اپنے ہی والدین کے ولیمے میں شرکت کر رہا تھا‘

’دولہے کو مٹن کری چاہیے تھی، دلہن مستقبل کی اذیت سے بچ گئی‘

رضوان بتاتے ہیں کہ ’شادی کا دن تو مقرر تھا۔ مگر ایسے وقت میں ہمسفر کا بھی پتا چلتا ہے۔ (دلہن ماریہ نے کہا) میں نے اس حالت میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جانا۔ جیسے بھی ہے میں نے شادی کرنی ہے۔ تم ٹھیک نہیں ہوتے تو ہم آ جاتے ہیں۔‘

’دونوں خاندانوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ادھر ہسپتال میں ہی شادی کرتے ہیں، ادھر ہی نکاح کرتے ہیں۔ علاج کے دوران شادی کے بغیر تو وہ ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لیے ادھر ہی نکاح کی سب تیاریاں کر لی گئیں۔‘

’ہسپتال کے عملے نے بھی ہم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم وہاں جا نہیں سکتے تو شادی یہاں ہو جائے گی۔‘

خاندان والوں کی رضا مندی اور حمایت کے بعد ماریہ عروسی لباس پہن کر اپنے والدین اور دیگر اہلخانہ کے ہمراہ راہوالی کینٹ کے قریب اس نجی ہسپتال پہنچ گئیں جہاں نکاح خواں کو بھی بلا لیا گیا تھا۔

کھانا پینا ہوا نہ چھوہارے بٹے

لائف کیئر ہسپتال کی انتظامیہ نے اس بارے میں واضح کیا ہے کہ عام حالات میں ہسپتال میں نکاح جیسا کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی کیونکہ ہسپتال کے ایس او پیز اس کی اجازت نہیں دیتے۔

ہسپتال کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’دونوں گھرانوں نے ہم سے پیشگی اجازت لی اور اپنی مجبوری سے آگاہ کیا جس پر انتظامیہ نے ہسپتال کے ایک وارڈ میں نکاح کی اجازت دی۔‘

’دونوں گھرانوں کو ہسپتال کی طرف سے پابند کیا گیا کہ کوئی شور شرابہ یا ہلہ گلہ نہیں ہو گا۔ بینڈ باجے نہیں بجیں گے۔ دونوں گھرانوں کے صرف قریبی لوگ اور نکاح خواں وارڈ میں موجود ہوں گے۔ کھانا پینا ہو گا نہ چھوہارے بانٹے جائیں گے۔‘

ان ساری پابندیوں کے دوران نکاح کی رسم سادگی سے انجام پائی اور نکاح کے وقت دلہن ایک کرسی پر جبکہ دولہا بیڈ پر اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔

نکاح کے بعد دلہن نے ہسپتال کے بیڈ پر ہی دلہے کے ساتھ شادی کی یادگار تصویر بنوائی۔ رضوان کے مطابق وہ دونوں اس فیصلے سے خوش ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19927 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp