اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انڈیا کی صدارت: انڈین حکومت کی ترجیحات کیا ہوں گی اور پاکستان کا کیا موقف ہے؟


مودی، انڈیا

Getty Images

انڈیا نے اتوار سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ اسے اگست کے ماہ کے لیے یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔

سکیورٹی کونسل رپورٹ پر ماہانہ فورکاسٹ کے مطابق انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی میریٹائم سکیورٹی (بحری امور) پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک اجلاس کی صدارت کریں گے۔ انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرنے والے وہ پہلے انڈین وزیر اعظم ہوں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے خبر رساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں انڈین صدارت پر پاکستان اپنی توجہ مرکوز رکھے گا مگر اس سے فکر مند نہیں۔

سلامتی کونسل میں صدارت: انڈیا کی ترجیحات کیا ہیں؟

انڈیا نے کہا ہے کہ اس کی توجہ تین چیزوں پر ہوگی: میریٹائم سکیورٹی، امن عمل اور دہشتگردی کے خلاف جنگ۔

انڈیا دو برسوں کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔ خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں صرف پانچ مستقبل رکن ہیں: امریکہ، چین، برطانیہ، روس اور فرانس۔

مستقبل اراکین کے پاس ویٹو کی طاقت ہوتی ہے، یعنی وہ کسی فیصلے کو روک سکتے ہیں۔ پانچ میں سے اگر کوئی ایک مستقل رکن بھی ویٹو کردے تو قرار دار منظور نہیں کی جاتی۔ سلامتی کونسل کے 10 عارضی ممبران کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی۔

سلامتی کونسل

Getty Images

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ہر ماہ صدارت تبدیل ہوتی ہے اور اسے انگریزی کے حروف تہجی کی ترتیب سے چلایا جاتا ہے۔ اس کے تحت یہ انڈیا کو صدارت فرانس نے منتقل کی ہے۔

انڈیا یکم جنوری 2021 کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بنا تھا اور اس کی رکنیت 31 دسمبر 2022 تک جاری رہے گی۔ اس دوران انڈیا کو دو مرتبہ سلامتی کونسل کی صدارت ملے گی۔

پاکستان فکرمند نہیں

انڈیا کو سلامتی کونسل کی صدارت ایک ایسے وقت میں ملی ہے کہ جب افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور امریکہ نے اپنی افواج واپس بلا لی ہیں۔ اسی کے ساتھ 5 اگست کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم ہوئے دو سال ہوجائیں گے۔

یہ دونوں مسئلے پاکستان کی حکومت کے لیے بہت اہم ہیں اور ایسے وقت میں شاید وہ نہیں چاہے گا کہ سلامتی کونسل کی صدارت انڈیا کے پاس رہے۔

یو این ایس سی کے پانچ مستقل اراکین میں سے چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ مگر اگست کے دوران سلامتی کونسل کے ہر اجلاس میں انڈیا کا کردار اہم ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا انڈیا خود کو افغانستان کے معاملے میں تنہا محسوس کر رہا ہے

متحدہ عرب امارات پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کا ’رسک‘ کیوں لے رہا ہے؟

پاکستان ایف اے ٹی ایف پر انڈین اثر و رسوخ کا الزام کیوں عائد کرتا ہے

سلامتی کونسل کی تین کمیٹیوں کی سربراہی انڈیا کے پاس، پاکستان کے لیے اس کا مطلب کیا ہو گا؟

عمران خان

Getty Images

پاکستانی اخبار ڈان نے اپنے اداریے میں لکھا کہ انڈین صدارت کا مطلب ہے کہ پاکستان کشمیر پر سلامتی کونسل کا کوئی اجلاس نہیں بلوا سکے گا۔ اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی بیان جاری کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے انڈیا سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران غیر جانبدار رہے گا۔ ’ہمیں توقع ہے انڈیا اصولوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔‘

پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں گے کہ انڈیا اقوام متحدہ میں اصلاحات، افغانستان اور دہشتگردی پر پاکستان کے موقف کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اپنی آنکھیں کھلی رکھے گا مگر اس سے فکر مند نہیں ہے۔‘

گذشتہ دو برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر تین بار بات چیت کی ہے۔

رواں ماہ کے دوران ہی افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا مکمل ہوجائے گا۔ اس صورتحال میں اگست کا مہینہ کافی اہمیت رکھتا ہے۔

اگر افغانستان کے مسئلے میں کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو انڈیا کی صدارات اہمیت اختیار کرسکتی ہے۔ پاکستان انڈیا کو افغانستان میں ایک رکاوٹ سمجھتا ہے۔ انڈیا نے اپنے ایجنڈے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کو بھی ترجیح دی ہے۔

اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترمورتی نے سلامتی کونسل کی صدارت حاصل کرنے کے بعد کہا کہ ‘یہ بہت فخر کی بات ہے۔ اگست میں سلامتی کونسل کی صدارت اس ماہ ملی جب انڈیا اپنا 75واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ انڈیا اس ماہ کئی اہم اجلاس بلانے پر فیصلہ کرے گا۔’

https://twitter.com/ambtstirumurti/status/1421660603513454592

گذشتہ ماہ ٹی ایس ترمورتی نے پاکستان کا نام لیے بغیر اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ جے شنگر نے کہا تھا کہ ‘انڈیا ہمیشہ رواداری کی آواز، مفاہمت اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کرے گا۔’

میریٹائم سکیورٹی، امن اور دہشتگردی کے مسئلے پر اجلاس کے علاوہ انڈیا پیس کیپرز کی یاد میں ایک تقریب بھی منعقد کرے گا۔

اقوام متحدہ میں انڈیا کے سابق مستقل مندوب سید اکبر الدین نے ٹویٹ میں کہا کہ ‘جب انڈیا سکیورٹی کونسل کی صدارت کرے گا تو انڈیا کے وزیر اعظم پہلی بار اس کے ورچوئل اجلاس کی صدارت نو اگست کو کریں گے۔’

اکبر الدین نے کہا کہ ‘گذشتہ 75 برسوں میں یہ پہلی بار ہوگا کہ ہماری سیاسی قیادت سلامتی کونسل کی تقریب کی صدارت کرے گی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ رہنما خود اس کی سربراہی کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انڈیا اور اس کی سیاسی قیادت خارجہ پالیسی پر سنجیدگی رکھتے ہیں۔’

‘یہ ورچوئل اجلاس ہے مگر یہ پھر بھی ہمارے لیے پہلا تاریخی موقع ہے۔ اس سے قبل سنہ 1992 میں انڈین وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اس کی کوشش کی تھی۔’

انڈیا میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے ایجنڈے سے کافی متاثر ہوئے ہیں۔ ‘یہ اہم عالمی مسائل پر مبنی ہے۔’ جبکہ انڈیا میں فرانس کے سفیر کا کہنا تھا کہ انھیں خوشی ہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت فرانس سے انڈیا کو منتقل ہو رہی ہے۔ ‘ہم اصولوں پر مبنی نظام کے ذریعے موجودہ بحران حل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔’

سلامتی کونسل میں انڈیا کی صدارت کا پہلا دن دو اگست کو ہوگا۔ ترمورتی اس موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں پریس بریفننگ کریں گے اور رواں ماہ اہم تقاریب کے بارے میں بتائیں گے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس کے چھ اہم اداروں میں سے ایک ہے جس کا مقصد بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں کسی تبدیلی کی منظوری دینا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words