اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں سیلابی صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟

ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ہم اکثر بارش کے بعد گلی، محلوں اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا تو دیکھتے رہے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ پانی سیلابی صورتحال بھی اختیار کر لیتا ہے اور ایسا ہی گذشتہ روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں بھی ہوا۔

اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لاہور میں گزارنے کے بعد جہاں بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونا معمول کی بات ہے، جب میں اسلام آباد منتقل ہوئی تو مجھے سب سے زیادہ خوشی اور تسلی یہاں صفائی اور سڑکوں کی صورتحال کو دیکھ کر ہوئی۔

لیکن بدھ کی صبح میری آنکھ عزیز و اقارب کے کالز سے کھلی جو میرے بارے میں فکر مند اور میری خیریت دریافت کرنے کے لیے بیتاب تھے اور اس کی وجہ وہ سیکٹر تھا جو میری رہائش اور بدھ کو پورا دن خبروں کی زینت بنا رہا۔

ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں سیکٹر ای الیون میں سیلابی ریلوں میں گاڑیاں تنکوں کی طرح بہتی ہوئی نظر آئیں لیکن کیا اس کی وجہ صرف شدید بارش ہے؟

محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ مون سون میں اتنی بارش ہونا معمول کی بات ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سنہ 2001 میں اسلام آباد میں 24 گھنٹوں کے دوران 600 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ کی گئی لیکن سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔

محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض نے یہ بھی بتایا کہ بدھ کو ای الیون میں تقریباً 101 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو ’اتنی زیادہ بھی نہیں‘۔

تو پھر معمول کی اتنی بارش نے ای الیون میں اتنی زیادہ تباہی کیوں مچائی؟

اگر آپ اسلام آباد کے رہائشی ہیں تو آپ اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد کا سیکٹر ای الیون کئی نجی رہائشی سکیموں پر مشتمل ہے اور ان ہاؤسنگ سکیموں اور بلندوبالا عمارتوں نے اس سیکٹر سے گزرنے والے برساتی نالوں کو تنگ کر دیا ہے۔

سی ڈی اے کے ترجمان رانا شکیل اصغر نے حالیہ بارشوں سے ای الیون میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بی بی سی کی آسیہ عنصر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات تجاوزات کی وجہ سے ہی پیش آتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر جب برساتی نالے کے اوپر سڑک اور گھر بنے ہوں تو جب اس میں زیادہ پانی آتا ہے تو پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے اور پھر اس کے راستے میں جو بھی سڑک یا گھر آتا ہے اسے نقصان ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جب بارش ہوتی ہے اور پانی ایک سطح سے زیادہ بڑھتا ہے تو وہ نالوں کے اندر نہیں رہتا بلکہ باہر نکل جاتا ہے، اور سڑکوں پر آتا ہے لیکن نکاسی آب کا نظام اگر درست ہو تو یہ وہاں سے باآسانی نکل جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کی جانب سے سیلابی پانی کے باعث پھیلنے والے کچرے کی صفائی کا کام تو جاری ہے تاہم سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ سیکٹر ای الیون کے جس حصے میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی وہ ایک نجی سوسائٹی ہے جو سی ڈی اے کی حدود میں نہیں آتی لہٰذا وہاں سی ڈی اے کی عملداری نہیں لیکن اس کے باوجود سی ڈی نے وہاں جا کر کام کیا ہے۔

سیلاب

Getty Images

رانا شکیل اصغر نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ’اگر کوئی زمین کسی شخص کی نجی ملکیت ہے اور وہ آدمی اس پر اپنی سوسائٹی بنانا چاہتا ہے تو وہ سی ڈی اے کو اس کا نقشہ جمع کراتا ہے اور سی ڈے اے اپنے قوانین کے تحت ان نقشوں کو دیکھتا ہے، اگر وہ نقشے سی ڈی کے قوانین کے مطابق ہوں تو پھر این او سی جاری کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ای الیون کا پورا سیکٹر نجی سوسائٹیز کا سیکٹر ہے ’نہ تو زمین سی ڈی اے کی ہے، اور نہ سی ڈی نے وہاں کوئی پلاٹ بیچا ہے۔‘

انھوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جس سوسائٹی میں حالیہ بارشوں سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ’جب یہ بن رہی تھی تو شروع میں انھوں نے اپنا لے آؤٹ پلان سی ڈی اے کو جمع کرایا تھا جس پر سی ڈی نے اعتراض کیا تھا کیونکہ کچھ سڑکیں جو تجویز کی گئی تھیں وہ نالوں کی جگہ پر تھیں۔‘

’سی ڈی اے نے کہا تھا کہ نالوں کی جگہ آپ نے چھوڑنی ہے لیکن انھوں نے نالوں کی جگہ نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے ان کو این او سی نہیں دیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے کوئی ہائیڈرولوجیکل سٹڈی کرائی اور کہا کہ نالے کا پانی سڑک پر نہیں جائے گا، جس کی بنا پر انھیں ایک عارضی این او سی جاری کیا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ متعلقہ سوسائٹی کا ’پلان منظور کر لیا گیا تھا لیکن مزید خلاف ورزیوں کی وجہ سے اسے کینسل کر دیا گیا اور این او سی جاری نہیں کیا گیا۔‘

ای الیون میں قائم ان نجی سوسائٹیز کے بارے میں بات کرتے ہوئے رانا شکیل اصغر نے بتایا کہ ’ان سوسائٹیز نے اپنا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ بنانا تھا جو انھوں نے نہیں بنایا، انھوں نے قبرستان کی زمینوں پر بھی تجاوزات قائم کی ہوئی ہیں۔

’ان سب مسائل پر ان کے لے آؤٹ پلان بھی کینسل ہیں اور انھیں نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔‘

سیلاب

Getty Images

ای الیون سی ڈی اے کی حدود میں کیوں نہیں آتا؟

سی ڈی اے کے سابق قانونی ماہر اور سپریم کورٹ کے وکیل کاشف علی ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ ای الیون کی تاریخ کچھ ایسے ہے کہ سنہ 1968 میں ایک گولڑہ ریوینیو سٹیٹ تھی جو 654 ایکڑ پر محیط تھی جس میں سے کچھ زمین سیکٹر ای الیون میں تھی۔

انھوں نے بتایا کہ پیر آف گولڑہ کے کہنے پر سابق صدر جنرل ایوب خان کے حکم پر اس زمین کو ایکویزیشن سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔

اور بعدازاں سنہ 1986 میں یہاں سوسائٹیز تعمیر ہوئیں اور بغیر منصوبہ بندی کے تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہاں ’سیوریج کے مسئلے ہیں، واٹر سپلائی کے مسئلے ہیں، نالوں پر تعمرات ہو چکی ہیں۔‘

وکیل کاشف علی ملک نے خبردار کیا کہ بغیر منظوری کے جس طرح کی غیرقانونی تعمیرات ای الیون میں ہو چکی ہیں تو مستقبل میں ایسے حادثات مزید ہو سکتے ہیں۔

فلیش فلڈز کیا ہیں؟

آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر کے شہروں میں فلیش فلڈز یا سیلابی ریلوں کی خبریں اب ایک معمول بنتی جا رہی ہیں۔

عام طور پر تیز بارش کے دوران سیلابی ریلے آتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب نالوں اور گٹروں میں پانی، ان کی اس سے نمٹنے کی صلاحیت سے بہت زیادہ مقدار میں چلا جاتا ہے۔

Pedestrian walking through floodwater

Getty Images

یہ بہت جلدی اور بغیر کسی انتباہ کے ہو سکتا ہے۔

سڑکوں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا اور گاڑیاں چھوڑنی پڑتی ہیں۔ مکانات اور دکانوں کو سیلابی پانی کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے۔

اس طرح کے سیلاب سے اہم پبلک انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوتے ہیں جیسا کہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور ہسپتال وغیرہ۔

شہروں اور قصبوں میں ایسا کیوں ہوتا ہے؟

شہری علاقوں میں اس طرح کے سیلابی ریلوں کا زیادہ امکان ہے کیونکہ وہاں زمین کی سطح کافی پکی ہوتی ہے، باغات کے سامنے پکی جگہوں سے لے کر پکی سڑکوں، کار پارکس اور بازاروں تک، سب کچھ۔

جب بارش ان پر پڑتی ہے تو پانی زمین میں نہیں سموتا جیسا کہ عموماً دیہی علاقوں میں ہوتا ہے۔

اس کی ایک مثال جولائی ہی میں اس وقت دیکھی گئی جب امریکہ کا نیویارک سٹی ایلسا طوفان کی زد میں آگیا۔ اس سیلاب کی وجہ سے شہر کا سب وے سسٹم پانی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

دوسری جانب جولائی میں ہی لندن اور جنوبی انگلینڈ میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد بھی کچھ ایسا ہی منظر نظر آیا تھا۔ لندن کے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے پانی سے بھر گئے اور لوگوں کے گھروں میں کئی فٹ پانی بھر آیا۔

بہت ساری جگہوں پر، جن میں برطانیہ کا بیشتر حصہ بھی شامل ہے، گٹروں کا پرانا نظام اس طرح بنا ہوا ہے جو تاریخی طور پر ہونے والی بارش کے مطابق بنایا گیا ہے، تاکہ وہ اسے سنبھال سکے۔

کیا فلیش فلڈز کثرت سے آ رہے ہیں؟

سیلاب بہت سارے عوامل کی وجہ سے آتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے انتہائی بارش کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔

گرم ماحول میں زیادہ نمی ہوتی ہے اس لیے اس میں آنے والے طوفان زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیں۔

برطانیہ کے ’کلائمیٹ ریزیلیئنس‘ پروگرام کے پروفیسر ہیلی فاؤلر کے مطابق فلیش فلڈز عمومی طور پر اتنے زیادہ نہیں آیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

سطح سمندر میں اضافے کے اثرات ’گہرے‘ ہوں گے

کراچی میں بارش رحمت یا زحمت

پاکستان میں سیلاب سے تباہی: جولائی سے اب تک کم از کم 180 افراد ہلاک

’10 بلین ٹری سونامی‘ منصوبہ: پاکستان کے ماحول دوست اقدامات کا عالمی سطح پر اعتراف

تاہم انھوں نے کہا کہ گرم موسم کا مطلب ہے طوفانوں سے آنے والی قلیل مدتی تیز بارشیں جن کی وجہ سے سیلاب زیادہ آنے لگے ہیں۔

ان کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر موسم کی تبدیلی کی یہی رفتار جاری رہی تو فلیش فلڈز جو عموماً 30 ملی میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بارش کا پانی لاتے ہیں، 2080 کی دہائی تک پانچ گنا زیادہ بڑھ جائیں گے۔

فلیش فلڈز کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

Car driving through flood water

Getty Images
گاڑئوں کی مرمت کرنے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی میں گاڑی نہ چلائی جائے

فلیش فلڈز کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے شہروں اور قصبوں میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

ریڈنگ یونیورسٹی میں سیلاب کی ماہر ڈاکٹر لِنڈا سپیٹ کہتی ہیں کہ شہری علاقوں میں ’پانی جذب کرنے والی پختہ راہ گزر اور سبز چھتوں جیسی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جو بارش کے پانی کو سیلاب لانے کی بجائے اندر جذب کر لیں گی۔‘

یہ جاننا کہ تیز بارش ہونے والی ہے فلیش فلڈز کے خطرات سے نمٹنے میں آسانی پیدا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سپیٹ کہتی ہیں کہ ’موسم اور سیلاب کی پیشنگوئی کرنے والی سائنس میں بہت تیزی سے بہتری آئی ہے اور اب یہ اکثر ممکن ہے کہ سطحی پانی کے سیلاب کے واقعات کی پیشنگوئی پہلے سے ہی کی جا سکے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words