’دا پیگاسس پراجیکٹ‘: لیک نمبروں کی فہرست میں شہزادی لطیفہ اور شہزادی حیا کے نمبر بھی شامل

انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ‘فوربڈن سٹوریز’ کو جن 50 ہزار نمبروں پر مشتمل ریکارڈ تک رسائی ملی ہے اس فہرست میں دبئی کی دو شہزادیوں کے زیرِ استعمال رہنے والے فون نمبر بھی شامل ہیں۔

شہزادی لطیفہ اور شہزادی حیا بنت الحسین کے نمبر ‘پرسن آف انٹرسٹ’ یعنی اہمیت رکھنے والی شخصیت کے طور پر منتخب کیے گئے تھے۔

شہزادی لطیفہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی ہیں اور شہزادی حیا بنت الحسین ان کی سابقہ ​​اہلیہ ہیں۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم، دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ وہ دبئی کے حکمران ہونے کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے نائب صدر بھی ہیں۔

واضح رہے کہ اس فہرست میں نمبر موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس شخص کو پیگاسس کے ذریعہ ہیک کیا گیا ہو یا ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ یہ فہرست ان افراد کا تعین کرتی نظر آتی ہے جن کو ‘پرسن آف انٹرسٹ’ کے طور پر منتخب کیا گیا ہو۔

تاہم اس فہرست میں شامل افراد میں سے چند کے موبائل فونز کا تجزیہ کیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ انھیں بعد میں پیگاسس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

فروری کے وسط میں بی بی سی پینورما نے شہزادی لطیفہ کی ایک خفیہ ویڈیو نشر کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے اور انھوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا تھا۔

اسی دوران شہزادی حیا 2019 میں یہ کہتے ہوئے دبئی سے فرار ہوگئی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ان دونوں خواتین کے الزامات کی تردید کی تھی۔

واٹس ایپ

Getty Images

ان دونوں کے نمبر بظاہر ان 50 ہزار افراد کے فون نمبروں کی فہرست میں شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں اسرائیلی نجی کمپنی این ایس او کے جاسوسی کے سافٹ ویئر ‘پیگاسس’ کو استعمال کرتے ہوئے نگرانی اور جاسوسی کا ہدف بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی جاسوس سافٹ ویئر این ایس او کی مدد سے صارف کسی بھی فون نمبر کے ذریعہ اپنے ممکنہ ہدف کے فون تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اس کی مدد سے فون کے تمام ڈیٹا کو حاصل کر سکتا ہے اور فون استعمال کرنے والے کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔

یہ فہرست دنیا کے بڑے بڑے اخبارات نے شائع کی تھی۔

اس فہرست میں شہزادیوں اور ان کے جاننے والوں کے فون نمبر سامنے آنے پر کئی افراد یہ سوال اٹھا رہے کہ کیا وہ حکومت سے تعلق رکھنے والے کسی صارف کا ممکنہ ہدف ہوسکتی ہیں؟

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ این ایس او گروپ انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب ہوا ہے جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی نے’بغیر نگرانی کے جاسوسی‘ کی صنعت کو لگام دینے کے لیے ضابطوں کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

این ایس او نے کسی بھی قسم کی غلطی کی تردید کی ہے۔

این ایس او کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف استعمال کے لیے بنایا گیا ہے اور یہ صرف انسانی حقوق کا اچھا ریکارڈ رکھنے والے فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کو ہی دیا گیا ہے۔

اسرائیلی گروپ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا گروپ ‘فوربڈن سٹوریز’ کی تحقیق پر جو خبریں شائع کی گئیں وہ غلط مفروضوں اور بغیر شواہد کے نظریات پر مبنی تھیں۔

ان رپورٹس کے مطابق ہزاروں ممتاز شخصیات کو اس جاسوسی کے سافٹ وئیر سے نشانہ بنایا گیا۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اسرائیلی حکومت نے پیگاسس سافٹ ویئر سے متعلق الزامات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔

شہزادی لطیفہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کے 25 بچوں میں سے ایک ہیں۔ اُنھوں نے فروری 2018 میں دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

فرار سے کچھ دیر قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کی زندگی پر بہت زیادہ پابندیاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ‘میں 2000 سے ملک سے باہر نہیں گئی ہوں۔ میں سفر کے لیے، تعلیم کے لیے، عام معمول کا کوئی بھی کام کرنے کے لیے بہت کہتی رہتی ہوں۔ وہ مجھے اجازت نہیں دیتے۔’

لیکن فرار کامیاب نہیں ہو سکا، بحر ہند میں آٹھ دن کے بحری سفر کے بعد کمانڈوز نے انھیں پکڑ لیا اور زبردستی دبئی واپس لے آئے۔

بعد میں ان کے والد نے کہا تھا کہ وہ اسے ایک ‘ریسکیو مشن’ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دبئی کی روپوش شہزادی حیا بنت الحسین کون ہیں؟

دبئی کے شیخ محمد نے بیٹیوں کو اغوا کیا، بیوی کو دھمکایا: برطانوی عدالت

شہزادی لطیفہ کی پولیس کو اپیل: ’میری بہن بھی اغوا کی گئی، معاملے کی تفتیش کریں‘

فروری 2021 میں بی بی سی پینوراما نے شہزادی لطیفہ کی طرف سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیوز نشر کیں جو انھوں نے اپنے بیرون ملک دوستوں کو بھیجی تھیں، جن میں انھوں نے دبئی واپس لائے جانے کے بعد اپنی گرفتاری اور حراست کے بارے میں بتایا تھا۔

انھوں نے بتایا تھا کہ انھیں ایک پرتعیش گھر میں بغیر کسی طبی یا قانونی مدد کے تنہا رکھا گیا ہے، جہاں کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کر دیا گیا ہے، اور وہاں پولیس کا پہرہ رہتا ہے۔

شہزادی لطیفہ کو مہینوں سے دیکھا یا سنا نہیں گیا ہے، تاہم وہ رواں برس مئی میں پبلک انسٹاگرام اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں نظر آئی تھیں۔

شہزادی حیا اور شیخ محمد

Reuters
شہزادی حیا اور شیخ محمد

شہزادی حیا کی پیدایش مئی 1974 کی ہے۔ ان کے والد اردن کے بادشاہ حسین تھے اور ان کی والدہ ملکہ عالیہ الحسین تھیں اور وہ صرف تین سال کی تھیں جب ان کی والدہ ملک کے جنوب میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ دوئم ان کے سوتیلے بھائی ہیں۔

شہزادی حیا بچپن میں ایک طویل عرصہ برطانیہ میں رہ چکی ہیں۔ انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاست، معاشیات اور فلسفے کی مشترکہ ڈگری (پی پی ای) حاصل کرنے سے قبل برسٹل کے بیڈمنٹن سکول اور ڈورسٹ کے برائنسٹن سکول سے تعلیم حاصل کی۔

10 اپریل 2004 کو 30 سال کی عمر میں حیا کی شادی شیخ محمد سے ہوئی جو کہ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم اور نائب صدر اور دبئی کے حکمران ہیں۔ اس وقت وہ 53 سال کے تھے اور شہزادی حیا ان کی چھٹی اہلیہ تھیں۔

شہزادی حیا نے اپنے سابقہ ​​شوہر پر اغوا، تشدد اور مسلسل دھمکیاں دینے کا الزام لگایا ہے۔ برطانیہ کی ایک عدالت نے یہ الزامات گذشتہ برس کئی فیصلوں کے سلسلے میں شائع کیے تھے۔

دستاویزات کے مطابق، شہزادی لطیفہ اور ان کے شوہر کی ایک اور بیٹی شہزادی شمسہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے شہزادی حیا کو شکوک میں مبتلا کیا، اور اس سے ان کی شادی میں دراڑیں پڑ گئیں۔

شہزادی حیا کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شہزادی نے شیخہ لطیفہ کے فرار کی کوششوں کے بارے میں پریشان کن حقائق جان لیے تھے اور اس کے علاوہ انھیں اپنے شوہر کے وسیع تر خاندان سے بڑھتے ہوئے معاندانہ رویے اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ممکنہ طور پر وہ خود کو محفوظ نہیں محسوس کر رہی تھیں۔

چنانچہ وہ اپریل 2019 میں اپنے دو بچوں کے ساتھ برطانیہ فرار ہوگئی تھی۔ گذشتہ سال عدالت کو بتایا گیا کہ شیخ محمد کی طرف سے خفیہ دھمکیوں نے انھیں خوفزدہ کر دیا تھا اور انھیں خدشہ تھا کہ ان کے بچوں کو اغوا کرکے زبردستی دبئی لیجایا جاسکتا ہے۔
Click here to see the BBC interactive

Comments - User is solely responsible for his/her words