افغان نائب صدر کی جانب سے ‘سقوطِ ڈھاکہ’ کی تصویر ٹوئٹ کرنے پر پاکستان کا سخت ردِعمل

افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی ایک متنازع ٹوئٹ پر پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری اور قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھی سخت ردِعمل دیا ہے۔
اسلام آباد — پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں پائی جانے والی سرد مہری میں مزید شدت آ گئی ہے۔ بدھ کو افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی ایک متنازع ٹوئٹ کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں جانب کے حکام کے درمیان لفظی نوک جھونک جاری ہے۔

افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے بدھ کو ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں منگل کو افغان صدارتی محل کے قریب ہونے والے راکٹ حملوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

اُنہوں نے اپنی ٹوئٹ کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1971 کی جنگ کے اختتام پر پاکستانی جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کی جانب سے سرینڈر دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔

افغان نائب صدر نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ "ہماری تاریخ میں ایسی کوئی تصویر نہیں ہے اور نہ ہی ہو گی۔ ہاں میں منگل کو راکٹ حملے کے دوران کچھ دیر کے لیے گھبرا گیا تھا۔ لہذٰا پاک ٹوئٹر اٹیکرز اس تصویر کا غم ہلکا کرنے کے لیے دہشت گردی اور طالبان کی مدد حاصل کرنے کے بجائے کوئی اور راستہ تلاش کریں۔”

منگل کو افغان صدارتی محل میں نمازِ عید کے دوران راکٹ حملے ہوئے تھے۔ چند راکٹ صدارتی محل کے قریب گرے تھے۔ اس وقت صدر اشرف غنی، اعلٰی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور نائب صدر امر اللہ صالح کے علاوہ دیگر افغان حکام نماز عید ادا کر رہے تھے۔

امر اللہ صالح کے ‘سہم’ جانے پر کئی پاکستانی صارفین نے اپنی ٹوئٹس میں امر اللہ صالح کا مذاق اُڑایا تھا۔

خیال رہے کہ افغان نائب صدر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

امر اللہ صالح کی اس متنازع ٹوئٹ پر سب سے پہلے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جوابی ٹوئٹ کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان آپ جیسے دغا بازوں کا نہیں بلکہ بہادر افغانوں کا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آپ جیسے بزدلوں کو افغانستان اور خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں، وقت آنے پر آپ لوگ سب سے پہلے ملک سے بھاگیں گے۔

بعدازاں پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بھی ٹوئٹ کی اور کہا کہ افغانستان کو روزانہ ایسے ‘احمقانہ’ بیانات کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ "ہم افغان عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ چند ‘زہر آلود دماغ’ رکھنے والے عناصر کے باعث پاکستان افغان عوام کی حمایت اور علاقے میں قیام امن کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”

معید یوسف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے افغان قیادت نے کچھ لوگوں کو ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں کے اُوپر مسلط کر دیا ہے جو اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دو طرفہ تعلقات کی خرابی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے بگڑتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان میں ‘واشنگٹن پوسٹ’ کے صحافی حق نواز خان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی وجہ سے ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

اُن کے بقول امر اللہ صالح افغانستان کے نائب صدر ہیں اور انہیں اپنے عہدے کی تکریم کا خیال رکھنا چاہیے، دونوں طرف سے ایک بیان کے بعد دوسری جانب سے لفظی جنگ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید خراب کرے گی۔

حق نواز خان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے ماضی کی تصاویر لگانا اور ان پر طنزیہ گفتگو کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے رہی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حق نواز خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جو صورتِ حال ہے اس میں پاکستان ایک اسٹیک ہولڈر ہے اور افغان حکومت کو بہر حال اس کے ساتھ روابط رکھنا ہیں۔

اُن کے بقول آئندہ چند دنوں میں جب تمام اتحادی افواج وہاں سے نکل جائیں گی اور پاکستان، بھارت، ایران پراکسی کے ذریعے وہاں لڑتے رہے تو افغانستان ایک بار پھر 90 کی دہائی میں چلا جائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بیانات سے گریز کیا جائے۔

افغان اُمور کے ماہر اور سابق سفیر ایاز وزیر کہتے ہیں کہ افغانستان میں زندگی اور موت کا کھیل جاری ہے اور ایسے میں ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں جو اس قدر فضول ہیں کہ ان پر بات کرنا بھی وقت کے ضیاع کے مترادف ہے۔

امراللہ صالح کی طرف سے حالیہ دنوں میں یہ پہلا بیان نہیں بلکہ چند روز قبل بھی انہوں نے ایسے ہی بیانات دیے تھے جن میں پاکستان فوج پر الزامات عائد کیے تھے۔

پندرہ جولائی کو امراللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں پاکستان ایئر فورس پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے افغان آرمی کو وارننگ دی ہے کہ وہ اسپن بولدک کے علاقہ میں طالبان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔

اُنہوں نے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی ایئر فورس نے افغان فوج کو دھمکی دی تھی کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی سے گریز کریں۔

البتہ پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

افغانستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے بعد افغان سفیر سمیت اپنا پورا سفارتی عملہ کابل بلا لیا تھا۔

پاکستان نے افغان حکومت کے اس اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words