مائرہ ذوالفقار قتل کیس: نامزد ملزم کے ڈی این اے نمونے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے مماثلت میچ کر گئے، پولیس کا دعویٰ

شاہد اسلم - صحافی، لاہور

صوبہ پنجاب کے پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے پاکستانی نژاد بیلجیئم کی شہری مائرہ ذوالفقار قتل کیس میں نامزد ملزم کا ڈی این اے کرائم سین سے ملنے والے نمونوں سے میچ کر گیا ہے۔

مائرہ ذوالفقار قتل کیس کی تفتیش کی نگرانی کرنے والے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس کیس میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان کے ڈی این اے نمونے اور کرائم سین سے جمع کیے گئے شواہد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوائے گئے تھے۔

پولیس افسر کے مطابق کرائم سین سے ملے تین مختلف نمونوں سے مرکزی ملزم ظاہر جدون کے ڈی این اے کے نمونوں سے میچ کر گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ شواہد ملزم کو سزا دلوانے کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔

پاکستانی نژاد مائرہ ذوالفقار کو تین مئی 2021 کو لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ان کے مکان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مائرہ کرائے کے گھر میں اپنی ایک دوست کے ساتھ مقیم تھیں اور وہ چند ماہ قبل ہی برطانیہ سے پاکستان لوٹی تھیں۔ مائرہ کے والدین برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔

اس قتل کی ایف آئی آر مقتولہ مائرہ ذوالفقار کے پھوپھا محمد نذیر کی مدعیت دو نامزد افراد سمیت چار ملزمان کے خلاف درج کروائی گئی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق نامزد ملزمان نے اس قتل کی منصوبہ بندی کی تھی کیونکہ یہ دونوں افراد مبینہ طور پر مائرہ سے شادی کے خواہشمند تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمان بشمول ظاہر جدون کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات، جن میں اقدام قتل، غیر قانونی اسلحہ رکھنے، اغوا اور چوری شامل ہیں، کے تحت اسلام آباد کے مارگلہ تھانے میں تین اور شالیمار تھانہ میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے دوسرے ڈی این اے کے نمونے پر کام ابھی جاری ہے اور بہت جلد یہ بھی پتا چل جائے گا کہ اس روز ملزم ظاہر جدون کے ساتھ دوسرا کون شخص تھا جس نے مبینہ طور پر اس قتل میں اس کی معاونت کی تھی۔

اس کیس میں پولیس ملزم ظاہر جدون، ان کا بھائی طاہر جدون اور ڈرائیور محمد وسیم کو گرفتار کر چکی ہے جبکہ کیس کا حتمی چالان تاحال جمع نہیں کروایا جا سکا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق فرانزک رپورٹ آنے کے بعد اب حتمی چالان بہت جلد عدالت میں جمع کروا دیا جائے گا جس کے بعد اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو گا۔

ملزم ظاہر جدون کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے پاس ایسی کوئی اطلاعات نہیں ہیں کہ ان کے موکل کا ڈی این اے کرائم سین سے اکھٹے کیے گئے نمونوں سے میچ ہوا ہے۔ سید فرہاد علی شاہ کے مطابق ابھی تک استغاثہ نے کیس کا حتمی چالان بھی عدالت میں جمع نہیں کروایا اور جب پولیس عدالت میں ایسی کوئی چیز پیش کرے گی تو پھر ہی وہ ایسے شواہد پہ کوئی بات کر سکیں گے۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مائرہ ذوالفقار کو مبینہ طور پر ایک سے زائد ملزمان نے قتل کیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق مائرہ ذوالفقار کے ناخنوں سے دو مردوں کے ڈی این اے کے علاوہ، کرائم سین سے قبضے میں لیے گئے دستانوں اور ازار بند پر سے بھی ایک مرد کے ڈی این اے کے نمونے ملے تھے۔

اس کے علاوہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو کرائم سین سے تیس بور پستول کی ایک غیر استعمال شدہ گولی، خون آلود دو ٹشو پیپرز، استعمال شدہ دستانوں کا ایک جوڑا، ایک ازار بند (ویسٹ بینڈ)، ایک عدد شرٹ، ایک جوتا، ایک مردانہ بنیان وغیرہ بھی ملے تھے۔ اس کے علاوہ پولیس کو جائے وقوعہ سے مائرہ کے زیر استعمال تین موبائل فون بھی ملے تھے۔

پولیس ٹیم پہلے ہی گرفتار ملزمان کے قبضے سے مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور پستول بھی برآمد کر چکی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’مائرہ جج بننا چاہتی تھی۔۔۔ اگر میری بیٹی کی بات سُن لی جاتی تو آج وہ زندہ ہوتی‘

مائرہ قتل کیس، پولیس کا ملزمان کے خلاف اہم شواہد حاصل کرنے کا دعویٰ

مائرہ ذوالفقار کیس: ’دونوں نامزد ملزمان کرمنل ریکارڈ رکھتے ہیں‘

مائرہ ذوالفقار کو بے دردی سے قتل کیا گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ

پولیس افسر کے مطابق ملزم ظاہر جدون دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ مبینہ طور پر وہ مائرہ ذوالفقار کی جانب سے کی جانے والی بلیک میلنگ سے تنگ تھا۔

پولیس حکام کے دعویٰ کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس کی مائرہ کی ملاقات چند برس قبل لندن میں ہوئی اور بعدازاں دوستی ہو گئی۔

ملزم ظاہر جدون کے پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق جب مائرہ ذوالفقار چند ماہ قبل پاکستان منتقل ہوئی تو دونوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا لیکن جب مائرہ نے ملزم جدون کی پرانی تصاویر اور ویڈیوز سے نہ صرف اسے مبینہ طور پر بلیک میل کرنا شروع کیا بلکہ مقتول نے ملزم ظاہر جدون کی منگیتر اور والدہ کی تصاویر بھی نازیبا الفاظ کے ساتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔

ملزم ظاہر جدون کے مطابق اس کے بار بار کہنے کے باوجود بھی جب مائرہ نے وہ تصاویر وہاں سے نہ ہٹائیں تو پھر غصے میں آ کر اس نے یہ انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ابتدائی طور پر اس کیس کی تفتیش تھانہ ڈیفنس کو سونپی گئی تھی لیکن کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے یہ کیس پولیس کی کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کو سونپ دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اپنے قتل سے محض دو ہفتے قبل مائرہ ذوالفقار نے تھانہ ڈیفنس بی میں ہی ایک نامزد ملزم کے خلاف ایک تحریری درخواست دی تھی کہ ملزم نے مبینہ طور پر اس کا موبائل چوری کیا اور وہ اسے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words