راہل میں آ رہا ہوں۔۔۔ جب ایک لاہوری نے لندن میں کھویا بٹوا فلمی انداز میں انڈین مالک تک پہنچایا

ثنا آصف ڈار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

تاریخ 29 جولائی سنہ 2021۔۔۔۔

دن جمعرات۔۔۔

مقام: لندن کی ایک مصروف شاہراہ۔۔۔۔

ایک نوجوان گھر سے نکلا اور اسے اپنے راستے میں بے یارومددگار پڑا ایک بٹوہ نظر آیا۔ اس نوجوان نے ارد گرد دیکھا اور۔۔۔۔

اور یہاں سے شروع ہوتی ہے وہ کہانی جو کسی فلم سے کم نہیں۔

ہم نے اکثر فلموں میں دیکھا ہے کہ ہیروئن کا بیگ کھو جاتا ہے اور ہیرو ہیروئن کو متاثر کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا کر اسے ہیروئن تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔ ہم نے فلموں میں یہ بھی دیکھا ہے کہ کسی کردار کا بٹوہ یا کوئی قیمتی شے گم ہو جانے کے بعد کسی انتہائی ایماندار شخص کے ہاتھ لگتی ہے اور وہ شخص اس چیز یا بٹوے کو اپنے مالک تک پہنچاتا ہے۔

تو بس اصل زندگی کے اس ہیرو نے بھی یہ بٹوہ مالک تک لوٹانے کی ٹھان لی اور اس کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور وہ اپنے اس نیک مقصد میں کامیاب بھی رہے۔

سوشل میڈیا کا سہارا لے کر اس کھوئے ہوئے بٹوے کو انتہائی فلمی انداز میں اپنے مالک تک پہنچانے والے نوجوان غازی تیمور کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹر اکاؤنٹنٹ ہیں اور اکثر کام کے سلسلے میں برطانیہ آتے جاتے رہتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ہمیں بتایا کہ بٹوہ ملنے کے بعد انھوں نے اردگرد موجود لوگوں میں مالک کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

’میں نے سوچا کہ اتنے رش میں کوئی کھوئی ہوئی چیز اتنی دیر رکتی نہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بٹوہ ابھی ابھی گرا ہے۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ مالک کہیں ارد گرد یا نزدیک ہی موجود ہو تو کیوں نہ میں اسے خود یہ بٹوہ پہنچا دوں تاکہ اسے زیادہ پریشانی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے اسے ابھی پتہ ہی نہ چلا ہو کہ اس کا بٹوہ گر گیا ہے۔‘

’میں پولیس کے پاس اس لیے نہیں گیا کہ مالک کو مزید جھنجٹ، پریشانی اور طویل انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘

تیمور کے مطابق وہ فلمیں بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے سوچا کہ اس بٹوے کے مالک کی تلاش کو بھی فلموں کی طرح بنایا جائے۔

’میں اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ بھی بڑے فلمی انداز میں بات کرتا ہوں اور فلموں کے ڈائیلاگ بھی بولتا ہوں۔ میں نے جب بٹوہ اٹھایا اور نام راہول پڑھا تو میرے دماغ میں پوری ایک فلم چلی کہ ایک انسان کو اس کا بٹوہ بھی مل جائے گا اور ایک ہندوستانی کی ایک پاکستانی سے دوستی بھی ہو جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

جب ہوٹل کے کمرے کی صفائی کے دوران جوہر علی کی نظر لاکھوں روپے پر پڑی

دوستوں کی ایمانداری، 40 ہزار ڈالر مالک کو واپس

سڑک پر گرے ہوئے بٹوے پر حق کس کا

غازی تیمور نے اپنی اس ’تلاش‘ کی فلمی کہانی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انتہائی فلمی انداز میں شیئر بھی کی ہے کہ کیسے انھوں نے پہلے فیس بک اور ٹوئٹر پر راہل نامی شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہے لیکن پھر لنکڈ ان پر وہ اس نام کے تین افراد کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جو لندن میں ہی کام کرتے ہیں۔

غازی تیمور نے بتایا کہ بٹوے کے مالک کا دفتر ان سے صرف 15 منٹ کی مسافت پر تھا اور وہ صرف 48 منٹ میں مالک کو ڈھونڈنے اور اس تک بٹوہ پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

https://twitter.com/ghazi_taimoor/status/1420738743133097985

’میں جب ان کے دفتر پہنچا تو ان کے ہوش اڑے ہوئے تھے اور انھیں سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ہوا کیا ہے۔ ان کے منہ سے لفظ ہی نہیں نکل رہے تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘

تیمور نے مجھے ہنستے ہوئے بتایا کہ انھوں نے جب اس واقعے کے بارے میں اپنی والدہ کو آگاہ کیا تو انھوں نے کہا کہ بیٹا نیکی کر ڈال دریا میں ڈال ہوتا ہے نیکی کر ٹوئٹر پر ڈال نہیں ہوتا۔

لیکن تیمور نے ایسا پہلی بار نہیں کیا بلکہ ایک بار پہلے بپی انھوں نے ایک خاتون کو ان کا بیگ لوٹایا تھا۔

’میں نے لبرٹی میں ایک خاتون کا بیگ بھی لوٹایا تھا۔ خاتون کو علم ہی نہیں تھا کہ ان کا بیگ گر گیا ہے۔ وہ آگے جا رہی تھیں اور پیچھے بیگ گرا ہوا تھا تو میں نے فوراً جا کر جلدی سے اٹھا کر انھیں ان کا بیگ دیا۔‘

اگر ہم فلموں کی بات کریں تو اسی صورتحال میں غصیلی اور مغرور ہیروئن اکثر بے چارے ہیرو کو تھپڑ بھی رسید کر دیتی ہے لیکن جب میں نے تیمور سے خاتون کا ردعمل پوچھا تو انھوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے بتایا کہ ’شکر ہے کہ ان خاتون نے میری اس بات کا برا نہیں منایا ورنہ پاکستان میں تو تھپڑ بھی پڑ جاتا ہے۔‘

لیکن ایسا بھی نہیں کہ غازی تیمور صرف لوگوں کی کھوئی ہوئی چیزیں ہی واپس لوٹاتے ہیں اور کبھی ان کی کوئی چیز گم نہیں ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ ایک بار لاہور میں ان کے بینک کارڈز گر گئے تھے۔ ’مجھے تھوڑی ہی دیر میں میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پیغام آیا کہ آپ کے کارڈ ملے ہیں اور پھر اس شخص نے مجھ تک وہ کارڈ پہنچا دیے۔‘

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے تیمور غازی کے اس اقدام کی تعریف کی ہے لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ’فلمی‘ طبیعت کے مالک تیمور اصل زندگی میں بھی کسی ہیرو سے کم نہیں۔

تیمور امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور ان کا مشن پاکستان میں غریب بچوں تک تعلیم کی فراہمی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ ایک غیر سرکاری تنظیم ( Door of Awareness) بھی چلاتے ہیں۔

تیمور چاہتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور پیار سے پیش آئیں۔

وہ کہتے ہیں ’اگر اجنبی لوگ بھی ایک دوسرے کا بھلا کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور مہربانی سے پیش آئیں تو اس دنیا کو بہت بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے اور میں اس سارے واقعے سے بھی لوگوں کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words