افغانستان کے شہروں میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری، صدر اشرف غنی کے بیان پر طالبان کا ردعمل


افغانستان

EPA

افغان صدر اشرف غنی نے اتوار کو صدارتی محل میں ایک وفد سے ملاقات میں ایک بار پھر پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ طالبان ’پنجاب کے کہنے پر‘ افغانستان میں جنگ کو طول دے رہے ہیں۔

افغانستان کے جنوب اور مغرب میں موجود تین بڑے شہروں (ہرات، لشکر گاہ اور قندھار) میں لڑائی جاری ہے۔ طالبان جنگجو ان شہروں کو سرکاری فورسز سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لشکر گاہ میں جنگجوؤں کی آمد کے پیش نظر افغان فورسز نے اپنے سینکڑوں کمانڈر وہاں تعینات کر دیے ہیں۔

صوبہ ہلمند میں فوجی نمائندے نے کہا ہے کہ وہ بری فورسز اور فضائی حملوں کی مدد سے طالبان کے حملوں کو روک رہے ہیں۔

مگر صدر غنی نے اپنے حالیہ بیان میں طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ افغان ہیں تو آئیں اور ملک کی تعمیر میں کسی نتیجے پر پہنچیں۔ اور اگر آپ نے پنجابیوں اور دہشتگرد گروہوں سے بیعت لی ہے تو اپنے آپ کو افغان نہ کہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی حکام نے بارہا اس نوعیت کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اور یہ کہ پاکستان افغان حکومت کے خلاف طالبان کی پشت پناہی نہیں کر رہا بلکہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر غنی نے خطاب میں کیا کہا؟

افغان صدر اور اُن کی حکومت طالبان پر روز اول سے پاکستان کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہیں اور اکثر اوقات پاکستان کی جگہ پنجاب اور پنجابیوں کا نام لیتے ہیں۔

صدر غنی نے اپنے خطاب میں طالبان پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے اپنے دور میں صرف ایک آدمی کی وجہ سے پورے افغانستان کو جنگ میں دھکیلا۔ اُنھوں نے القاعدہ نیٹ ورک کے سربراہ اُسامہ بن لادن کا نام لیا اور طالبان سے پوچھا کہ ’کیوں آپ نے ایک آدمی کی خاطر پورے افغانستان کو برباد کیا۔۔۔ ایک آدمی اہم تھا یا دو کروڑ 50 لاکھ افغان عوام؟‘

صدر غنی نے اس خطاب میں پوچھا کہ طالبان کے سربراہ مُلا ہیبت اللہ کہاں اور کس غار میں ہیں اور وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہ زندہ ہیں تو آئیں ہرات کے بازاروں میں گھومیں، مزار کی گلیوں میں گھومیں اور کابل میں گھومیں۔‘

طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اور اُن کی دیگر قیادت نامعلوم مقام سے طالبان کی قیادت کر رہے ہیں۔

کئی افغان یہ دعویٰ کر رہے کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں روپوش ہیں لیکن خود افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تمام قیادت افغانستان میں ہے لیکن سیکورٹی وجوہات کی بنا پر روپوش ہے۔

صدر غنی نے کہا کہ اگر طالبان کو عوام کا احترام ہے اور انتخابات میں حصہ لینا چاہیں تو وہ چھ ماہ یا ایک سال میں نئے انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں۔

انھوں نے زور دیا کہ افغانستان میں خونریزی کی اجازت نہیں دیں گے اور افغانوں کے ایک دوسرے کو مارنے کی کوئی اسلامی وجہ نہیں ہے۔

افغان صدر نے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی میں کم از کم چالیس بڑے اور مشہور سمگلرز کو بھی رہا کرایا۔

انھوں نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں مختلف صوبوں میں قدرتی معدنیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

افغان صدر کے بیان پر طالبان کا ردعمل

طالبان نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ اشرف غنی کا بیان ’سب بکواس تھا۔ وہ (غنی) اپنی مشکل صورتحال کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔‘

طالبان

EPA

’قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ غداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انصاف ہوگا۔‘

اس ردعمل میں مزید کہا گیا کہ صدر غنی کا ’وقت اب ختم ہوگیا ہے۔ اعلانِ جنگ، الزامات اور غلط معلومات سے انھیں مزید وقت نہیں ملے گا۔‘

ماضی میں طالبان صدر غنی کی افغان حکومت کو ’کٹھ پتلی‘ قرار دیتے رہے ہیں۔

صدر غنی کی پاکستانی علما پر تنقید

افغان صدر اشرف غنی نے اس تقریر میں پاکستان پر الزامات کے ساتھ ساتھ مولانا سمیع الحق کے بیٹے پر تنقید کی اور کہا کہ اُنھیں افغانستان کے نظام میں کوئی اختیار نہیں۔

’سمیع الحق کے بیٹے کو کیا اختیار ہے کہ وہ ہمارے مستقبل کی نظام حکومت پر بات کریں؟‘

اگرچہ افغان صدر نے اس تقریر میں مولانا سمیع الحق کے بیٹے کا نہ ہی نام لیا اور نہ ہی اُن کی جانب سے کسی خاص بیان کا ذکر کیا۔

تاہم جمعیت علما اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور اُن کی جماعت روز اول سے طالبان کی نہ صرف کھلم کھلا حمایت کرتے ہیں بلکہ مولانا سمیع الحق کو اپنی زندگی میں ہی ’فادر آف طالبان‘ کا لقب مل چکا تھا۔

طالبان قیادت کے کئی رہنما اور کمانڈر فوٹ سولجرز دارالعلوم حقانیہ سے دینی تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور اس مدرسے کا شروع ہی سے طالبان پر اثر ورسوخ رہا ہے اور اُن کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

افغانستان

AFP

لڑائی کی تازہ صورت حال

گذشتہ کئی دنوں سے افغانستان کے تین بڑے شہروں ہرات، لشکر گاہ اور قندھار میں تازہ جھڑپوں کی اطلاع ملی ہے اور تاحال ان شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان اپنا زور آزما رہے ہیں۔

اُدھر افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افغان سپیشل فورسز طالبان کو شکست دینے اور علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ، اور ہرات پہنچ گئے ہیں۔

افغان نیشنل سیکورٹی اور ڈیفنس فورسز کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ افغان سیکورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 221 آپریشنز کیے ہیں، جن میں 1300 سے زیادہ طالبان ہلاک اور سات سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان شہروں میں لڑائی کی وجہ سے بجلی اور موبائل نیٹ ورک معطل ہوا ہے جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں میں ہے۔ ادویات کی عدم دستیابی سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

ہلمند صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں کئی برسوں تک غیر ملکی افواج نے سکیورٹی صورتحال کو سنبھالا ہوا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words