EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

جنوبی افریقہ: کرپشن کے ملزم سابق صدر کی گرفتاری پر ہنگامے اور ہلاکتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Local woman uses broom to sweep mess inside looted store

AFP
سویٹو میں مقامی افراد پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے بعد شہر کی صفائی میں مصروف ہیں

جنوبی افریقہ میں سابق صدر جیکب زوما کو جیل میں بند کیے جانے کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد ہنگاموں کی وجہ سے ملک میں ضروری اشیا کی قلت ہو گئی ہے۔

پیٹرول سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہے۔

ملک کی سب سے بڑی ریفائنری نے اپنے عملے اور املاک کو نقصان کے خدشہ کے پیش نظر اپنے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فائر فائٹر اور مقامی حضرات جھاڑو اٹھائے ہنگاموں کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ کو صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق صدر جیکب زوما کی گرفتاری کے بعد مظاہرین نے بیشتر شاپنگ مالز، بینک اور دفاتر لوٹ لیے۔

حکام کے مطابق ان ہنگاموں کے دوران 72 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں وہ دس افراد بھی شامل ہیں جو سویٹو میں شاپنگ مالز میں لوٹ مار کے دوران دھکم پیل کے دوران ہلاک ہو گئے۔

کچھ پیٹرول سٹیشنوں نے پیٹرول کی فراہمی کم کر دی ہے جس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

کرپشن کا الزام، زوما کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا

’جنوبی افریقہ کا سب سے بڑا تماشا؟‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوہانسبرگ میں بھی پیٹرول سٹیشنوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

ہنگامے ناردرن کیپ اور ایمپومالانگا تک پھیل چکے ہیں۔

ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب اناسی سالہ جیک زوما نے توہین عدالت کے جرم میں پندرہ ماہ کی سزا کے لیے خود کو حکام کے حوالے کیا۔

سابق صدر جیک زوما پر الزام ہے کہ انھوں نے بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیق کے دوران عدالتی احکامات کی پیروی نہیں کی اور وہ تحقیقی اداروں کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

جیک زوما اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جیک زوما نے گذشتہ ہفتے اپنے آپ کو کو پولیس کے حوالے کیا جس کے بعد ان کے صوبے آبائی صوبے کوازولو نتال میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔ موقع پرستوں نے بھی حالات کا فائدہ اٹھایا اور لوٹ مار شروع کر دی۔

کوازولو نتال سے شروع ہونے والے پرتشدد مظاہرے جوہانسبرگ سمیت دوسرے شہروں تک پھیل گئے۔

صدر سرل راما فوسا نے پرتشدد مظاہروں کو نوے کی دہائی کے نسل پرستی کے خلاف مہم کے بعد سے سب سےبدترین احتجاج قرار دیا ہے۔

حکومت نے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کیا لیکن لوٹ مار کے واقعات میں کوئی واضح فرق نہیں پڑا ہے۔

ڈربن میں بی بی سی نے ایک واقعے کو فلم کیا ہے جس میں ایک جلتی ہوئی عمارت کی پہلی منزل سے ماں اپنے بچے کو نیچے پھینک رہی ہے ۔ نیچے موجود لوگوں نے بچے کو کیچ کر لیا تھا۔ بچہ اور ماں دونوں بخریت ہیں اور آپس میں مل چکے ہیں۔

جنوبی افریقہ کی پولیس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بارہ ایسے لوگوں کی نشاندہی کی ہے جو لوگوں کو پرتشدد کارروائیوں پر اکسا رہے تھے۔ پولیس نے 1234 لوگوں کو ہنگامے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

ایک مقامی نیوز سائٹ نے کوازولو نتال کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں پیٹرول کے حصول کے لیے گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

https://twitter.com/ewnreporter/status/1415232427992223744?s=20


لوٹ مار کے بعد صفائی شروع

نوموسا ماسیکو، بی بی سی نیوز

ڈربن میں کئی روز تک جاری رہنے والی لوٹ مار کے بعد کاروبار مالکان اپنے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔

عام حالات میں ڈربن ایک انتہائی مصروف شہر ہے۔ اب دوکانوں میں جوتوں کے خالی ڈبے اور ٹوٹے ہوئے برتن بکھرے پڑے ہیں۔

فائر بریگیڈ کا عملہ بھی شہر کی صفائی میں ہاتھ بٹانے کے لیے آگے آیا ہے۔

مقامی لوگ بھی جھاڑو اٹھا کر صفائی میں مصروف ہیں اور وہ بچ جانے والے سامان کو لوٹنے کے لیے آنے والوں کو بھی منع کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19934 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp