امریکہ میں میرے پراسرار قتل کی ’’خبر‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیر کی رات دو بجے کے قریب سونے ہی والا تھا کہ سرہانے رکھے موبائل کی گھوں گھوں نے چونکا دیا۔ فون دیکھا تو میری بیٹی کا پیغام تھا۔ اس کے چند دوستوں نے ایک وڈیو کلپ بھیج رکھی تھی۔ وہ ایک یوٹیوب چینل کا ابتدائیہ تھی جسے ساگر نام کے کوئی بہت ہی سینئر صحافی چلاتے ہیں اور قوم کو اس کے ذریعے پاکستان کے ازلی دشمنوں کی مسلط کردہ ففتھ جنریشن وار کی گھنائونی چالوں سے آگاہ رکھتے ہیں۔ ان کے مستقل صارفین کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو میری دانست میں کافی متاثر کن ہے۔ جٹکے حساب کے مطابق ہر ماہ کم از کم 500 امریکی ڈالر کی آمدنی بھی ممکن بنا سکتی ہے۔

بہرحال دفاعی اور قومی سلامتی امور پر کڑی نگاہ رکھنے والے سینئر ترین صحافی نے میری کوٹ ٹائی والی تصویر لگا کر ’’خبر‘‘ یہ دی تھی کہ ’’ایم کیو ایم‘‘ کے کسی زمانے میں سرکردہ رہ نما رہے ’’نصرت جاوید‘‘ کو امریکہ میں پراسرارانداز میں قتل کردیا گیا ہے۔ میں اپنے قتل کی ’’خبر‘‘ سن کر خوش ہوا۔ یہ جینا واقعتاً کوئی جینا نہیں رہا۔

میں نے جب وہ کلپ دیکھی تو اسے آٹھ ہزار سے زائد لوگ بھی دیکھ چکے تھے۔ اس کے نیچے تبصرہ کرتے ہوئے مگر ایک مہربان نے سینئر ترین صحافی کو اطلاع دی کہ انہوں نے ’’ایم کیو ایم‘‘ کے رہ نما نہیں ’’صحافی نصرت جاوید‘‘ کے قتل کی خبر دی ہے۔ صبح اُٹھ کر وہی کلپ دوبارہ دیکھی تو میرے قتل کی ’’خبر‘‘ وہاں سے ہٹا دی گئی تھی۔ سینئر ترین صحافی کی مہربانی سے گویا میں ابھی تک زندہ ہی ہوں۔ اس کلپ نے مگر شناختی کارڈوں کے حوالے سے جو ’’خبر‘‘ دی تھی وہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ یہ افغان اور بھارتی جاسوسوں کی کارستانیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے سیاست دان جو سہولت کاری فراہم کرتے ہیں اس کا ذکر بھی جذبہ ایمانی کے طیش سے ہوا ہے۔

صبح اُٹھنے کے بعد اخبارات بھی دیکھے۔ مجھے ہمیشہ حسد میں مبتلا کرنے والی خوب صورت نثر لکھنے والے وجاہت مسعود نے اپنے کالم کا آغاز میرے ذکر سے کیا تھا۔ انہیں شبہ ہے کہ لاتعلقی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے بھی میں سوشل میڈیا کی حرکیات پر گہری نظر رکھتا ہوں۔ اُستاد گرامی نے پکڑ لیا ہے تو اعتراف کرنا پڑے گا کہ جب بھی وقت ملتا ہے سوشل میڈیا سے یقینا رجوع کرتا ہوں۔

اصل مقصد اس کا مگر گمراہی کے اس طوفان سے آگاہ رہنا ہے جو سینئر ترین تصور ہوتے صحافیوں کا بہت بڑا گروہ قومی سلامتی کے تحفظ کے نام پر پھیلا رہا ہے۔ تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ روایتی میڈیا کے مقابلے میں یوٹیوب وغیرہ کے ذریعے پھیلائی ’’خبروں‘‘ کو خلقِ خدا کی اکثریت سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کئی دہائیوں سے مسلسل لکھے جا رہا ہوں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ روایتی میڈیا کے لئے لکھی میری دھانسو ترین خبر یا کالم کو نوے ہزار لوگوں نے کبھی نہیں پڑھا ہو گا۔

یہ حادثہ مگر پاکستان ہی میں نہیں ہو رہا۔ امریکہ کا روایتی میڈیا ہمارے ہاں کے مقابلے میں بہت زیادہ معیاری ہے۔ کسی رپورٹر یا کالم نگار کے فراہم کردہ اعدادوشمار کو دیوانگی کی حد تک ڈبل چیک کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کوئی چوک ہو جائے تو اخبارات نہایت خلوص سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ٹھوس حقائق کی یہ نگہبانی بھی کام نہیں آ رہی۔

حال ہی میں امریکہ میں کچھ سروے ہوئے ہیں ان کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے دیرینہ ووٹروں کی مؤثر تعداد شدت سے محسوس کررہی ہے کہ جوبائیڈن نے ٹرمپ سے 2020کا صدارتی الیکشن چرا لیا تھا۔ ایک سروے کے نتائج نے حیران کن انکشاف یہ بھی کیا کہ ٹرمپ کو ووٹ دینے والوں کا 25 فی صد حصہ نہایت شدت سے یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ بالآخر انصاف کا بول بالا ہو گا اور امریکی عدالتیں ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخاب میں کامیاب قرار دیتے ہوئے وائٹ ہائوس بھیج دیں گی۔ اس سروے کی تفصیلات پڑھتے ہوئے میرا سرچکرانا شروع ہو گیا۔

سوشل میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے میں ہرگز یہ پیغام نہیں دینا چاہ رہا کہ میرے اور وجاہت مسعود صاحب جیسے روایتی میڈیا پر تکیہ کرنے والے لکھاریوں کو ہاتھ اٹھا کر شکست تسلیم کر لینا چاہیے۔ غور طلب سوال یہ ہے کہ پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر کے لوگوں کی بے پناہ اکثریت نے روایتی میڈیا پر اعتبار کرنا کیوں چھوڑ دیا ہے۔ فیس بک کے بانی نے اسی سوال پر غور کرتے ہوئے اپنا پلیٹ فار م متعارف کروایا تھا۔ اسے متعارف کرواتے ہوئے یہ حقیقت بھی نگاہ میں رکھی کہ انسانوں میں غصے، نفرت اور تعصبات کا ہجوم جمع رہتا ہے۔ معاشرتی ادب آداب مگر ان کے اظہار کی اجازت نہیں دیتے۔ فرد تنہائی کے خوف سے خاموش رہتا ہے۔ فیس بک یا ٹویٹر پر لیکن آپ غصے اور نفرت کا ڈٹ کر اظہار کریں تو آپ کو فوراً لائیکس اور شیئرز ملنا شروع بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ لائیکس اور شیئرز آپ کو اطمینان دلاتے ہیں کہ میری طرح اور بھی بے تحاشہ لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ یوں آپ کو اپنا ’’قبیلہ‘‘ دریافت ہوجاتا ہے۔ آپ اس کی ہمراہی میں فریقِ مخالفت کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں۔ فیس بک چلانے والی کمپنیاں اس کی بدولت ریکارڈ ساز منافع کمانا شروع ہوجاتی ہیں۔

روایتی اخبار کا اصل حسن صحافت کی وہ قسم ہے جسے Long Form Journalismکہا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ حقائق کا کہانی کی صورت بیان۔ اس اصول کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے گھر آئے اخبار کا جائزہ لیجئے۔ اس کے اولین صفحات سیاستدانوں کے بیانات سے بھرے ہوں گے۔ جو سیاسی جماعت بھی برسراقتدار ہوتی ہے اپنی حکومت کی بابت لوگوں کا جی خوش رکھنے کے لئے 1980 کی دہائی سے ہمارے ہاں اخبارات کو اپنی پسند کی شہ سرخیاں لگانے کو مجبور کرتی ہے۔ غیر جانب داری کا بھرم رکھنے کے لئے اخبارات وہ سرخیاں نمایاں انداز میں چھاپنے کے بعد نام نہاد ’’بیلنس‘‘ کے نام پر حزب مخالف کے سرکردہ رہ نمائوں کے بیانات بھی چھاپنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بیانات کے ذریعے اخباروں کے صفحات پر ’’قبضہ‘‘ مگر سنجیدگی سے غور کریں تو اب کار بے سود ہے۔ کیونکہ جن بیانات کو شہ سرخیوں کے ذریعے اجاگر کیا ہوتا ہے وہ ٹِکروں کی صورت 24/7 چینلوں پر کئی بار چل چکی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹویٹس کی بھرمار بھی ہے۔

اخبارات کو اپنی وقعت اور ساکھ برقرار رکھنا ہے تو انہیں ہر صورت Long Form Journalismکی طرف لوٹنا ہو گا۔ ایسا کرتے ہوئے لازمی نہیں کہ اخبار اپنی موجودہ شکل میں کاغذ کے ذریعے ہی میسر ہو۔ اس کی شکل  Digitalبھی ہوسکتی ہے۔ ’’خبر‘‘ لکھنے کا مگر وہی معیار اور انداز برقرار رکھنا ہو گا جو دہائیوں نہیں صدیوں کی مشقت سے روایتی اخبار نے دریافت کیا تھا۔ سوشل میڈیا فیشن کی ایک لہر کی طرح نمودار ہوا تھا۔ لہر مگر بالآخر گزر جاتی ہے۔ بنیادی حقیقت سمندر ہے جو کبھی ساکت اور کبھی متلاطم نظر آتا ہے۔ اخبارات کو اپنی بقا کی خاطر ’’گہرائی‘‘ سے جڑے رہنا ہو گا۔

بشکریہ: نوائے وقت


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments