کورس تو مکمل ہو چکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں انتہائی خوش تھا کیونکہ میرا ایک لیکچرار کی حیثیت سے سفر شروع ہونے کو تھا۔ میں اسی خوشی کو ساتھ لیے جامعہ پہنچا تو جامعہ کے عملے کے ساتھ ساتھ چند اساتذہ نے بھی بہت خوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ اب تو میری خوشی اور بڑھ گئی تھی اور یہ جذبہ اور بڑھ گیا تھا کہ یہاں طالب علموں کو خوب جی جاں سے پڑھاؤ نگا اور اس ادارے کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالوں گا۔ جامعہ میں کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ یہاں طالب علموں کے ساتھ بہت اچھا تعلق بن گیا۔

کلاس میں بھی خوب رش رہتا اور سوالوں اور جوابوں کا سلسلہ بھی خوب چلتا۔ میں اکثر کلاس کے بعد بھی وقت دیتا اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہتا۔ ان مثبت باتوں کے باوجود مجھے کچھ اساتذہ مجھ سے ناراض نظر آتے اور کچھ نے تو مجھ سے کہہ بھی دیا کہ ”سر آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ اتنا ٹائم لگاتے ہیں اور پھر الگ سے بھی ٹائم دیتے ہیں اسٹوڈنٹس کو۔“ ان کے الفاظ پر مجھے دکھ بھی ہو رہا تھا اور حیرانی بھی کہ یہ لوگ استاد ہو کر ایسا کیسے بول سکتے ہیں؟

خیر اس وقت میں نے ان کو صرف اتنا جواب دیا کہ ”کیونکہ مجھے اپنی روزی حلال کرنی ہے اور اپنا کام دل سے کرنا ہے۔“ میرے اس جواب پر ان کا منہ اس طرح بنتا جس طرح میں نے کوئی بہت بری بات کہہ دی ہو مگر خیر میں اپنا کام پوری ایمانداری اور خلوص کے ساتھ کرتا رہا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آ گیا اور اس کی وجہ سے مجھے فریکچر ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ مجھے ڈیڑھ ماہ آرام کرنا ہوگا اور پلاسٹر کی وجہ سے یونیورسٹی جانا ممکن نہ ہوگا۔

مجھے اپنے طلباء کی بہت فکر ہونے لگی۔ ان کا کورس بھی رہتا تھا اور اگلے دو ماہ میں مجھے ان کا کورس مکمل کرانا تھا۔ مجھے یہ پریشانی لاحق تھی میں نے اپنے شعبے کی منتظمہ سے بات کی تو انہوں نے میرے ساتھ تعاون کیا اور مجھے کہا کہ ”طالب علموں کا نقصان نہ ہوگا اور جلد آپ کی جگہ آپ کے آنے تک کوئی دوسرا ٹیچر ارینج کر دیں گے۔“ یہ سن کر میری پریشانی کافی دور ہوگی۔ قریب پندرہ دن بعد یونیورسٹی کی ایک استانی نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ وہ آگے میرا کورس پڑھاوں گی اور وہ اسٹوڈنٹس کو کچھ اسائنمنٹس بھی دینا چاہتی ہیں جن کے نمبرز بھی ہوں گے ۔

میں نے با خوشی ان کو اس کی اجازت دیدی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور معافی بھی چاہی کہ اچانک ان کو میرا کورس بھی پڑھانا پڑھ رہا ہے۔ جس کے جواب میں انہوں نے مجھے کورس کی فکر نہ کرنے اور اپنی صحت کا دھیان رکھنے کا کہا جس پر مجھے کافی خوشی محسوس ہوئی کہ کتنا اچھا ادارہ ہے اور کس قدر خیال رکھنے والے لوگ ہیں۔ مجھے اپنے پیشے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور آخرکار وہ وقت بھی آ گیا کہ پلسٹر بھی کھل گیا اور میں بھی دوبارہ چلنے کے قابل ہو گیا۔

پھر کیا تھا میں نے فوری طور پر اپنی ذمہ داری پر واپس جانے کا سوچا اور یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی پہنچنے پر وہاں کے عملے اور اساتذہ بہت فکر مندانہ انداز سے ملے اور مجھے ان کا اتنا خیال کرنا دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی تھی۔ پھر میں ان استانی سے ملا جو میرا کورس پڑھا رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کورس تو مکمل ہو چکا ہے مجھے اب کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی یہ بات مجھے مثال کے طور پر لگی کیوں کہ یہ کسی ممکن ہو سکتا ہے کہ جو کورس مجھے مکمل کرانے کے لیے دو مہینے کا وقت درکار تھا وہ انہوں نے صرف ایک ماہ میں مکمل کرا بھی دیا۔

خیر جب میں کلاس میں داخل ہوا تو وہاں جشن کا سما بن گیا۔ طلباء کی خوشی قابل دید تھی اور ان کی یہ محبت دیکھ کر جو جذبات میرے تھے وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ خیر یہ پر خلوص جوش کا طوفان جب تھوڑا تھما تو میں نے طلباء سے ان کے پچھلے ایک ماہ کے حالات کا پتا کیا تو طلباء نے بھی ان ٹیچر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کورس تو مکمل ہو چکا ہے۔ میں یہ جان کر اندر ہی اندر ان ٹیچر کا شکرگزار بھی ہو رہا تھا اور حیران بھی تھا ان کی قابلیت پر کہ اتنا بڑا کورس انہوں نے ایک ماہ کا عرصے میں مکمل بھی کر دیا۔

میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ایک طالبعلم کی آواز آئی کہ ”سر کورس مکمل نہیں ہوا مگر آج ہو جائے گا صرف آخری سبق بچا ہے۔“ میں نے یہ سن کر کہا ”کوئی بات نہیں وہ آخری سبق آپ کو میں پڑھاوں گا۔“ میری بات سن کر کلاس کے چار پانچ طلباء کے گروپ میں کھلبلی مچ گئی۔ ان میں سے ایک نے کہا ”سر وہ تو ہم نے آج پڑھانا تھا ہماری پریزینٹیشن ہے اس پر۔“ اس جملہ نے مجھے پریشان کر دیا کہ میں لیکچرار ہوں تو لیکچر دینا میرا کام ہے یعنی با حیثیت استاد سبق پڑھانا میرا کام ہے تو پھر یہ طلباء کیوں پڑھانے کا کہہ رہے ہیں۔

میں نے جب طلباء سے سارا ماجرا پوچھا تو پتا چلا کہ جو ٹیچر میری جگہ پڑھا رہی تھیں انہوں نے خود اسباق کو پڑھانے کے بجائے طلباء میں اس کو اسائنمنٹ کی صورت میں تقسیم کر دیا اور یوں کورس کو بنا پڑھائے ہی مکمل بھی کرا دیا۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ طلباء اس رویہ کے عادی تھے ٹیچرز کی طرف سے مگر میرے لیے یہ انتہائی افسوسناک تھا۔ بہت شرمندگی بھی ہو رہی تھی کہ یہ طلباء یہاں سیکھنے کے لئے آتے ہیں سکھانے کے لیے نہیں ان کو پڑھانا تو میرا کام تھا۔

پھر ٹیچر کے اس عمل پر حیرت ہوئے کہ میرا جن لوگوں نے اتنا خیال رکھا اتنا تعاون کیا ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں؟ کیا یہ بھی ایک قسم کی کرپشن نہیں ہے؟ جس پیشے کے لوگوں پر کچھ عرصہ قبل فخر کر رہا تھا آج ان کے لیے پریشان ہوں کہ کیا کر رہے ہیں یہ لوگ؟ کیا یہ انصاف ہے اپنے پیشے کے ساتھ؟ مگر اب میں کیا کر سکتا تھا کیوں کہ کورس تو مکمل ہو چکا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments