ہیٹی میں 7.2 شدت کے زلزلے میں کم از کم 700 سے زائد افراد ہلاک، ہزاروں زخمی


ہیتی میں زلزلہ

Getty Images

کیربیئن ملک ہیٹی میں سنیچر کو آنے والے شدید زلزلے میں اب تک کم از کم 724 افراد ہلاک اور 2,800 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

سنیچر کی صبح آنے والے اس زلزلے کی شدت 7.2 بتائی جا رہی ہے جس نے گرجہ گھروں اور ہوٹلوں سمیت متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

عمارتوں کے ملبے سے زندہ بچنے والے افراد کی تلاش اور متاثرین کو نکال کر ہسپتال پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر مقامی ہسپتال شدید دباؤ میں ہیں اور طبی سہولیات کی قلت سے دو چار ہیں۔

اہلکاروں کے مطابق متاثرین کی بڑی تعداد لاپتہ ہے، جن کی تلاش جاری ہے۔

قریب ایک ماہ قبل ملک کے صدر کے قتل اور اس سے جنم لینے والے سیاسی بحران سے متاثرہ ملک ہیٹی کے لیے زلزلے کے سبب مشکلات بظاہر بڑھ گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے ’شدید نقصان‘ کے باعث ملک میں ایک ماہ تک ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ہیٹی 2010 میں بھی شدید زلزلے کی زد میں آیا تھا جس سے وہ آج تک مکمل طور پر ابھر نہیں سکا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے تازہ زلزلے کا مرکز سینٹ لوئی ڈوسڈ شہر سے 12 کلومیٹر دور مقام کو بتایا ہے۔ لی کائے اور آس پاس کے جنوب مغربی علاقوں کو زلزلے سے شدید نقصان ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں مقامی رہائشیوں کو متاثرین کو ملبے میں سے نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

زلزلے کے شدید جھٹکوں کو گنجان آباد دار الحکومت پورتو پرنس اور تقریباً 125 کلومیٹر دور تک ہمسائے ممالک میں بھی محسوس کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کے مرکزی مقام کے نزدیک مقیم کرسٹیلا سینٹ نے بتایا کہ ’اس زلزلے میں گھر تباہ ہو گئے اور ہلاک ہونے والوں کے علاوہ زخمیوں کی بہت بڑی تعداد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘Map

وزیر اعظم ایریئل ہینری کے مطابق متاثرین کی مدد کے لیے بھیجے گئے امدادی دستے انھیں مدد پہنچانے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا ’اس وقت ہمارے لیے سب سے ضروری ہے کہ ہم ملبے میں دبے زیادہ سے زیادہ زندہ افراد کو بچا سکیں۔ اطلاعات کے مطابق مقامی ہسپتال اس وقت بڑی تعداد میں آنے والے زخمیوں کے علاج کے باعث شدید دباؤ میں ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے لی کائے کے متاثرہ علاقے کا فضائی دورہ بھی کیا۔‘

https://twitter.com/DrArielHenry/status/1426648788903542789

امریکی صدر جو بائیڈن نے متاثرہ ملک کی مدد کے لیے فوری امداد بھیجی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ امریکی امدادی ادارہ یو ایس ایڈ نقصان کا اندازہ لگانے اور زخمیوں کے علاج کے علاوہ تعمیر نو میں بھی مدد کرے گا۔

بائیڈن نے کہا ’ہیٹی کے شہریوں کے لیے پہلے سے مشکل وقت میں آنے والے اس زلزے پر میں بہت افسردہ ہوں۔‘

امریکی جیولوجیکل سروے نے اس سے قبل متنبہ کیا تھا کہ زلزلہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق زلزلے کے بعد بھی علاقے میں متعدد جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک 5.8 شدت کا جھٹکا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جب 45 سیکنڈ میں پورا کوئٹہ شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا

یورپی دیہات میں اچانک پانی کے بڑے بڑے درجنوں گڑھے نمودار، ماہرین پریشان

ازمیر زلزلہ: زمین بوس عمارتوں کے بیچ اپنے پیاروں کے منتظر لوگ

ہیتی میں زلزلہ

EPA

ہیٹی کے ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر فرانز ڈوول نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ لو کائے شہر کے دو ہوٹل زلزلے کے سبب تباہ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کس طرح مقامی ہسپتالوں پر متاثرین کے علاج کا دباؤ ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’چودہ اگست کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے آہستہ آہستہ، کافی دیر تک ہیٹی کی زمین شدید جھٹکے دیتی رہی۔‘

مقامی صحافیوں کے مطابق جنوبی ساحلی علاقے کے زیادہ تر ہوٹل اور چرچ یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا۔

ہیتی میں زلزلہ

EPA

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں تباہ ہونے والی عمارتوں اور ملبے کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے کہ کتنا شدید نقصان ہوا ہے۔

ہیٹی میں فلاحی ادارے سیو دا چلڈرن کی سربراہ لیلیٰ بوراہلا نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے میں ابھی کئی دن لگ جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ انسانی سطح پر ایک ہنگامی صورتحال ہے۔‘

https://twitter.com/JCOMHaiti/status/1426533275858788352

دار الحکومت پورتو پرنس کی رہائشی 34 سالہ ناومی ورنیئس نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ان کی آنکھ کھلی۔

انھوں نے کہا ’میری آنکھ کھلی تو میرے پاس جوتے پہننے کا بھی وقت نہیں تھا۔ ہم 2010 کے زلزلے دیکھ چکے ہیں۔ میرے پاس بھاگنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ بعد میں مجھے یاد آیا کہ میرے دو بچے اور میری والدی ابھی بھی گھر کے اندر ہیں۔ میرا ہمسایہ گھر کے اندر گیا اور اس نے ان سے باہر نکلنے کو کہا۔ ہم سڑک کی جانب بھاگے۔‘

2010 میں ہیٹی میں آنے والے شدید زلزلے میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ معیشت کو زبردست نقصان پہنچا تھا۔

سنیچر کو آنے والا زلزلہ بھی ایسے وقت میں آیا ہے جب گزشتہ ماہ ملک کے صدر کے قتل کے بعد سے ہیٹی سیاسی بحران کی زد میں ہے۔

ٹینس سٹار نیومی اوساکا جاپانی اور ہیٹی نژاد ہیں۔ انھوں نے ٹویٹ کر کے ہیٹی کے لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اس ہفتے ہونے جا رہے ویسٹرن ایڈ سدرن اوپن تورنامنٹ کے حوالے سے انھوں نے کہا ’میں اس ہفتے ایک ٹورمنٹ میں کھیلنے جا رہی ہوں اور میں اس میں جیتنے والی رقم ہیٹی میں امدادی کارروائیوں کے لیے دوں گی۔ ہم مضبوط لوگ ہیں، مشکلات سے ابھرتے رہیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words