EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

عظمت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی ملقب بہ فاروق پیدائش: 586 ء تا 590 ء کے درمیان مکہ میں۔ وفات: 6 نومبر، 644 ء مدینہ میں خلیفہ راشد، محمد ﷺ کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634 ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13 ہ کو مسند خلافت سنبھالی

حضرت عمر بن خطاب ایک با عظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

قریش کے سربرآوردہ اشخاص میں ابو جہل اور حضرت عمر ؓ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، اس لیے آنحضرت ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لیے اسلام کی دعا فرمائی :اللھم اعزالاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام واما عمر بن الخطاب یعنی خدایا اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب سے معزز کر، مگر یہ دولت تو اقسام ازل نے حضرت عمر ؓ کی قسمت میں لکھ دی تھی، ابو جہل کے حصہ میں کیونکر آتی؟ اس دعائے مستجاب کا اثر یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا، یعنی حضرت عمر ؓ کا دامن دولت ایمان سے بھر گیا

حضرت عمرؓ کا زمانہ خلافت اسلامی فتوحات کا دور تھا جس میں اسلامی سلطنت کی حدود 22 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔

آپ نے دو بڑی طاقتوں ایران اور روم کو شکست دی، بیت المال کا شعبہ فعال کیا، اسلامی مملکت کو صوبوں اور اضلاع میں تقسیم کیا، عشرہ خراج کا نظام نافذ کیا اور پولیس کا محکمہ قائم کیا۔

’ ایک دفعہ حضور پرنور ﷺ احد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر ؓ، عمرؓ اور عثمان ؓ بھی تھے، احد کا پہاڑ لرزنے لگا تو حضور انور ﷺ نے اپنا قدم مبارک احد پر مارتے ہوئے فرمایا: ”اے احد! ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ: ”اللٰھم ارزقنی شھادۃ فی سبیلک وموتا فی بلد حبیبک“ ۔ ”اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا اور موت آئے تو تیرے حبیب ( ﷺ ) کے شہر میں آئے۔“

آخری ایام حیات میں آپؓ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں، آپؓ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا کہ میری موت کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے، اس وقت ایک درہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا اور سونے والے کو اپنے درہ سے جگاتے تھے، مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔

اس روز بھی آپؓ نے ایسا ہی کیا، نماز ویسے ہی آپؓ نے شروع کی تھی، صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ (فیروز) جو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا، اس نے آپؓ کے شکم مبارک میں تین زخم کاری اس خنجر سے لگائے، آپؓ بے ہوش ہو کر گر گئے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر بجائے آپؓ کی امامت کے مختصر نماز پڑھ کر سلام پھیرا، ابولؤلؤ نے چاہا کہ کسی طرح مسجد سے باہر نکل کر بھاگ جائے، مگر نمازیوں کی صفیں مثل دیوار کے حائل تھیں، اس سے نکل جانا آسان نہ تھا، اس نے اور صحابیوں ؓ کو بھی زخمی کرنا شروع کر دیا، تیرہ صحابی زخمی، جن میں سے سات جاں بر نہ ہو سکے، اتنے میں نماز ختم ہو گئی اور ابولؤلؤ پکڑ لیا گیا، جب اس نے دیکھا کہ میں گرفتار ہو گیا تو اسی خنجر سے اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا تاریخ عالم نے ہزاروں جرنیل پیدا کیے، لیکن دنیا جہاں کے فاتحین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے طفل مکتب لگتے ہیں اور دنیا کے اہل انصاف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عدل پروری کو دیکھ کر جی کھول کر ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔

امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ: ”عمر ( رضی اللہ عنہ ) مراد رسول ( ﷺ ) ہے۔“ یعنی دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مرید رسول ( ﷺ ) ہیں اور عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مراد رسول ( ﷺ ) ہیں۔ ایک عالم نے کیا خوب کہا کہ: ”عمرؓ پیغمبر اسلام ﷺ کے لیے عطائے خداوندی تھے۔“ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علمائے اسلام، حکمائے اسلام اور مستشرقین نے اپنے اپنے لفظوں میں بارگاہ فاروقی میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ وہ عظیم ہستی ہیں جو ایک خلیفہ، سپہ سالار، منتظم، مسلمانوں کے ہمدرد اور سب سے بڑھ کر خاتم الانبیاء تاجدار انبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بہت پیارے تھے۔ ایک فاتح اور حاکم کی حیثیت سے آپ نے ایسے ایسے عظیم کارنامے انجام دیے ہیں کہ دنیا آج بھی ان کی مثالیں دیتی ہے، آپ نے انصاف کے وہ اعلیٰ معیار مقرر کیے کہ آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک ان قوانین پر عمل کرتے ہوئے معاشرے میں امن و سکون پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ظالموں کے لیے نہایت اور مظلوموں کے لیے نہایت نرم تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ امیر المومنین لگاتار روزے رکھتے تھے، وہ آدھی رات کے وقت نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو دار ارقم میں موجود مسلمانوں نے اس زور سے تکبیر بلند کی کہ اسے تمام اہل مکہ نے سنا۔ میں نے دریافت کیا، یارسول ا اللھﷺ، کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا:کیوں نہیں، یقیناً ہم حق پر ہیں، میں نے عرض کیا، پھر ہم پوشیدہ کیوں رہیں؟ چناں چہ وہاں سے تمام مسلمان دو صفیں بنا کر نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہؓ اور ایک میں، میں تھا۔ جب ہم اس طرح مسجد الحرام میں داخل ہوئے تو کفار کو سخت ملال ہوا۔ اس دن سے رسول کریم ﷺنے مجھے فاورق کا لقب عطا فرمایا، کیوں کہ اسلام ظاہر ہو گیا اور حق و باطل میں فرق نمایاں ہو گیا۔

حضرت علیؓ کا ارشاد ہے، عمرؓ کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں جس نے علانیہ ہجرت کی ہو۔ جس وقت حضرت عمرؓ ہجرت کے ارادے سے نکلے، آپ نے تلوار کی میان شانے پر لٹکائی اور تیر پکڑ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ پھر وہاں موجود کفار قریش میں سے ایک ایک فرد سے الگ الگ فرمایا، تمہاری صورتیں بگڑیں، تمہارا ناس ہو جائے، ہے کوئی تم میں جو اپنی ماں کو بیٹے سے محروم، اپنے بیٹے کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ آئے اور پہاڑ کے اس طرف آ کر مجھ سے مقابلہ کرے۔ میں اس شہر سے ہجرت کر رہا ہوں۔ ”کفار کو آپ کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔

آقا و مولیٰ ﷺکا ارشاد ہے :اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہی ہوتے۔ حضرت ابو سعید ؓسے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے عمر ؓسے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمرؓ سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اللہ رب العزت نے (یوم عرفہ) اہل عرفہ پر عموماً اور حضرت عمرؓ پر خصوصاً فخر و مباہات فرمایا، جتنے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محدث ضرور ہوا ہے، اگر میری امت کا کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہیں

بالآخر آپ کی دعائے شہادت کو حق تعالیٰ نے قبول فرمایا اور دیار حبیب ﷺ میں بلکہ مصلائے رسول ( ﷺ ) پر آپ کو 27 ذوالحجہ بروز چہار شنبہ (بدھ) زخمی کیا گیا اور یکم محرم بروز یک شنبہ (اتوار) آپ رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک تریسٹھ برس تھی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور خاص روضۂ نبوی ﷺ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ ؓ کی قبر بنائی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے