عثمان مرزا کیس: ملزمان نے ’برہنہ کر کے ڈھائی گھنٹے تک ویڈیو بنائی‘

عثمان مرزا

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سیکٹر ای الیون کے ایک فلیٹ میں لڑکی اور لڑکے کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے کیس میں ملزمان کا مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ اس کیس میں ملزمان کے کردار کا الگ الگ تعین کیا جائے۔

متاثرہ جوڑے نے بھی مقدمے کی باقاعدہ پیروی شروع کر دی ہے جبکہ وکلا صفائی نے مقدمے میں مزید دفعات شامل کرنے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے لڑکی اور لڑکے کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں مرکزی ملزم عثمان ابرار، حافظ عطاالرحمن، فرحان اور ادارس قیوم بٹ کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج جوڈیشل مجسٹریٹ وقار حسین گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کی پیشی کے دوران سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ادارس قیوم بٹ کا کتنا ریمانڈ ہوا؟ سرکاری وکیل نے جواب میں کہا کہ ادارس بٹ کا ابھی تک پانچ دن کا ریمانڈ ہو چکا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس کی تفتیش میں میں اب تک کیا پیشرفت ہے؟

تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ویڈیو بنانے والے موبائل فون سمیت دو موبائل برآمد ہو چکے ہیں۔ اسلحہ بھی برآمد کیا جا چکا ہے جبکہ لڑکے اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔

خاکہ

BBC

تفتیشی افسر کے مطابق دونوں لڑکا اور لڑکی نے مزید ملزمان کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو برہنہ کر کے ڈھائی گھنٹے تک ویڈیو بنائی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو مزید بتایا کہ مقدمے میں دفعہ 375 اے سمیت دیگر نئی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ لڑکی کو برہنہ کر کے زیادتی کروانے کی کوشش کی گئی۔ مقدمے میں بھتہ لینے کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے تاہم ویڈیو وائرل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرنا ابھی باقی ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ویڈیو کس طرح وائرل ہوئی اس کا بھی سراغ لگایا جائے۔

سرکاری وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان نے گیارہ لاکھ 25 ہزار روپے بھتہ لیا، چھ ہزار وقوعہ کے وقت چھینا گیا تھا اور ابھی یہ رقم برآمد کرنی ہے۔

سرکاری وکیل کے مطابق اس کے علاوہ تین موبائل فونز بھی برآمد کرنے ہیں جبکہ باقی ملزمان بھی گرفتار ہونا باقی ہیں۔

دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ کب کا واقعہ ہے پولیس کو بھی علم نہیں اور ویڈیو کے معاملات کے لیے پولیس سائبر کرائم سیل کیوں نہیں جا رہی؟ جس نے بھی ویڈیو وائرل کی اس کو بھی گرفتار کیا جائے۔

معاملے میں تشدد کا نشانہ بننے والے جوڑے کی جانب سے وکیل حسن جاوید شورش عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ سائبر کرائم سیل کی طرف نہیں جائے گا اور ابھی تو فلیٹ کے معاملہ کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

عدالت کے استفسار پر حسن جاوید شورش نے بتایا کہ انھیں لڑکے اور لڑکی نے وکیل مقرر کیا ہے اور سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس کیس میں پوری سوسائٹی ڈسٹرب ہوئی ہے، ہر شہری خوف میں مبتلا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کیس ہے اس کو مثال بنانا چاہیے۔ ویڈیو برآمدگی، لیپ ٹاپ اور دیگر چیزیں برآمد کرنا ہیں لہذا ملزمان کو زیادہ سے زیادہ ریمانڈ دیا جائے۔‘

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ انھوں نے کیا ملزم فرحان کی لوکیشن معلوم کی ہے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ فرحان کی لوکیشن وقوعہ والی جگہ کی ہی آرہی ہے۔

متاثرہ جوڑے کے وکیل نے کہا کہ یہ واقعہ کئی ماہ پرانا ہے جبکہ جو وقوعہ دو تین دن پرانا ہو اس کی تفتیش کیلئے بھی وقت درکار ہوتا ہے لہذا ملزمان کا زیادہ سے زیادہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ اس واقعے سے متعلق ہر ملزم کے کردار کا تعین کیا جائے۔

پولیس کی جانب سے ملزمان کے سات دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ملزمان کو مزید چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words