'فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر': انٹرنیٹ پر وائرل پاکستانی میم کا این ایف ٹی 52 ہزار ڈالر میں فروخت

‘فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر’ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والے ان کئی مزاحیہ میمز میں سے ایک ہے جو پاکستانیوں نے بنائے۔ مگر اب یہ پاکستان کا پہلا این ایف ٹی بن گیا ہے جسے ہزاروں ڈالر کے عوض فروخت کیا گیا ہے۔

این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی مزاحیہ میم، تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے۔

چھ سال قبل گوجرانوالہ کے ایک سرکاری ملازم محمد آصف رضا نے اس کی بنیاد اپنے فیس بک پر رکھی تھی جب انھوں نے کہا تھا کہ ’ان کا دوست مدثر اب خود غرض ہوگیا ہے۔‘

اس میم کے بعد جہاں مدثر سے ان کی دوستی بحال ہوئی وہیں انٹرنیٹ پر انھیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر: معمولی سا مذاق جو انٹرنیٹ پر وائرل ہوا

سنہ 2015 کے دوران گوجرانوالہ میں پاکستانی فیس بُک صارف محمد آصف رضا نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ‘فرینڈشپ اینڈڈ ود مدثر۔ ناؤ سلمان از مائی بیسٹ فرینڈ (مدثر سے میری دوستی ختم۔ اب سلمان میرا بہترین دوست ہے)۔’

مگر اس کی مزاحیہ بات یہ تھی کہ انھوں نے فوٹو شاپ کی مدد سے اپنی وہ تصویر استعمال کی ہوئی تھی جس میں وہ سلمان سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ جبکہ مدثر کی دو تصاویر پر کراس بنایا ہوا تھا۔ اس کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ اب مدثر سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

یہ معمولی سا مذاق اتنا وائرل ہوا کہ اس پر 47 ہزار لوگوں نے ری ایکٹ کیا، 56 ہزار لوگوں نے اسے شیئر کیا اور فیس بک پر 27 ہزار لوگوں نے اس کے نیچے اپنے تبصرے پوسٹ کیے۔

اس میم سے محمد آصف کو عالمی شہرت بھی ملی جس میں یوٹیوب اور ٹوئٹر پر صارفین ان کے میم سے متاثر ہو کر مواد تیار کرتے رہے۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کا دوست مدثر انھیں وقت نہیں دے رہا تھا تو انھوں نے اس کی خود غرضی پر یہ پوسٹ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

این ایف ٹی: شعیب اختر اور وسیم اکرم اپنے ’قیمتی‘ ڈیجیٹل اثاثے کیوں بیچ رہے ہیں؟

بٹ کوائن: ’کسی نے مہنگی کار خریدی تو کوئی لُٹ گیا‘

کرپٹو کرنسی سے پاکستان کا قرض اتارنے کا دعویٰ: ’وقار ذکا بھی سمارٹ ہیں، ایک چانس تو بنتا ہے‘

امریکی ڈالر کو چینی ’ڈیجیٹل یوان‘ سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟

آصف کا میم بذریعہ این ایف ٹی کہاں اور کتنے میں فروخت ہوا؟

آصف نے حال ہی میں اسے فاؤنڈیشن نامی این ایف ٹی پلیٹ فارم پر نیلامی کے لیے پیش کیا تھا۔

اسے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی کمپنی میکینزم کیپیٹل کے شریک بانی اینڈریو کینگ نے 20 ایتھر (کرپٹو کرنسی کی قسم) میں خریدا ہے۔

ایتھر کی موجودہ ویلیو کے تحت پاکستانی کرنسی میں یہ رقم قریب 84 لاکھ روپے (قریب 52 ہزار امریکی ڈالر) بنتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آصف نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر ان کے وائرل میم کی فروخت ان کے لیے بھی ’غیر متوقع ہے۔‘

یہ ڈیل ایک نجی کمپنی کے ذریعے ممکن ہوئی ہے اور فی الحال یہ پیسے ان تک منتقل نہیں ہوئے۔ مگر انھوں نے پلان بنایا ہے کہ یہ پیسے وہ اپنے انہی دوستوں کے ساتھ بانٹیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس رقم سے اپنا گھر بنانے اور گاڑی خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مدثر سے ان کی ناراضی کئی سال پہلے ہی ختم ہوگئی تھی۔

اپنی این ایف ٹی کی نیلامی کے بعد آصف نے مذاق میں خریدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘اب یہ میرے بہترین دوست ہیں۔’

آصف نے فیس بُک پر سلمان اور مدثر کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ تینوں اب بھی گہرے دوست ہیں۔ سلمان کا کہنا تھا کہ ‘اچھی، خاص دوستی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ میم میری نظر میں کچھ نہیں ہے۔’

مدثر کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ان پیسوں کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ خاص بات یہ ہے کہ ان تینوں کی دوستی 2015 سے لے کر اب تک ویسی ہی ہے۔

آصف نے بتایا کہ 2015 کے بعد صرف یہ تبدیلی آئی ہے کہ ان کی اور مدثر کی شادی ہوچکی ہے مگر سلمان کے لیے لڑکی کی کھوج جاری ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں دلچسپی بڑھی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں اس پر قانون سازی تاخیر کا شکار ہے مگر اس کی خرید و فروخت غیر قانونی عمل نہیں ہے۔

رواں سال جون میں پاکستان کے سابق کرکٹر وسیم اکرم اور شعیب اختر بھی این ایف ٹی کی مدد سے اپنے ڈیجیٹل اثاثے نیلامی کے لیے متعارف کرا چکے ہیں۔

بائنانس کے پلیٹ فارم پر 92 ورلڈ کپ سے متعلق فاسٹ بولر وسیم اکرم کا ایک این ایف ٹی 950 بی یو ایف ڈی (949.9 امریکی ڈالر) میں نیلام ہوا۔

این ایف ٹی کیا ہے؟

این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے۔

این ایف ٹی

Getty Images

معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہے، جیسے روپے پیسے۔ اگر کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کرسکتے ہیں۔

این ایف ٹی ڈیجیٹل دنیا میں ‘اپنی نوعیت کے واحد’ اثاثے ہیں جن کی خرید و فروخت کسی دوسرے اثاثے کی طرح ممکن ہے۔ لیکن یہ مواد آن لائن موجود ہوتا ہے، ہمارے ہاتھوں میں کسی ٹھوس شکل میں نہیں۔

این ایف ٹی میں جاری ہونے والے ڈیجیٹل ٹوکن یا سرٹیفیکیٹ کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی آن لائن اثاثے کا اصل مالک کون ہے۔ اسی طرح ہم ٹھوس حالت میں پائے جانے والے اثاثوں کے لیے بھی این ایف ٹی جاری کر سکتے ہیں جو اس کے اصل ہونے کی دلیل دیتا ہے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران کچھ این ایف ٹیز اربوں ڈالرز میں فروخت ہوئیں جس سے یہ موضوع ہیڈلائنز میں آتا رہا۔

اپریل کے اواخر میں ‘ڈیزاسٹر گرل’ نامی ایک مزاحیہ میم کو این ایف ٹی کے ذریعے فروخت کیا گیا۔ اس میں نظر آنے والی خاتون نے اپنی اصل تصویر کے عوض 473 ہزار ڈالرز حاصل کیے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words