EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ارنیسٹ شیکلٹن کے لاپتہ جہاز کو تلاش کرنے کی ایک نئی کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


Endurance

RGS

یہ شاید گم ہو جانے والے بحری جہازوں میں سب سے زیادہ معروف جہاز ہے جس کا سراغ یا باقیات نہیں مل سکی ہیں۔ اینڈیورنس نامی یہ بحری جہاز انٹارکٹک ایکسپلورر ارنسٹ شیکلٹن کا تھا اور 1914 – 1917 میں ویڈل سمندر میں کھو گیا تھا۔

بہت سے لوگوں نے اسے تلاش کرنے کا سوچا ہے، کچھ نے کوشش بھی کی ہے۔ لیکن اس خطے میں سمندری برف کی وجہ سے سفر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر جان شیئرز اور ان کے ساتھی اس حوالے سے پرعزم ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے ان کا آخری مشن ناکام رہا تھا مگر وہ اب پھر اسی کاوش کو لوٹنے لگے ہیں۔

اپنی گذشتہ کوشش میں ناکامی کے بعد انھوں نے جہاز تلاش کے لیے اپنا سامان تبدیل کیا ہے۔ ٹیم اس بار مختلف قسم کی آبدوزوں کی مدد لے گی۔

Ship

Weddell Sea Expedition 2019

اگر ان کی ٹیم اینڈیورنس کی تلاش میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ اس کا نقشہ بنائیں گے اور اس کی تصویریں بنائیں گے، لیکن وہ کوئی نوادرات واپس نہیں لائیں گے۔

ارنیسٹ شیکلٹن کا جہاز تاریخی اہمیت کا حامل مقام ہے اور اسے انٹارکٹک کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت ایک یادگار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ اسے کسی بھی طرح سےچھیڑا نہیں جا سکتا۔

ڈاکٹر شیئرز کہتے ہیں کہ ‘یہ جہاز ایک آئیکون بن گیا ہے۔ شیکلٹن کی زندگی کی جنگ ایک ایسی کہانی ہے جو ہر دور میں مقبول رہی ہے۔ اور جن تباہ ہو جانے والے جہازوں کا پتا نہیں چل سکا ہے ان میں یہ سب سے مشہور ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا ‘اگر ہم اس کی نشاندہی کر سکے تو ہم اس کا معائنہ کریں گے اور لیزرز کا استعمال کرتے ہوئے اس کا تفصیلی 3D سکین بنائیں گے۔ اور ہمیں امید ہے کہ اُس وقت ہم یہ سب نشر کریں گے۔

Shackleton map

BBC

ارنیسٹ شیکلٹن کے جہاز کی کہانی

اینڈیورنس 10 ماہ سے زیادہ عرصے تک سمندری برف میں پھنسا رہا تھا۔ اور اس کا عملہ کس طرح پیدل اور کشتیوں سے جان بچا کر لوٹا، یہ اب ایک لیجنڈ بن چکا ہے۔

اینڈیورنس کہاں ڈوبا تھا، یہ مقام سب کو معلوم ہے۔ کپتان فرینک وسلی نے اس مقام کی نشاندہی سیکسٹنٹ اور تھیوڈولائٹ کی مدد سے نوٹ کی تھی۔

لیکن جزیرہ نما انٹارکٹک پر واقع لارسن آئس شیلف کے بالکل مشرق میں، ویڈل سمندر کے اس حصے تک پہنچنا جدید جہازوں کے لیے بھی انتہائی مشکل ہے۔

Ship

Weddell Sea Expedition 2019

ڈاکٹر شیئرز اور ساتھی 2019 میں یہاں تک پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے جنوبی افریقہ سے رجسٹرڈ ریسرچ جہاز، اگولہس II کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے ایک خود مختار زیر آب گاڑی (اے یو وی) استعمال کی تھی لیکن 20 گھنٹے زیرِ آب رہنے کے بعد اس گاڑی کا سطح پر موجود جہاز سے رابطہ ختم ہو گیا۔

اس نئے مشن کو فاک لینڈز میری ٹائم ہیریٹیج ٹرسٹ نے مالی وسائل فراہم کیے ہیں۔ اسے برطانوی دفترِ خارجہ سے اجازت کی ضرورت ہو گی، لیکن اگر یہ سب ہو جاتا ہے تو ’انڈیورنس 22‘ ٹیم اگلے سال فروری میں انٹارکٹک میں ہونے کی امید کرے گی۔

Sabretooth

Saab

ڈاکٹر شیئرز سمندری آثار قدیمہ کے ماہر مینسن باؤنڈ کے ساتھ ایک ڈویلپمنٹ محقق کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان دونوں کو شیکلٹن کے جہاز کے بارے میں سے زندگی بھر تجسس رہا ہے۔

پچھلی دفعہ کی طرح وہ اگولہاس آبدوزوں کو دوبارہ استعمال کریں گے کیونکہ اس کے ماہرین پر انھیں اعتبار ہے۔

آخری بار، ان آبدوزوں کے ماہرین امریکی برطانیہ کی کمپنی اوشین انفینٹی سے آئے تھے۔ یہ کمپنی دوبارہ ٹیم کا حصہ ہے لیکن وہ اس مرتبہ ایک مختلف قسم کی ‘صاب سبریتوتس‘ کی آبدوزیں استعمال کرے گی۔

یہ روبوٹ گہرے پانی میں کام کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، اور طویل وقت تک زیرِ آب رہ سکتی ہیں اور انھیں ریموٹ کے ذریعے یا ایک فائبر آپٹک تار کے ذریعہ کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔

ویڈل سمندر میں ایک مشکل وہاں برف کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے آج تک کوئی بھی اس جہاز کو تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

Agulhas

Weddell Sea Expedition 2019

اس مشن میں کسی قسم کی کامیابی کے لیے آپ کو سیٹلائٹ کے ذریعہ حاصل کردہ ریڈار امیجری کی ایک مستقل فیڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینڈورینس 22 کو جرمنی کی خلائی ایجنسی ٹیراسر ایکس پلیٹ فارم سے برف کے نقشے ملیں گے۔

ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ جہاز کی موجودہ شکل کیا ہو گی۔ پانی اتنا گہرا ہے کہ کسی گزرنے والے برف کے ٹکڑے سے نقصان ہونے کا امکان نہیں ہے اور خطے میں سیڈیمنٹیشن یعنی تلچھٹ کی شرح اتنی کم ہے کہ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ جہاز کی لکڑی اب بھی سمندر میں کھڑی ہو گی۔

مگر ایسا ہو سکتا ہے کہ جہاز کے ٹکڑے ایک بہت وسیع حصے تک پھیل چکے ہوں۔ ڈاکٹر شیئرز نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’سچ یہ ہے کہ ہم واقعی میں نہیں جانتے کہ اس کی کیا حالت ہو گی۔‘

’ہم جانتے ہیں کہ جہاز کی لکڑی کو تباہ کرنے والے بورنگ مولسکس انٹارکٹک کے ٹھنڈے پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ لیکن آپ کو لکڑی میں کاربن کا ایک بہت بڑا ذخیرہ مل جاتا ہے لہذا ہو سکتا ہے کہ اس کے اندر کوئی چیزیں رہتی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی نئی قسم کا جاندار دریافت کر لیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19983 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp