کیا طالبان افغانستان کو تاریک ماضی میں واپس دھکیل دیں گے؟ جان سمپسن کا تجزیہ

جان سمپسن - ورلڈ افیئرز ایڈیٹر


Taliban fighters in Laghman province on 15 August 2021

Getty Images

14 نومبر 2001 کو جب میں میں اور میرے ساتھی کابل کی گلیوں میں جشن مناتے ہجوم کے بیچوں بیچ سے گزر رہے تھے تو ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ ’شکر ہے آپ آ گئے ہیں۔‘

افغانستان میں شمالی اتحاد کی طالبان مخالف فورسز، جنھیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی، شہر کے مضافات میں رُکی ہوئیں تھیں اور طالبان کو شہر سے فرار ہونا پڑ رہا تھا۔

حالیہ دور کی سب سے شدید مذہبی آمریت، یعنی طالبان کا پانچ سالہ دور اقتدار ختم ہو چکا تھا۔

طالبان کے دور میں افغانستان ایک ’بلیک ہول‘ بن گیا تھا جہاں ہر قسم کی شدت پسندی پروان چڑھ سکتی تھی۔

صرف دو ماہ قبل ہی نیویارک اور واشنگٹن میں 9/11 کے حملوں کی منصوبہ بندی اسامہ بن لادن اور ان کی القاعدہ تنظیم نے کی تھی۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ طالبان دوبارہ لوٹ سکتے ہیں۔

اور آج ہر کوئی اس کی وجوہات ڈھونڈ رہا ہے۔

اور وجوہات ڈھونڈنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

John Simpson in Afghanistan in 2001

BBC
جان سمپسن 2001 میں افغانستان میں

افغانستان میں طالبان کے بعد قائم ہونے والی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتیں اگرچہ جمہوری طور پر منتخب ہوئی تھیں مگر وہ کبھی بھی مضبوط نہیں تھیں اور اُن کے ادوار میں کرپشن ہی بہترین انداز میں کام کرتی تھی۔

مگر پھر بھی آج اشرف غنی اپنے صدارتی محل میں ہوتے اور افغان فوج مہنگی مغربی ملٹری گاڑیوں میں گھوم رہی ہوتی اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ فیصلہ نہ کرتے کہ انھیں 2020 کے امریکی انتخابات سے پہلے خارجہ امور میں کامیابی درکار ہے۔

ان کا خیال تھا کہ ایک طویل مدتی جنگ کو ختم کرنے سے انھیں یہ کامیابی حاصل ہو جائے گا۔

بہت سے افغان سیاستدان اور صحافی امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں فروری 2020 میں مذاکرات کی تکمیل سے خوفزدہ ہو گئے تھے اور ان کا یہ خوف اس وقت دگنا ہو گیا جب نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ اس معاہدے پر قائم رہیں گے۔

مجھے خبردار کیا گیا کہ دوحہ میں طالبان لیڈر جتنے بھی پُرامن اور اعتدال پسند لگیں، میدان میں موجود طالبان جنگجؤوں نے مکمل طور پر معاہدے کی شرائط کی پاسداری نہیں کرنی۔

اور یہی ہوا ہے۔

جیسے ہی امریکی اور دیگر مغربی فوجیوں نے ملک سے انخلا کا عمل شروع کیا، طالبان نے اپنی طاقت میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ قیدیوں کو قتل کیے جانے کی اطلاعات سے ملک کے کونے کونے میں خوف پھیلنے لگا اور ایک ایک کر کے شہر گرنے لگے، یہاں تک کہ کابل از خود اُن کے حوالے کر دیا گیا۔ افغان حکام اور سینیئر فوجی حکام کی شہر کے ہوائی اڈے پر دوڑ لگی ہوئی تھی کہ کسی طرح ملک سے نکل جائیں۔

Afghans wait in long lines for hours at the passport office in Kabul

Getty Images

شاید طالبان اپنے اس وعدے پر قائم رہیں گے کہ وہ کسی سے بدلہ نہیں لیں گے اور پولیس، فوج، اور سول سروس سے کہیں گے کہ وہ کام کرتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا: ’ہمیں نہ مارو، ہم عام شہری ہیں‘

طالبان افغانستان تنازعے میں سعودی عرب سمیت کون سا اسلامی ملک کس کے ساتھ ہے؟

داڑھی، برقعہ، موسیقی۔۔۔ کیا طالبان دوبارہ نوے کی دہائی کے سخت گیر قوانین کا نفاذ کریں گے؟

ہو سکتا ہے وہ سوچیں کہ یہ شاید بہتر ہے کہ مغرب کو دوبارہ للکارا نہ جائے۔

مگر اہم سوال یہ ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان کیسا ملک ہو گا؟

ہمارے پاس اس حوالے سے ایک ہی گائیڈ ہے اور وہ ہے سنہ 1996 کے بعد پانچ سال کا طالبان کا دور جو اس وقت شروع ہوا جب طالبان نے احمد شاہ مسعود کی حکومت گرائی تھی۔

میں نے اس دوران افغانستان میں بہت وقت گزارا اور اس دور کو بہت خوفناک پایا۔

شریعہ قوانین اپنی شخت ترین شکل میں ہر جگہ لاگو تھے اور سزا کے طور پر سرعام قتل کرنا، سنگسار کرنا، اور کوڑے مارنا عام بات تھی۔

گلیوں کے کونوں پر بدمعاشوں کی ٹولیاں کھڑی ہوتی تھیں جو ایسے مردوں پر حملے کرتے تھے جو مغربی لباس بہنتے تھے۔

عورتوں کو صرف اس وقت باہر جانے کی اجازت تھی جب ان کے پاس مردوں کی جانب سے لکھی گئی اجازت تحریری شکل میں ہوا اور انھوں نے مکمل برقعہ پہنا ہوا ہو۔

طالبان کے وزیر دفاع ملا بلوچ نے ایک دفعہ مجھ سے شکایت کی کہ انٹرنیشنل ریڈ کراس نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی ہے کہ انھیں سرجن دیے جائیں جو چوروں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں، اس لیے انھیں یہ کام خود کرنا پڑ رہا تھا۔ بظاہر انھیں اس کام میں کافی مزہ آ تا تھا۔

ٹی وی کے لیے کام کرنا تو بہت مشکل تھا کیونکہ کسی بھی جاندار چیز کی تصویر بنانا مذہبی بنیادوں پر ممنوع تھا۔ کتابوں کی دکانوں پر اکثر تصاویر کی وجہ سے حملے ہوتے تھے اور دکانداروں کو کوڑے مارے جاتے تھے۔

زیادہ تر لوگ اگر شہر چھوڑ سکتے تھے تو انھوں نے شہر چھوڑ دیے۔ دکانیں بند کر دی گئیں۔

طالبان تیل کی درآمد کے پیسے نہیں دے سکتے تھے چنانچہ رات کو شہر کی سب سے روشن لائٹیں وہ موم بتیاں تھیں جو لوگوں نے اپنی کھڑکیوں میں لگائی ہوتی تھیں۔ اور سب سے اونچی آواز ان کتوں کی ہوتی تھی جنھیں ان کے مالکان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

افغان حکومتوں کی مسلسل ناکامیاں اپنی جگہ، مگر کابل اور دیگر شہروں سے طالبان کے انخلا کے بعد کابل اور دیگر شہروں میں زندگی واپس لوٹ چکی تھی۔

Kabul in 2021

Getty Images

معیارِ زندگی تیزی سے اوپر چلا گیا ہے اور خالی گلیوں میں گاڑیوں کی بھرمار تھی۔ سکول پھلنے پھولنے لگے، خاص طور پر لڑکیوں کے سکول۔ طالبان کے دور میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی تھی۔ طالبان کے دور میں ممنوع موسیقی ہر جگہ سنائی دیتی تھی۔ ہر جگہ نئی عمارتیں تھیں۔

جب آخری مرتبہ میں وہاں گیا تو میں وہ مقام بھی ڈھونڈ نہ سکا جہاں سے 2001 میں میں نے اور میرے بی بی سی کے ساتھیوں نے کابل میں مارچ کرنا شروع کیا تھا۔ اب ہر جگہ تعمیرات ہو چکی تھیں۔

مزید پڑھیے

’کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

دو دہائیوں تک امریکہ کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟

صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

زیادہ تر افغان طالبان کے حالیہ قبضے کو اپنے لیے تباہی تصور کریں گے۔

مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا طالبان افغانستان کو اسی ماضی میں لے جائیں گے یا پھر انھوں نے اپنا سبچ سیکھ لیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words