طالبان کے علاقوں میں رہنے والے افغان: ’اب لوگ کم از کم تین چار روٹیاں یا پکوان طالبان کے لیے رکھتے ہیں‘

روڈری ڈیویز اور بی بی سی انویسٹیگیشنز ٹیم - تصاویر ایلین جنگ

Illustration of a midwife and a woman holding a baby
BBC/ELAINE JUNG
نوریہ ہیا نامی دائی کا عام دن میں اکثر مرد ڈاکٹروں سے بات کرنا شامل ہوتا تھا۔ وہ مریضوں کے لیے بہترین لائحہ عمل اور جس کلینک میں وہ کام کرتی تھیں، اس کے امور پر بات چیت کرتی تھیں۔ یہ کلینک اشکامش نامی دیہی ضلعے میں ہے جہاں وسائل بہت تھوڑے ہیں۔ یہ ضلع افغانستان کے تاجکستان کے ساتھ متصل شمال مشرقی صوبے تخار میں واقع ہے۔

مگر حال ہی میں 29 سالہ اس دائی کو پتا چلا کہ خواتین اور مرد عملے کے درمیان بات چیت منع کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی طالبان نے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا تو یہ ان کا پہلا حکم نامہ تھا۔ وہ سوچنے لگیں کہ اب ان کی زندگی میں مزید کیا تبدیلیاں آئیں گی۔


اشکامش ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ یہ ایک اہم سرحدی علاقہ ہے جس پر طالبان نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے مئی میں آغاز کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ اس مہینے کے وسط میں ہلمند کے جنوبی علاقے میں بظاہر بالکل غیر تیار حکومتی فوج کے ساتھ سخت لڑائی کے بعد طالبان نے پہاڑوں کی گود میں واقع ضلع پر قبضہ کر لیا تھا۔

تقریباً اسی وقت جب امریکی فوجیوں نے قندھار ایئر بیس کو چھوڑ دیا تھا۔ یہ ملک کی سب سے بڑی ایئر بیسز میں سے ایک تھی۔ مقامی لوگوں کو طالبان کی پیش قدمی کا اندازہ تھا۔

پاکستانی سرحد کے قریب قندھار شہر سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ارگستان ضلع میں 54 سالہ جان آغا کہتے ہیں کہ ’ہر شخص خوفزدہ تھا‘ لوگوں نے خود کو گھروں میں بند کر لیا تھا۔ مگر طالبان نے تقریباً ہر ضلعے میں مورچے سنبھال لیے تھے۔ مقامی لوگ فرار نہیں ہو سکتے تھے۔

مسلح جنگجو گلیوں میں گشت کرنے لگے تھے۔ صبح شام وہ لوگوں کے گھروں پر دستک دیتے اور کھانا جمع کرتے۔ لوگ زیادہ طالمانہ برتاؤ سے ڈر کر انھیں کھانا بھی دیتے۔ جان آغا ایک پھل فروش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب لوگ کم از کم تین چار روٹیاں یا پکوان طالبان کے لیے رکھتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے کوئی کتنا بھی غریب ہو، اگر طالبان جنگجو ان کے گھر آ کر رکنا چاہتے ہیں تو وہ رکتے ہیں۔

جون میں طالبان نے ملک کے شمال میں متعدد صوبوں پر قبضہ کیا جن میں تاخر، فریاب، اور بدغشاں شامل تھے۔ انھوں نے فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور ان کے ساتھ ہی جمہوری محکموں کو بھی۔ اس وقت تک 2500 امریکی فوجیوں میں سے زیادہ تر ملک چھوڑ چکے تھے تاہم مٹھی بھر دارالحکومت کابل میں تھے اور فضائیہ بھی موجود تھی۔

افغانوں نے بین الاقوامی انخلا کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ بہت جلد بازی میں کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں امریکیوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات نے طالبان کے جائز سیاسی طاقت ہونے کے تاثر کو، ان کے عزائم کو اور ان کے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کی کوششوں کو بڑھایا ہے۔

اس 20 سالہ جنگ کا اختتام کبھی بھی اتنا قریب نہیں تھا۔

Illustration of an Afghan fruit seller

BBC/ELAINE JUNG

جون میں جیسے جیسے طالبان نے اپنی طاقت میں اضافہ کیا، جنگجوؤں نے مزید کھانا اور رہائش عام لوگوں سے لینا شروع کر دی۔ کم وسائل کے ساتھ سماجی اور معاشی حقوق کے لیے جو گذشتہ 20 سال میں جنگ لڑی گئی تھی، انھیں ایک دم ہٹا لیا گیا۔ نوریہ پہلی مرتبہ ان مسائل سے گھر گئی ہیں۔

’اب بہت زیادہ بندشیں ہیں۔ جب میں باہر جاتی ہوں تو مجھے برقعہ پہننا پڑتا ہے اور کسی مرد کا میرے ساتھ ہونا ضروری ہے۔’

بطور ایک دائی سفر کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ مردوں کو داڑھی منٹڈوانے کی اجازت نہیں، طالبان کہتے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہے۔ حجاموں کو یہ منع ہے کہ وہ کسی کے غیر ملکی انداز کے بال بنائیں یا پیچھے کے بال چھوٹے کریں۔ طالبان کا ایک ذیلی گروہ امر بل معروف ان سماجی قوانین کو لاگو کرتا ہے۔ اس گروہ کی سزاؤں نے 1990 کی دہائی میں زیادہ تر افغانوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا تھا۔ اب پھر ’دو سٹرائیک‘ کے قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں، پہلی غلطی پر تنبیہ، دوسری پر سزا، سرعام مار پیٹ، جیل، کوڑے وغیرہ۔

نوریہ کہتی ہیں ’ایک دم سے ہم سے آزادی لے لی گئی ہے۔ یہ بہت مشکل ہے۔ مگر ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ وہ ظالم ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ وہ اسلام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم بھی مسلمان ہیں مگر ان کے عقائد مختلف ہیں۔’

مگر فرق ایک اور طرح بھی آیا ہے، وہ ہے جرائم سے زیادہ تحفظ، اور جنگ سے تحفظ۔ سورش دیگر علاقوں میں چلی گئی ہے۔ مقامی لوگ اس امن کے لیے شکرگزار ہیں۔ کیونکہ اگر یہ علاقے حکومتی کنٹرول میں ہوتے تو امن دیرپا نہ ہوتا۔

مگر اس کے ساتھ اور چیزیں بھی چلی گئی ہیں۔ افغان سیاحت کے لیے تاخر آیا کرتے تھے۔ ملک کے 34 صوبوں میں سے تاخر اپنے شفاف دریاؤں اور برف سے ڈھکے پہاڑوں کے لیے مشہور تھا۔ فاخر ضلع میں ٹیکسی ڈرائیور آصف عہدی کہتے ہیں کہ وہ روزانہ کے 900 افغانی (تقریباً 11 امریکی ڈالر) بنا لیا کرتے تھے۔ مگر جیسے جیسے طالبان آگے بڑھے ہیں، سیاح آنا ختم ہوگئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’یہ سیاح میرے گاہک تھے۔ وہ جو پیسے مجھے دیتے تھے میں ان سے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا۔ اب میں بہترین دن میں بھی صرف 150 افغانی کما سکتا ہوں جو کہ میرے پٹرول کے پیسے بھی پورے نہیں کرتا۔ پٹرول کی قیمت بھی دوگنی ہوگئی ہے۔’

آصف کہتے ہیں کہ لوگ پہلے ہر جمعے کی شام کو موسیقی سنتے تھے، پارٹیز کرتے تھے، خوشیاں مناتے تھے۔ یہ سب مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ہر کاروبار کو نقصان ہوا ہے۔

4 جولائی کو، امریکی اور نیٹو فوجیوں کے افغانستان کی سب سے بڑی ایئر بیس بگرام کے چھوڑنے کے دو دن بعد طالبان نے پنجوائی ضلع پر قبضہ کر لیا جو کہ قندھار صوبے میں واقع ہے۔ ایک ہفتے سے کم وقت کے بعد انھوں نے ملک کی سب سے بڑی سرحدی چوکی اور ایران کے ساتھ ایک اہم تجارتی راستے اسلام قلع کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ مہینے کے تیسرے ہفتے کے آخر میں انھوں نے افغانستان کے سرحدی علاقوں کا 90 فیصد اور پورے ملک کا 85 فیصد کنٹرول کرنے کا دعویٰ کیا۔ حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا تاہم ان کی آزادانہ تفتیش ناممکن تھی۔ اس وقت تک حکومت شہری علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئی تھی۔

Illustration of an Afghan taxi driver

BBC/ELAINE JUNG

آصف کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے طالبان نے اپنا کنٹرول مضبوط کیا، لوگ اپنے گھروں سے نکلنا شروع ہوگئے تھے۔ ان میں سے کئی نے کبھی طالبان کا طرز حکومت دیکھا نہیں تھا۔

آصف کہتے ہیں ’وہ جرائم اور دیگر معاملات پر فیصلے بہت جلد کرتے ہیں۔ کوئی بیوروکریسی نہیں ہے، کوئی ریڈ ٹیپ نہیں ہے۔ ہر مسئلہ چند دن میں حل ہو جاتا ہے۔ کوئی ان کے فیصلوں پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔’

یہ بھی پڑھیے

دو دہائیوں تک امریکہ کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟

افغانستان کی جنگ امریکہ کو کتنی مہنگی پڑی ہے؟

’یہ طالبان کے آنے کی خوشی نہیں بلکہ دشمنوں کے کم ہونے کا ریلیف ہے‘

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

وہ طالبان کا اشر اور زکوۃ بھی جمع کرتے ہیں۔ مگر طالبان ان ٹیکسوں کو اپنے مفاد کے لیے موڑ توڑ کر استعمال کرتے ہیں۔

آصف کہتے ہیں کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ ملک میں داخلی اور بیرونی تجارت منع ہے اس لیے معیشت پر شدید دباؤ ہے۔

وہ کہتے ہیں ’لوگ پہلے ہی غریب تھے۔ اب کام کے مواقع نہیں ہیں اور کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے۔’

مگر کچھ لوگوں نے طالبان کا نظام پہلے دیکھا ہوا ہے۔

جاں آغا کہتے ہیں ’ان کی سوچ اور ذہنیت وہی ہے جو پہلے تھی۔ کچھ بھی نہیں بدلہ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسلامی امارت قائم کرنے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ان کے علاقے میں تمام سکول بند کر دیے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی تعلیم اسلامی شریعہ کی سخت گیر تشریح کے مطابق ہونی چاہیے۔ مقامی لوگوں کے لیے یہ پریشانی کی بات ہے۔


Afghanistan map

BBC

اپنے گذشتہ دور میں طالبان نے لڑکیوں کے لیے سکول اور کام کرنا منع کر دیا تھا اور صحت کے وسائل تک ان کی رسائی محدود تھی۔ جب طالبان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو خواتین نے عوامی زندگی دوبارہ شروع کی، اور پارلیمان میں ایک چوتھائی خواتین تھیں۔ پرائمری سکولوں میں خواتین کی شرح 50 فیصد ہوگئی تھی، مگر سیکنڈری سکول میں یہ شرح 20 فیصد رہ گئی تھی۔ خواتین کی اوسطاۙ عمر 57 سے بڑھ کر 66 ہوگئی تھی۔ یہ اعداد وشمار قدرے کمزور ہیں مگر بہتری آ رہی تھی۔ مگر اب یہی خوف ہے کہ یہ سب ضائع ہو جائے گا۔

اس سب کے دوران انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ اگست کے پہلے ہفتے ہیں اقوام متحدہ کے مطابق ایک ہزار عام شہری مارے گئے ہیں۔ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ملک کا کنٹرول ابھی واضح نہیں ہے۔ مگر جہاں طالبان کا کنٹرول ہے وہاں تبدیلی واضح نظر آ رہی ہے۔

جان آغا کہتے ہیں کہ ’آپ اپنا سر جھکا کر زندہ رہتے ہیں۔ آپ ان کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ آپ انھیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اگر وہ کہیں ہاں تو آپ کو بھی کہنا ہے ہاں۔ اگر وہ کہیں نہیں تو آپ کو بھی کہنا ہے نہیں۔

نوریہ کا کہنا ہے کہ ایسا خوف ہر جگہ ہے۔ ’اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ لوگ مطمئن اور آرام سے بیٹھے ہیں، مگر جب آپ ان سے بات کرتے ہیں تو آپ کو ان کی پریشانیاں معلوم ہوتی ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا انھیں ہم سے دور لے جائے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words