رپورٹر کی ڈائری: میں نے کابل میں کیا دیکھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اطلاع ملی کے صدر اشرف غنی ملک چھوڑ چکے ہیں اور طالبان اقتدار کی منتقلی کے لیے حکومت سے مذاکرات کررہے ہیں۔

ایک زور دار جھٹکے سے میری آنکھ کھلی۔ کیا یہ دھماکہ تھا؟ نہیں بلکہ قریب ہی جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے ایسا ہوا تھا۔ یہاں سب ہی لوگ کچھ ہونے کے انتظار میں تھے۔ پورے ملک میں طالبان کی پیش قدمی توقع سے زیادہ تیزی سے جاری تھی۔

سینئر مغربی ذرائع کہہ چکے تھے کہ ایک دو دن میں طالبان کابل کے دروازے پر ہوں گے۔ ان کا مشورہ تھا کہ 19 اگست تک کابل سے نکل جاؤ۔ میں پہلے ہی 17 اگست کو روانہ ہونے والی فلائٹ کے لیے بکنگ کرا چکی تھی۔

مجھے خود سے زیادہ اپنے افغان رفیقِ کار کی فکر تھی جنھیں ٹوئٹر پر طالبان کے حامی دھمکا رہے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے پاسپورٹ بنوانے کی درخواست دے چکے تھے۔

انہیں پاسپورٹ کا بے صبری سے انتظار تھا اور وہ اس کے جلد حصول کے لیے اتوار کی صبح پاسپورٹ دفتر پہنچے ہوئے تھے۔ افغانستان میں ہفتہ وار تعطیل جمعرات اور جمعے کو ہوتی ہے۔

میں اپنی فلائٹ سے قبل کرونا کا ٹیسٹ کرانے کلینک میں موجود تھی جب مجھے ان کی کال آئی۔

میرے اس ساتھی کا سانس پھول رہا تھا۔ انہوں نے کہا، "وہ ہمیں دھکے دے کر باہر نکال رہے ہیں اور گھر جانے کا کہہ رہے ہیں۔ پاسپورٹ آفس میں ہر کوئی بدحواس ہوکر بھاگ رہا ہے۔ طالبان کابل میں آچکے ہیں۔”

 

میں نے انہیں گھر جانے کا کہا اور ان کی دی ہوئی معلومات ٹوئٹ کر دیں۔

ٹیسٹ کرا کے جیسے ہی میں اپنے ریسٹ ہاؤس جانے کے لیے باہر نکلی تو ہر جانب بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ ہر کوئی عجلت میں تھا۔

مجھے پتا چلا کہ طالبان ابھی کابل میں داخل نہیں ہوئے بلکہ شہر کے اطراف میں موجود ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔ پھر اطلاع ملی کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے ہیں اور طالبان حکومت کے ساتھ اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

بیس برس قبل اقتدار سے محرومی کے بعد ایک بار پھر طالبان ایک گولی چلائے بغیر دارالحکومت میں فاتحانہ انداز میں داخل ہو رہے تھے۔

ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔ اس لیے میں دو صحافیوں کے ساتھ شہر کا ماحول دیکھنے نکل گئی۔

گھبراہٹ اور عجلت کا شکار ڈرائیور سڑک کی غلط سمت میں گاڑیاں لے آئے تھے جس کی وجہ سے ٹریفک جام تھا۔ جیسے جیسے طالبان کے شہر کے قریب آنے کی اطلاعات آرہی تھیں دکانیں، دفاتر اور کلینک تیزی سے بند ہو رہے تھے۔ شہر کی اس اچانک بندش کی وجہ سے لوگ ہر طرف سے ایک ہی وقت میں سڑکوں پر آگئے تھے۔

ہماری گاڑی بھی ٹریفک جام میں پھنس گئی تو ہم نے باہر نکل کر لوگوں سے بات کرنا شروع کر دی۔ کار بہت سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اس لیے ہم نے کئی بار گاڑی سے اتر کر عام لوگوں سے بات چیت کی۔ ایئر پورٹ کے سوا ہمیں شہر میں کہیں سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آئے۔

لوگ کیا کہہ رہے تھے؟

حامد اللہ نے ہمیں اپنا پورا نام بتانے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

اس نے کہا کہ وہ بہت برا محسوس کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہم وہ سب کھو دیں گے جو گزشتہ 20 برس میں حاصل کیا تھا۔

حامد اللہ نے بتایا کہ وہ امریکی فوج کے ساتھ کام کر چکا ہے اور سرکاری ملازم بھی رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اسے اپنی جان کا خوف تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ اگر طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا اور انہیں اس کے بارے میں معلوم ہوگیا تو وہ اسے مار دیں گے۔

اگرچہ طالبان نے عام معافی کا اعلان کیا تھا اور انتقامی کارروائیاں نہ کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے، لیکن ان کی تسلیوں سے حامد اللہ کا خوف دور نہیں ہوا تھا۔

اس دن سب سے زیادہ اثر انگیز ٹوئٹ امید شریفی کا تھا۔ انہوں نے افغانستان میں فن کاروں کا ایک گروپ ’آرٹ لارڈز‘ بنایا ہے۔ یہ گروپ کابل کی کنکریٹ کی بھدی دیواروں کو خوش نما بنانے کے لیے ان پر بڑی بڑی پینٹنگز یا میورلز بنانے کی وجہ سے مشہور ہے۔

’صبح بخیر کابل‘

امید شریفی نے ایک ویڈیو ٹوئٹ کی جس میں فن کار ایک دیوار پر میورل بنا رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی امید شریفی نے لکھا "صبح بخیر کابل! ہم آج بھی ایک میورل بنا رہے ہیں۔ اس سے مجھے ٹائٹینک فلم کا وہ مشہور سین یاد آ رہا ہے جب جہاز ڈوبنے تک موسیقار اپنے ساز بجا رہے تھے۔ مجھے امید ہے دنیا والے ہماری بدنصیبی کا تماشا دیکھ کر محظوظ ہو رہے ہوں گے۔”

اس روز سڑکوں پر کچھ اور مناظر بھی دیکھے۔ نارنجی رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس ایک نوجوان اپنی کار میں تیزی سے پانی کی بوتلیں بھر رہا تھا۔ وہیں ایک گلی کے کنارے ایک نوجوان جو معاشیات کا طالبِ علم تھا، کہہ رہا تھا کہ حکومت نے کابل طالبان کے "سپرد” کر دیا۔

بعض شہری خون خرابے کے بغیر آنے والی اس تبدیلی پر خوش تھے۔ ان میں سے ایک نے اپنا نام بتائے بغیر کہا کہ صبح میں بہت پریشان تھا۔ لیکن اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔

جب میں اپنے ریسٹ ہاؤس پہنچی تو وہاں خانساماں، صفائی کرنے والوں اور عملے کے دیگر لوگوں کی آںکھوں میں آنسو تھے اور چہروں پر پریشانی۔

میں نے ایک سے پوچھا کہ کیا اسے مستقبل کی فکر کھا رہی ہے؟ اس نے جواب دیا "اب تو بس زندہ رہنے کا سوال ہے۔”


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3134 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments