کاسنی رنگ کا آدمی

بہا الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں تین ہی سال گزارے لیکن سچ پوچھیے تو ان تین برسوں میں کئی زندگیاں جینے کا موقع ملا۔ کسی روز ان خواب ناک ایام کی مفصل روداد لکھنے کی کوشش کروں گا، جنہوں نے نہ صرف مجھے میرے ہونے کا التباس فراہم کیا، بلکہ نہ ہونے کا آگہی بھی دی۔ میری یادوں کی زنبیل میں ایک نہیں، ہزاروں پوٹلیاں ہیں جن پر زکریا یونی ورسٹی کا نام لکھا ہے۔ ان میں سے ایک پوٹلی ذکرین لٹریری فورم کی بھی ہے۔

سن دو ہزار چھ اس حوالے سے بہت اہم سال تھا کہ یونی ورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈرامیٹک، ڈبیٹنگ اور لٹریری سوسائٹیوں کا اجراء ہوا۔ انہی دنوں ماس کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا، تو معلوم ہوا شعبہ اردو کے زیر اہتمام ذکرین لٹریری فورم کے ہفتہ وار اجلاس منعقد ہو رہے ہیں، جس کی نائب صدر میری ہی ایک سادہ لوح کلاس فیلو ہیں، جو ”ادب“ کو ”احترام“ سے زیادہ کچھ بھی سمجھنے کی اہل نہیں، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ احترام کو بھی دینے کے بجائے لینے کی چیز سمجھتی ہیں۔

کلاس فیلو مذکورہ ملتان کے ایک نام ور صحافی کی صاحب زادی تھیں، جن کے نام پر چار عدد اخبارات اور دو عدد میگزین رجسٹرڈ تھے، جن میں سے کوئی ایک بھی باضابطہ طور پر شائع نہیں ہوتا تھا، تاہم کسی سرکاری افسر یا سیاست دان سے ناراض ہو جاتے تو اگلے دن ان تمام اخبارات اور میگزینز کا ایک خصوصی ایڈیشن شائع کرتے، جس کا مواد اتنا گرما گرم اور چٹ پٹا ہوتا کہ پڑھنے والے کو یوں لگتا جیسے وہ اخبار نہ پڑھ رہا ہو، اندرون حرم گیٹ کے تکے نوش کر رہا ہو۔

یونی ورسٹی انتظامیہ پر بھی ان کا کافی رعب تھا۔ میری کلاس فیلو ایک سادہ لوح خاتون ضرور تھیں، لیکن اپنے والد کے مقام و مرتبے سے بھی آگاہ تھیں، چناں چہ جب چاہتیں چائے کی کیتلی میں طوفان کھڑا کر دیتیں (جو اکثر اتنا شدید ہوتا کہ چیئرمین صاحب کی دوڑیں لگ جاتیں )۔ انہی محترمہ کے اصرار پر پہلی بار ذکرین لٹریری فورم جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے یاد ہے انہوں نے ”یوم آزادی کی شرعی اہمیت“ پر ایک نہایت طویل مضمون برائے تنقید پیش کیا، جو ایک روز قبل انہی کے نام سے ملتان کے ایک معروف روزنامے میں شائع ہوا تھا۔

انہوں نے بچوں کی طرح اٹک اٹک کر مضمون پڑھا، لیکن مضمون کا معیار اتنا پست تھا کہ خالد سعید جیسا نرم خو اور برادرانہ مزاج کا حامل نقاد بھی ان کی پڑھت کے علاوہ کسی چیز کی تعریف نہ کر پایا۔ اغلب امکان ہے کہ میں دوبارہ کبھی وہاں کا رخ نہ کرتا، لیکن اسی روز ساحر شفیق نے اپنی نظم ”بے چارا سٹیفن“ برائے تنقید پیش کی، تو پہلے تاثر کی تمام کڑواہٹ زائل کردی۔ اجلاس کے خاتمے کے بعد ساحر شفیق سے ایک طویل ملاقات ہوئی، اور ایک ایسی رفاقت اور محبت کی بنیاد پڑی جو پندرہ سال گزرنے کے باوجود، آج بھی اسی حدت، حرارت اور روشنی سے فروزاں ہے۔

منگل یا جمعرات کے روز، سہ پہر چار بجے فورم کا اجلاس ہوتا۔ میں ایوننگ کا طالب علم تھا، چنانچہ آخری کلاس چھوڑنی پڑتی۔ پروئم، عدنان صہیب، بشریٰ رفیق، شمائلہ نورین، سجاد نعیم، منور آکاش، ساحر شفیق، خاور نوازش، حماد رسول، فرتاش سید، محمد انیل اور ظفر حسین ہرل باقاعدگی کے ساتھ ان اجلاسوں میں شریک ہوتے اور اپنی تصانیف پیش کرتے۔ فیکلٹی میں سے خالد سعید، عبدالباسط صائم اور تنویر تابش کم وبیش ہر اجلاس میں موجود ہوتے، جبکہ ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر قاضی عابد، ڈاکٹر امین اور ریحان اقبال بھی کبھی کبھار تشریف لے آتے تو حاضرین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا۔

انہی دنوں کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر فورم کو شعبہ اردو سے سرائیکی ایریا سٹڈی سینٹر میں منتقل کر دیا گیا، جس کے سربراہ ڈاکٹر علمدار حسین بخاری تھے۔ اس تبدیلی کا نقصان یہ ہوا کہ شعبہ اردو کے اساتذہ اور طلبا و طالبات نے آنا چھوڑ دیا۔ فائدہ یہ ہوا کہ محلاتی سازشیں کم ہو گئیں اور تحریروں کے ساتھ ساتھ تنقید کا معیار بھی بہتر ہو گیا۔ ساحر شفیق، عدنان صہیب، بشریٰ رفیق اور سجاد نعیم مقام کی تبدیلی کے باوجود بھی زیڈ ایل ایف کے اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے۔ سرائیکی ڈیپارٹمنٹ سے کبھی کبھار عمران میر اور ان کے کچھ دوست تشریف لے آتے۔ انہی دنوں مدھر ملک، اقراء توقیر، قاضی علی، وقار احسن، اشتیاق سحر اور چند دیگر ساتھیوں نے فورم جوائن کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سب سے ریگولر ممبرز بن گئے۔

ساحر شفیق کی طرح ڈاکٹر علمدار حسین بخاری سے پہلی ملاقات بھی زیڈ ایل ایف ہی کے ایک اجلاس میں ہوئی۔ لوگو سینڑزم، ڈی کنسٹرکشن، تہذیبی اضافیت، پس ساختیات، اور پس نوآبادیات جیسی دقیق اصطلاحات، پہلی بار انہی کے منہ سے سنیں۔ اچھی بات یہ تھی کہ جس ٹرم کا تذکرہ کرتے، اسے اپلائے کر کے بھی دکھاتے۔ ان کے پاس نوجوانوں کو لے کر کافی سپیس تھی۔ میں نے انہیں ایک خوش مزاج، ملنسار، شفیق اور دوستانہ مزاج کا حامل فرد پایا، جس کی موجودگی اعصاب پر مسلط ہونے کے بجائے انہیں شانت کر دیتی۔

آدمی سید ہو، جنوبی پنجاب کا رہائشی ہو، اور انا پسند نہ ہو، یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ بخاری صاحب بھی انا پسند تھے، مگر ان کی انا پسندی خارج کے بجائے اندرون کی جانب نفوذ کر گئی تھی، جو انہیں ایک خاص طرح کی عاجزی اور انکساری عطا کرتی۔ اپنے ایم فل کے کلاس فیلو اور ایم۔ اے کے استاد، حسن شیرازی کی زبانی معلوم ہوا وہ سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے استاد اور چیئرمین بھی رہ چکے ہیں تو کافی حیرت ہوئی۔ بخاری صاحب سے تائید چاہی تو انہوں نے فخر سے چھاتی پھلانے یا سینہ اکڑانے کے بجائے انکساری سے کام لیا۔

اردو کا استاد سرائیکی اور پنجابی پڑھائے، یہ تو سمجھ آتا ہے، مگر صحافت کے طالب علموں کو لیکچر دے اور مطمئن بھی کر لے، یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ میرے جیسا کوئی ہلکٹ ہوتا تو اپنی شان میں قصیدے لکھوا کر یونی ورسٹی کی دیواروں پر چپکا دیتا۔ انہوں نے مگر کچھ ایسے تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا، جیسے یہ معمول کی بات ہو۔ وہ ایک عالی ظرف آدمی تھے۔ ایک بار میں اور پروئم ان سے کسی بات پر ناراض ہو گئے تو انہوں نے ہمیں دل کی بھڑاس نکالنے دی، یہاں تک کہ ہمارا غصہ رفع ہو گیا۔

ان کی رائے ہم سے مختلف تھی۔ ہم خاموش ہوئے تو انہوں نے اپنا نقطہ نظر بیان کیا مگر اسے ہم پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے پاس اختلافی آوازوں کو سننے اور برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی، جو انہیں اپنی عمر کے دیگر افراد سے ممتاز کرتی تھی۔ طالب علموں اور نوجوانوں کی جانب ان کا یہی رویہ تھا مگر اپنے کسی ہم عصر یا سینئر سے پیچا پڑ جاتا تو اندر کا انا پسند اور ضدی آدمی باہر نکل آتا۔ وہ ردعمل اور مزاحمت کے آدمی نہیں تھے، لہٰذا جب کبھی اس میدان میں اترے، حریف سے زیادہ ان کا اپنا نقصان ہوا۔

بخاری صاحب غضب کے جملہ باز تھے، لیکن تعلق اور جملہ ٹکرا جاتے تو جملہ قربان کر دیتے۔ معلوم نہیں وہ کاملیت پسند تھے یا سہل پسند کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرنے میں ایک تہائی سروس گنوا دی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس تاخیر کے پیچھے ان کے دوستوں یا اساتذہ کی کرم نوازی ہو۔ ان کو دیکھ کر ایک عجیب سی مانوسیت کا احساس ہوتا۔ یوں لگتا جیسے ان سے پہلے بھی کہیں ملاقات ہو چکی ہو۔ وہ ان معدودے چند استادوں میں سے تھے جنہیں اپنے پیشے کو لے کر کوئی احساس برتری یا کمتری نہ تھا۔

اب تو زندگی نے کافی حد تک سدھا لیا ہے، مگر ان دنوں میرے اندر کا وحشی جانور پوری طرح سے باہر آیا ہوا تھا۔ مجھے گھروں، تنگ عمارتوں، بند کمروں اور اساتذہ کے دفتروں میں ایک عجیب سی وحشت کا احساس ہوتا۔ یوں لگتا جیسے کوئی میرا گلا دبا رہا ہو۔ ڈاکٹر شہزاد علی اور پروفیسر خالد سعید کے بعد وہ تیسرے استاد تھے، جن کے دفتر میں بیٹھ کر یوں محسوس ہوا، جیسے میں کسی ڈھابے یا پارک میں بیٹھا ہوں، اور یہ احساس مجھے ذہنی طور پر ان کے بہت قریب لے آیا، لیکن میں کبھی اس کا اظہار نہ کر پایا۔

وہ مکیش، طلعت محمود اور رفیع کے گیتوں کی طرح دھیمے مزاج کے آدمی تھے۔ سادگی ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں جزو تھا مگر یہ کوئی روکھی پھیکی یا بے رنگ قسم کی سادگی نہ تھی، بلکہ اس میں مقامی دانش، ترقی پسندی اور ناسٹیلجیا کے نیلے، سرخ اور مٹیالے رنگوں کی آمیزش سے ایک ایسا کاسنی رنگ وجود میں آتا، جو ان کی ذات کو تشنہ محبت اور زخمی آدرش کا استعارہ بنا دیتا۔ جب وہ اپنی سات نمبر کی عینک کے دبیز شیشوں سے جھانکتے تو یوں لگتا جیسے کسی بچھڑے ہوئے محبوب کو یاد کر رہے ہوں۔

میں نے ہمیشہ ان کو ایک سے زائد لمحوں میں جیتے دیکھا۔ وہ جہاں موجود ہوتے، وہاں تو موجود ہوتے ہی تھے، لیکن ان کی ذات کا ایک حصہ اس سے بھی کہیں زیادہ وارفتگی اور شدت کے ساتھ کسی اور لمحے میں موجود ہوتا تھا۔ غالباً انہی دنوں میں نے ان کے ادھورے ناول کا پہلا باب پڑھا۔ اس وقت مجھے ان کا اسلوب اور کردار نگاری بہت پسند آئی تھی، لیکن یہ سوچ کر دکھ بھی ہوا تھا کہ آخر وہ کون سی اڑچن ہے، جو انہیں اپنی ہی شروع کی ہوئی کہانیوں کو پورا نہیں کرنے دیتی۔

سن دو ہزار نو میں میری نوکری ہو گئی تو میں ڈگری ادھوری چھوڑ کر لاہور چلا گیا، مگر میری ذات کا ایک حصہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں ہی اٹکا رہا، جسے اپنی شروع کی ہوئی کہانیوں کو پورا کرنا تھا۔ وہ کہانیاں کبھی مکمل نہیں ہو پائیں۔ علمدار بخاری صاحب سے آخری ملاقات ذکرین لٹریری فورم ہی کے ایک اجلاس میں ہوئی تھی۔ چند سالوں بعد اپنی تلاش میں یونی ورسٹی کا رخ کیا تو نہ ذکرین لٹریری فورم رہا تھا، نہ بخاری صاحب۔

قاضی علی نے بتایا احمد ندیم تونسوی کی طرح بخاری صاحب بھی اسلام آباد کو پیارے ہو گئے ہیں۔ کچھ دیر کیمپس میں ٹہل خرامی کی۔ ہر رنگ کا آدمی دکھائی دیا، لیکن جس رنگ کی تلاش تھی، وہ کہیں نہ تھا۔ سرائیکی ایریا سٹڈی سینٹر کے پاس سے گزرنے لگا تو اچانک کاسنی رنگ کا ایک ادھیڑ عمر آدمی دکھائی دیا، جس نے عشق اور کام دونوں کو ادھورا چھوڑ کر کہانیاں لکھنے کی ٹھانی تھی، اور ایک دن وہ کہانیاں بھی ادھوری چھوڑ دی تھیں۔ میں تیزی سے اس کی جانب لپکا، لیکن جب اس کے قریب پہنچا تو انکشاف ہوا، میں اپنا ہی عکس دیکھ رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words