پاکستان: کابینہ نے مسلح افواج کے لیے پندرہ فیصد سپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


پاکستانی فوج

Getty Images

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ملک کی فوج کو پندرہ فیصد سپیشل الاؤنس دینے کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ’دو سال تک پاکستان کی افواج کی تنخواہوں کو منجمد کیا گیا تھا۔ جبکہ سول سائیڈ پر پچیس فیصد اضافہ کیا گیا۔ جس کے تحت ڈسکریشنری الاؤنس سیکریٹریٹ کو دیا گیا۔ اور دس فیصد جنرل الاؤنس بھی سول ملازمین کو دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں فوج کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا اس کو برابر لانے کے لیے فوج کو دو سال بعد پچیس فیصد سپیشل الاؤنس دیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اس الاؤنس میں رینجرز اور ایف سی شامل نہیں ہیں۔ لیکن وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ ہدایت کی ہے کہ ایف سی کو اس (الاؤنس) میں شامل کرنے کے لیے (اس موضوع کو) جلد زیرِ بحث لایا جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس لیے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ داخلہ کا سیشن جلد بلایا جائے گا، جس کے بعد ایف سے کی تنخواہوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

یہ فیصلہ کیوں زیرِ بحث آیا؟

حال ہی میں وزارتِ خزانہ نے پاکستان کی وفاقی کابینہ کو ملک کی فوج کے لیے 15 فیصد سپیشل الاؤنس منظور کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

اس سے پہلے وزارتِ خزانہ نے وزیرِ اعظم عمران خان سے منظوری طلب کی تھی۔ لیکن وزیرِ اعظم نے یہ فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھنے کو کہا، جس کے نتیجے میں اسے کابینہ کے اکیس نکاتی ایجنڈا میں شامل کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے

فوج کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی تجویز: رقم آئے گی کہاں سے؟

’فوج حکومت کا ذیلی ادارہ ہے، کسی سے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں‘

کیا انڈیا کا نیا ارجن ٹینک پاکستانی ٹینکوں پر برتر ثابت ہو سکتا ہے؟

اس فیصلے کے بعد پاکستان کی فوج کی تنخواہوں اور الاؤنس میں کُل ملا کر 25 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2020-2021 کے بجٹ میں دس فیصد اضافے کا اعلان بجٹ پیش کرتے ہوئے ہی کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ 2021-2020 کے وفاقی بجٹ میں پاکستان کی فوج کے لیے 13 کھرب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اب اس حالیہ پندرہ فیصد الاؤنس کی منظوری کے بعد مزید 38 ارب روپے کی ضرورت پیش آئے گی۔

وزارتِ خزانہ کے ایک ترجمان کے مطابق، پے اینڈ پینشن کمیشن کی درخواست پر فوج کے اہلکاروں کے لیے مزید پندرہ فیصد الاؤنس کی درخواست وزارت میں آئی تھی، جسے منظوری کے لیے وزیرِ اعظم عمران خان کے پاس بھیجا گیا تھا۔ جس کے بعد عمران خان نے اسے کابینہ میں لانے کا کہا۔

مسلح افواج

Getty Images

پے اینڈ پینشن کمیشن کی درخواست کی سمری کے مطابق، فوج کے اہلکاروں کی تنخواہوں میں پچھلے دو سال میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ درخواست کی جارہی ہے۔

اس الاؤنس اور اس کی منظوری پر پہلے سے ہی اعتراضات کیے جارہے تھے۔ اور اب یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ اس اضافی سپیشل الاؤنس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اضافی سپیشل الاؤنس پر اعتراضات

پاکستان کی حکومت کے مطابق، اس وقت اس الاؤنس اور بجٹ میں فوج کے لیے دی گئی رقم کا زیادہ تر استعمال افغانستان سے فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے لیے ہے۔ یعنی اس دوران اگر طالبان افغانستان میں حالات خراب کرتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑے گا جس کے لیے اسلحہ اور دیگر چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ اسد درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کو بجٹ میں ملنے والے حصے کے پیچھے ایک سیاسی اور عسکری وجہ یا بنیاد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور تحریکِ طالبان پاکستان کے دوبارہ سے متحرک ہونا بتائی جاتی ہے۔ لیکن اسد درانی کہتے ہیں کہ اس وقت جو ہورہا ہے وہ سب کے علم میں تھا کہ ایسے ہی ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک افغانستان میں طالبان کا قبضہ اور اس کے نتیجے میں چھِڑنے والی شورش کی بات ہے تو وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ یہ سب کے علم میں بات تھی کہ یہ ہوگا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان سے متعلق پندرہ سال پہلے پوزیشننگ کی گئی تھی کہ افغانستان میں اینڈ گیم کو سنبھالنے کے لیے ایران، چین، ترکی اور روس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اب اگر ان پندرہ سالوں میں ایسا نہیں کیا گیا تو اب شور مچانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بجٹ پیش ہوتے ہوئے بھی میں نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ الگ سے پے اینڈ پینشن کے تحت اربوں روپے مختص کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے جبکہ پہلے سے دیگر ایلوکیشنز موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوج کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بالکل اضافہ ہونا چاہیے۔ لیکن اس وقت مہنگائی سبھی کے لیے ایک برابر ہے۔ اس میں پھر سول اداروں کے لیے بھی اضافہ کیا جائے۔ اس میں استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words