کابل ائیرپورٹ: طالبان کے کنٹرول کے بعد وہاں ترک فوج کی تعیناتی کے منصوبے کیا ہوگا؟

افغانستان پر طالبان کے مکمل قبضے کے بعد دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے کی سکیورٹی ترک فوجوں کے حوالے کرنے کے منصوبے پر عملدر آمد پر کوئی واضح بات سامنے نہیں آ سکی ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع ہولوس اکر نے اگست کی 12 تاریخ کو کہا تھا کہ اس منصوبے پر چند دن میں عملدرآمد ہو گا لیکن کابل میں غیر متوقع پیش رفت کے بعد اس منصوبے کے بارے میں شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

طالبان نے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد ترکی کی فوج افغانستان میں رکھنے کی مذمت کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کابل کے ہوائی اڈے پر پانچ سو ترک فوجی تعینات ہیں۔ ترک فوجی جو نیٹو کی افواج کے حصے کے طور پر افغانستان میں تعینات کیے گئے تھے، ان کا جنگ میں کوئی کردار نہیں تھا۔

تازہ صورت حال

ترکی میں حکومت کے حامی اخبار حریت نے اگست کی 16 تاریخ کو خبر دی تھی کہ ترکی کی فوج نے کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کی پوری تیاری کر لی ہے اور انھیں یہ حکم دے دیا گیا ہے کہ اگر ان پر حملہ کیا جائے تو بھر پور جوابی کارروائی کی جائے۔

اخبار نے نامعلوم سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ ‘ ابھی تک کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔ ترک فوج کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔’

اطلاعات کے مطابق ترکی کے سفارتخانے کو کابل کہ ہوائی اڈے کے عسکری حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ انخلا کے کام میں تعاون کر رہی ہے۔

ترکی میں افغانستان کے سفیر امین محمد رامین نے 13 اگست کو کہا تھا کہ ترکی کی فوج ہوائی اڈے کی اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کرے گی جبکہ افغان فورسز ہوائی اڈے کے باہر سکیورٹی فراہم کریں گی۔

لیکن اگست کی 16 تاریخ کو کابل کے ہوائی اڈے پر شدید افرا تفری دیکھنے میں آئی اور اطلاعات کے مطاب اس وقت ہوائی اڈے کی سکیورٹی امریکی فوج کے ہاتھ میں ہے۔

کابل کے ہوائی اڈے کی سکیورٹی ترک فوج کے حوالے کرنے کے بارے میں 16 اگست کو ٹی وی چینلوں پر شدید بحث ہوئی ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل این ٹی وی پر بات کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے ماہر محمد قاسم ہان نے سوال کیا کہ کیا ترکی کی فوج افغانستان میں رہے گی جبکہ تمام ملکوں کی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن ان کے خیال میں ’یہ درست نہیں ہوگا‘۔

یہ بھی پڑھیے

’اب لوگ کم از کم تین چار روٹیاں یا پکوان طالبان کے لیے رکھتے ہیں‘

دو دہائیوں تک امریکہ کا مقابلہ کرنے والے طالبان کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟

افغانستان کی جنگ امریکہ کو کتنی مہنگی پڑی ہے؟

’یہ طالبان کے آنے کی خوشی نہیں بلکہ دشمنوں کے کم ہونے کا ریلیف ہے‘

افغان طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی کہانی

انھوں نے کہا ہو سکتا ہے ترکی کے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے طالبان ترکی کے فوجیوں کی ملک میں موجودگی کو کچھ دیر برداشت کریں لیکن کیا ہوائی اڈے پر ترک فوج کی علامتی موجودگی کا کوئی فائدہ ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ترک فوج کا ہوائی اڈے کی سکیورٹی کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہوگا۔

ترک فوج کا افغانستان میں رہنے کا جواز؟

خارجہ امور کے ماہر میتی چوکوبکو نے این ٹی وی کو بتایا کہ افغانستان میں اب صورت حال بالکل مختلف ہو گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے طالبان ہوائی اڈے کا کنٹرول خود سنبھال لیں لیکن یہ سب کچھ آئندہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گا۔

اگست کی 15 تاریخ کو تجزیہ کار متین گورچن نے ایک نجی ٹی چینل ’خبر ترک‘ پر اس صورت حال کا جائزہ لیا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کا مشن ختم ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ترک فوج کی افغانستان میں موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔

گورچن ملک کی ڈیموکریسی اینڈ پروگریس پارٹی (دیوا) کے بانی رکن ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ترکی کے فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کو نیا نام دینا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ اگر اس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کیا جاتا۔

حزب اختلاف کے حامی صحافی قادر گرسل نے تبصرہ کیا کہ کابل میں طالبان کے قبضے کے بعد کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی ترک فوج کے ہاتھوں میں رکھنے کا جواز بھی ’ختم‘ ہو گیا ہے۔

حزب اختلاف کے حامی ایک اور صحافی نوسن مینگو نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ کابل ایئر پورٹ کی سکیورٹی ترک فوج کے حوالے کرنے کی تجویز اب دم توڑ گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی برادری طالبان سے مذاکرات کرنے کو ترجیح دے گی۔ اور وہ طالبان کو اس طرح مرکزی دھارے میں لائیں گے اور ترکی اس مرحلے پر متحرک رہنے کی کوشش کرے گا۔‘

ایک اور سینئر صحافی نے کہا کہ ترکی کے لیے طالبان کی اعلیٰ قیادت سے مذاکرات کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان کے رہنماؤں سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

فوج واپس بلانے کے مطالبے

ترکی کے حزب اختلاف کے رہنما کمال کلیچادرگولو نے اگست کی 15 تاریک کو کہا تھا کہ ترک حکومت کو افغانستان سے ترکی کے فوجیوں کو واپس بلا لینا چاہیے۔

حزب اختلاف کے حامی ایک اور اخبار نے 16 اگست کو شہ سرخی لگائی کہ ترک فوج کو واپس بلائیں۔ اخبار نے کہا کہ انقراہ امریکہ کو خوش کرنا چاہتا ہے لیکن تمام منصوبہ اب ختم ہو گیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان 14 جون کو برسلز میں ہونے والی ملاقات کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کی سکیورٹی ترک فوج کے حوالے کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی۔

کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ ترکی کی طرف سے یہ پیشکش امریکہ سے اپنے خراب تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش ہے لیکن چند مبصرین اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار بھی کر رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words