سوشل میڈیائی بریگیڈ، کامیاب خواتین اور ابدی زندگی

ایک مشہور پروفیسر ہیں جن کی وجہ شہرت انتہائی قابل سرجن ہونے کے ساتھ انتہائی شفیق استاد، mentor اور مووٹیویشنل اسپیکر کی بھی ہے۔ ان کی دی تعلیم اور تربیت کی بدولت سینکڑوں شاگرد  طب کے مختلف شعبوں میں اپنا اور ان کا نام روشن کر رہے ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر سات خواتین کے ساتھ انکی ایک تصویر نظر سے گزری جو انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے شئیر کی، اور لکھا کہ یہ سات سرجن خواتین جن کا میں سپروائزر اور بابا ہوں، ان میں سے چھ میری بیٹیاں اور ساتویں بہو ہے۔
خود ڈاکٹر ہونے اور ڈاکٹر فیملی کا فرد ہونے کی حیثیت سے اس تصویر کو دیکھ کر فطری طور پر بے انتہا خوشی  کے ساتھ فخر بھی محسوس ہوا کہ استاد محترم واقعی قابل تقلید انسان ہیں کہ تمام بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دی اور معاشرے کے لئے کارامد شہری بنانے میں اپنا اہم رول ادا کیا۔
اور ساتھ ہی اپنے اردگرد بہت سے ڈاکٹر گھرانے یاد آ گئے، جن کی روایت رہی کہ بچوں کا ڈاکٹر بننا اور پھر والدین کے شعبے کا ہی انتخاب کرنا۔
دعائیہ کمنٹس کرتے ہوئے،بے دھیانی میں پوسٹ کے کمنٹس پر نظر پڑی۔
استاد محترم کے شاگردوں کی ایک لمبی فہرست جو اپنے دعائیہ کلمات کا اظہار کر رہے تھے۔
اور پھر ایک فہرست ذہنی پسماندگی اور پستی کا شکار،کم علم کم فہم لوگوں کی،
جن کے کمنٹس یہ تھے کہ،
کیا فائدہ ایسی تعلیم کا کہ سر ڈھانپنا بھی نہ سکھایا۔
اتنی تعلیم سے بہتر تھا کہ پردہ کرنا سیکھ لیتیں، آخرت سدھر جاتی۔
تعلیم یافتہ ہوتیں تو باپ کے سامنے ننگے سر نہ بیٹھتیں۔
میں نے دانستہ طور پر کچھ لوگوں کے پروفائل کھول کر دیکھے اور بہت حد تک” کینے اور بغض ” کی وجہ بھی سمجھ آ گئ۔
بات صرف ان استاد محترم اور ان کے گھرانے کی نہیں، جب بھی کسی کی کامیابی خبروں کی زینت بنے، خاص طور پر اگر کوئی خاتون ہو، تو یہ دنیاوی زندگی میں انتہائی ناکام  سوشل میڈیائی بریگیڈ فورا اسے ابدی زندگی کی حقیقت بتانے پہنچ جاتے ہیں۔
یہ سب کچھ تو عام پاکستانی کامیاب لوگوں، بالخصوص خواتین کے ساتھ ہوتا ہے، تو بیچاری ملالہ کس کھیت کی مولی ہے۔
من الحیث القوم ہمارا مزاج بن چکا ہے کہ اپنی نااہلی، ناکامی، نااسودگی اور محرومی  کا ذمہ دار ہر اس شخص کو سمجھا جائے جو اہل، کامیاب اور آسودہ ہے۔ اور پھر اپنی کم ظرف فطرت کا منفی زہر اس پر انڈیلنے کی کوشش کی جائے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔
Comments - User is solely responsible for his/her words