پاک بھارت تعلق کی گانٹھ: جے رام اور اللہ اکبر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھترویں یوم آزادی کے حوالے سے ہندوستان ٹائمز کے سیاسی ایڈیٹر اور میرے دیرینہ دوست ونود شرما نے مجھے درخواست کی کہ "پاکستان کیسے بھارت کو دیکھتا ہے” کے حوالے سے ایک مضمون لکھوں. میں نے اس سے کہا کہ بھئی اس کا دار و مدار اس پر ہے کہ آپ کس نگاہ سے بھارت کو دیکھتے ہیں. ہر ایک کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے. ایسے میں مجھے اپنے دوست اور نہایت عقابی کالم نگار عبدالقادر حسن مرحوم یاد آئے. ہمارے وفد کے جموں و کشمیر کے دورے کے دوران جموں یونیورسٹی کے طلبا و اساتذہ سے مختصر خطاب کرتے ہوئے ملک صاحب نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا رشتہ "ٹام اینڈ جیری” کارٹون میں دو کرداروں کی باہم چپقلش اور لازم و ملزوم ہونے کے مصداق ہے. لڑتے بھی ہیں اور جدا بھی نہیں ہوتے. یہ علیحدہ بات ہے کہ لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک کی چونچ اور ایک کی دم. محبت اور نفرت کے اس عجب بندھن کے ماسوا دیکھا جائے تو ہزار ہا سال تک برصغیر ہندوستان میں بسنے والے لوگ مذہبی بنیاد پر دو اکثریتی مسلم اور ہندو ریاستوں میں منقسم کر دیے گئے تھے اور فرقہ دارانہ فسادات نے ہر دو اطراف میں ایسی قیامت بپا کی تھی کہ جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے. بنگال اور پنجاب کی تقسیم سب سے ہولناک تھی اور بارڈر کی آڑی ترچھی لکیروں نے گھروں تک کو تقسیم کر دیا تھا. بدقسمتی سے قومی تحریک آزادی کی قیادت اقلیتی سوال کو حل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی جس کے باعث خوفناک خون خرابہ ہوا جس کے زخم بھر کر بھی ہرے ہیں. قرارداد لاہور ( 1940 ) کو قبول کر لیا جاتا یا پھر کیبنٹ مشن پلان پر کانگرس راضی ہوجاتی تو برصغیر کا نقشہ کچھ اور ہوتا. بنگال تقسیم ہوتا نہ پنجاب اور نہ آبادیوں کا اتنا پرہجوم انخلا اور فرقہ وارانہ خون خرابہ. انڈیا کبھی بھی ایک قوم نہ تھا، نہ ہی اس کی ہمہ نو تاریخ کا کوئی ایک سوتا ہے. دراوڑوں سے بہت پہلے اور آریاؤں کے بہت بعد تک برصغیر میں جانے کہاں کہاں سے حملہ آور وارد ہوئے اور اس کی مٹی میں مر کھپ گئے. برطانوی سامراج نے پرانے، خود کفیل زرعی پیداواری نظام اور دیہی خلوت پسندی کو تباہ کر کے جدید استعماری ریاست کی بنیاد ڈالی. جاگیرداری کو مضبوط کرتے ہوئے گماشتہ سرمایہ داری کا تڑکا لگادیا. مغلوں کے بعد انگریزوں نے برٹش انڈین ایمپائر تو کھڑی کردی تھی، لیکن اس کی کثرت برقرار رہی تقسیم ہوئی بھی تو برٹش انڈین ایمپائر. بھارت اور اس کی کانگرسی سرکار برطانوی سلطنت کی وارث ٹھہری اور اس سے توقع تھی کہ وہ "آگو قوم” کا کردار ادا کرتے ہوئے برصغیر کی اقدار اور سمت کا تعین کرے گی. جبکہ ایک "کرم خوردہ” پاکستان شروع سے ہی اس مخمصے کا شکار رہا کہ اسے ایک دنیاوی قومی ریاست بننا ہے یا پھر ایک روحانی ملت. برصغیر سے علیحدگی کے اپنے مضمرات تھے کہ پاکستان بھارت سے کیسے مختلف نظر آئے یعنی ایک معکوس عکس (Reverse Image) کے طور پر بھلے اس سے کیسے ہی صورت بگڑ کر رہ جائے. اپنے جسم کے دو بازوؤں کے کٹ جانے کے غم میں کانگرسی قیادت تقسیم ہند کے پلان پہ دستخط کرنے کے باوجود بھارت کے مذہبی بٹوارے کو ماننے پہ تیار نہیں ہوئی.

کشمیر پہ ہونے والی پہلی پاک بھارت جنگ سے کارگل کی مہم تک پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی تھوڑے وقفوں کے بعد مستقل صورت اختیار کر گئی. کشمیر کی ہڈی دونوں ملکوں کے گلے میں پھنس کر رہ گئی جو نگلی جا سکی نہ اگلی جا سکی. ریپلکن انڈیا نے اگر سیکولرازم، جمہوریت اور عالمی عدم وابستگی کا راستہ دکھایا بھی تو پاکستان اس کے علاقائی تھانیدار بننے کے مونرو ڈاکٹرائین سے بدک کر مخالف سمت چل نکلا. سول و فوجی نوکر شاہی کی بالادستی، مضبوط مرکز اور اسلام کے جھنڈے نے بھارت دشمن قوم پرستی کی راہ سجھائی جسے بھارتی قیادت جلا بخشتی رہی. سرد جنگ کے زمانے نے عسکری قیادت کو ایک سنہرا موقع فراہم کیا کہ وہ بھارت سے فوجی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے امریکہ کی سرپرستی میں چلنے والے مغربی فوجی اتحادوں کا حصہ بن جائے. بھارت اور چین کے درمیان 1962ء کی جنگ نے پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک اور بڑا دروازہ کھول دیا.

وزیراعظم اندرا گاندھی نے (اپنی شمال مشرقی نرم پٹی کے تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے ) 1971ء کی جنگ میں جنرل یحییٰ خان کی احمقانہ فوج کشی اور خون ریزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے "دو قومی نظریہ” کو خلیج بنگال میں ڈبو تو دیا، لیکن بنا بھی تو مسلم بنگلہ دیش جو مغربی بنگال سے علیحدہ رہنے پہ مصر ہے. اگر بھارت کو تحفے میں اندرا گاندھی کا ایمرجنسی رول ملا تو پاکستان کو 1973ء کے آئین کی سوغات اور شملہ معاہدہ. پھر سنائی بھی دی تو "مسکراتے بدھا” کی اوٹ میں ایٹمی دھماکوں کی گونج اور اس کی بازگشت میں ایٹمی و روایتی اسلحہ کی باہمی تباہی کی دوڑ. افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد سے سرد جنگ کا نیا محاذ کھلنے پر جنرل ضیاءالحق کی چاندی ہو گئی اور سی آئی اے کی جنگ لڑتے لڑتے پاکستان دہشتگردی کے ہاتھوں لہو لہان ہو گیا. نوے کی دہائی میں مختصر سول حکومتوں نے جمہوری استحکام کی خاطر بھارت سے کشیدگی کم کرنے کی سعی ضرور کی لیکن وہ چلنے نہیں دی گئی. برصغیر میں مذہبی تفرقے کو پھر سے زندہ کیا بھی تو 1953ء میں پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے. بھارت میں 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام نے ایک طرف وہاں ہندوتوا کو فروغ دیا جس سے پاکستان میں جاری اسلامی بنیاد پرستی کو انگیخت ملی. پھر بھی وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے لاہور امن پراسیس شروع کیا جسے جنرل مشرف نے عقب سے کارگل میں چڑھائی کر کے ناکام بنا دیا. پھر اسی جنرل مشرف نے پہلے واجپائی حکومت (2004) اور پھر من موہن سنگھ حکومت (2006-8) سے مربوط بات چیت کے ذریعہ کشمیر کے مسئلے کا عملی حل تلاش تو کیا، لیکن تنازعہ حل نہ ہوا. امن کوششوں کے تابوت میں آخری کیل نومبر 2008ء میں ممبئی میں ہونے والی دہشتگردی نے ایسی ٹھونکی کہ بعد ازاں تمام کوششیں رائیگاں گئیں. الٹا بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت اور خود مختاری بھی 5 اگست 2019ء میں ختم ہوئے دو برس سے اوپر ہو چلے ہیں اور پاک بھارت نہ امن، نہ جنگ کی حالت برقرار ہے.

برصغیر کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے والا نہیں. اگر پاکستان میں مذہبی بیانیہ حاوی ہو چلا ہے اور ہر سو فرقہ وارانہ انتہا پسندوں کے جھنڈے لہراتے نظر آتے ہیں اور آئے دن اقلیتیں نشانہ ستم بنتی ہیں، تو بھارت میں سیکولر جمہوریہ کے راستے سے ہٹتا ہوا سرعت سے ہندو راشٹرا بنتا چلا جا رہا ہے. اب ہندو اکثریتی بھارت اور مسلم اکثریتی پاکستان میں مذہبی انتہا پسند اقلیتوں کے زندگی دوبھر کرتے ہوئے اکثریتی فرقے یا مذہب کے ماننے والوں کو فسطائیت کی جانب دھکیل رہے ہیں. ایک طرف کشمیر پر جبری قبضے، حق خودارادیت سے انکار اور ہندوتوا کے ابھار سے بھارت کی جمہوریت پسپا ہو رہی ہے تو دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی فتوحات سے پاکستان میں مذہبی قوتیں پھر سے توانائی حاصل کر رہی ہیں. نتیجتاً برصغیر کے ممالک مذہبی انتہا پسندوں کے گھیرے میں ہیں اور جو ایک دوسرے کو تقویت بخشتی ہیں اور بڑھاوا بھی. سات آٹھ عشرے پہلے مذہبی بٹوارے کے تسلسل میں برصغیر کے ملکوں میں جمہوریت اور امن کی قوتیں پھر سے پسپا ہو رہی ہیں. ادھر جے رام اور ادھر اللہ اکبر!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 31 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments