کوئٹہ میں تشدد سے بچہ ہلاک: ’انھیں ذرا احساس نہیں ہوا کہ وہ بچہ ہے اور زیادہ تشدد سہہ نہیں سکتا؟‘

محمد کاظم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

محراب
BBC
’ہم نے جب اپنے بچے کے جسم کو دیکھا تو اس پر تشدد کے بہت زیادہ نشانات دیکھ کر حیران ہوئے کہ کیا اس پر ظلم کرنے والے انسان نہیں تھے یا ان کے سینے میں کوئی دل ہی نہیں تھا۔‘

’ہمارے بچے کے محنت مزدوری کے دن نہیں تھے لیکن جب گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا تو وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ اپنے علاقے سے بہت دور کوئٹہ پہنچا۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ اس کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا تو ہم اسے کبھی بھی گھر سے دور نہیں جانے دیتے۔‘

یہ کہنا تھا عبدالکریم پندرانی کا جن کا 13 سال کا بھتیجا محراب پندرانی تشدد کے نتیجے میں کوئٹہ میں ہلاک ہوا ہے۔

اس لڑکے کی ہلاکت کا مقدمہ 14 اگست کو کوئٹہ میں سیٹلائٹ ٹاﺅن پولیس سٹیشن میں درج کیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تاہم اس واقعے کی تحقیقات میں ایک دو روز میں پیشرفت کا امکان ہے۔

مہراب پندرانی کون تھا؟

13 برس کے محراب پندرانی کا تعلق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے منگولی سے تھا۔

مہراب کے چچا عبد الکریم پندرانی نے بتایا کہ محراب کے والد دو سال قبل فوت ہو گئے تھے جس کی وجہ سے محراب کو کم عمری ہی میں محنت مزدوری کے لیے گھر سے دور نکلنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محراب کے گھر والے بہت زیادہ غریب ہیں۔ محراب کے والد جب زندہ تھے تو محراب نے دو سال تک سکول میں تعلیم حاصل کی لیکن غربت کی وجہ سے ان کے والد اپنے بچوں کو سکول میں مزید نہیں پڑھا سکتے تھے اس لیے ان کو سکول سے نکال کر ایک مدرسے میں ڈال دیا تھا۔‘

لاش

AFP
فائل فوٹو

عبدالکریم نے بتایا کہ مدرسے میں محراب نے قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا تھا اور تین سے چار سپارے حفظ بھی کیے لیکن اس دوران ان کے والد فوت ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ والد کی وفات کے بعد ان کے معاش کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے محراب اور ان کے بڑے بھائی عمران پندرانی مدرسہ چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے لگے۔ پہلے وہ نصیر آباد میں ہوٹلوں پر کام کرتے رہے لیکن بعد میں گھر والوں کے لیے زیادہ پیسہ کمانے کی غرض سے کوئٹہ چلے گئے۔

عبدالکریم کا کہنا تھا کہ محراب ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک کے گھر میں جبکہ بڑا بھائی عمران کمپنی کے دفتر میں کام کرتا تھا۔

چوری کا الزام اور مبینہ تشدد

عبدالکریم کے مطابق جب انھوں نے عمران سے پوچھا کہ ان کے چھوٹے بھائی کو تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ایک دن مالکان نے انھیں اس گھر میں بلایا جہاں محراب کام کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ گھر میں انھیں بتایا گیا کہ ان کے چھوٹے بھائی نے گھر سے پیسے چوری کیے ہیں اور جب چھوٹے بھائی کو ان کے سامنے لایا گیا تو مبینہ طور پر اس کی حالت بہت زیادہ خراب تھی اور اس نے بڑے بھائی کو بتایا کہ اس کو ’بہت مارا گیا ہے۔‘

عبدالکریم کا کہنا تھا کہ ’محراب نے عمران کو یہ بھی بتایا کہ انھوں نے کوئی چوری نہیں کی۔‘

ان کے چچا کا الزام ہے کہ ’عمران کے جانے کے بعد ان پر دوبارہ تشدد کیا گیا جس کے باعث وہ ہلاک ہو گئے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’رضیہ کے والدین کو بھی صلح کرنی پڑی‘

کھانا چکھنے پر بچوں کو جان سے مارنے والے کون؟

’33 سالہ بھائی کا بدن جھلسا ہوا تھا اور ڈیڈ باڈی پر زخموں کے 19 نشانات تھے‘

لاش کی خاموشی سے تدفین کی کوشش کا الزام

عبدالکریم نے الزام عائد کیا ہے کہ محراب کی ہلاکت کا ان کے بڑے بھائی کو نہیں بتایا گیا بلکہ ان کو کسی کام کے بہانے لاش سے پہلے بس میں بیٹھا کر ڈیرہ مراد جمالی بھیج دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’بڑے بھائی کے جانے کے بعد انھوں نے لاش کو کفن پہنا کر ایک ایمبولینس میں ڈیرہ مراد جمالی کے لیے روانہ کر دیا۔‘

عبدالکریم کا کہنا تھا کہ عمران کے ڈیرہ مراد جمالی پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ایمبولینس نے ان کے چھوٹے بھائی کی لاش کو پہنچایا۔

’دن تین بجے مجھے میرے ایک اور بھتیجے سرور کا فون آیا کہ آپ گھر آئیں یہاں ایک ایمبولینس میں محراب کی لاش کو لایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ جب گھر پہنچے تو ایمبولینس کے ساتھ کوئی اور نہیں تھا بلکہ صرف ڈرائیور تھا۔

’ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ کوئی اور نہیں آیا بلکہ کوئٹہ سے لاش ان کے حوالے کی گئی اور بتایا گیا کہ اسے ڈیرہ مراد جمالی پہنچانا ہے۔‘

بچے کے چچا عبدالکریم کا کہنا تھا کہ ’بچے کی لاش کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔ شدید گرمی میں لاش کے خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر اسے ہم پوسٹ مارٹم کے لیے واپس کوئٹہ نہیں لے جا سکتے تھے، اس لیے میں نے ایس ایچ او کو فون کیا جس پر پولیس والے کوئٹہ سے ہمارے پاس آئے اور ہم نے بچے کی ہلاکت کی رپورٹ درج کرائی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ بچے کی کون کون سی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی کیونکہ بچے کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا تاہم انھیں پولیس نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے لیے بچے کی قبر کشائی کے لیے کوئٹہ سے پولیس اہلکار آئیں گے۔

لاش کی حالت کیسی تھی؟

تدفین سے پہلے بچے کی لاش کی تصویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تھیں۔ اس تصویر میں بچے کے سینے پر تشدد کے بہت سارے نشانات ہیں۔

عبدالکریم نے کہا کہ ’بچے کو جس طرح ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا اس کے باعث ہم میں لاش کو دیکھنے کی سکت نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم حیران ہیں کہ بچے کو اس طرح اذیت دیتے ہوئے ان کو کبھی احساس نہیں ہوا کہ یہ ایک انسان ہے اور ابھی تک بچہ ہے جو بہت زیادہ تشدد سہہ بھی نہیں سکتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ بچے کی اس طرح ہلاکت پر ان کی والدہ اور دوسرے رشتہ دار اس وقت شدید صدمے میں ہیں اور وہ ابھی تک بات نہیں کر سکتے۔

’بچے کی والدہ چاہتی ہیں کہ انصاف ہو اور ان کے بچے کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے۔‘

پولیس کیا کہتی ہے؟

بچے کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف مقتول کے چچا عبدالکریم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

اس سوال پر عبد الکریم پندرانی نے بتایا کہ چونکہ انھیں بہت زیادہ معلوم نہیں کہ بچے پر کس نے تشدد کیا اس لیے انھوں نے مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرایا۔

’مقدمہ درج ہوا ہے اب یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ تفتیش کر کے ملزمان تک پہنچے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔‘

جب اس سلسلے میں سیٹلائٹ ٹاﺅن پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او ثنا اللہ شیرانی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بچے کی ہلاکت کی تحقیقات مختلف پہلوﺅں سے جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مرحلے پر تحقیقات میں پیشرفت کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے تاہم ایک دو دن میں پیشرفت متوقع ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بچے کے جسم کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں تو ان کا کہنا تھا کہ بچے کا تاحال پوسٹ مارٹم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کی غرض سے قبرکشائی کے لیے پولیس ڈیرہ مراد جمالی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ اس بات کا بھی تعین کیا جانا ہے کہ بچے کا پوسٹ مارٹم وہیں ہو گا یا لاش کو واپس کوئٹہ لایا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words