سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کا سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج حلف اٹھانے سے انکار

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ
BBC
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی طرف سے سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج حلف اٹھانے سے انکار کے بعد منگل کو سپریم کورٹ میں ہونے والی حلف برداری کی تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسسٹس احمد علی شیخ کی طرف سے ابھی تک باقاعدہ طور پر اس نوٹیفکیشن کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں کوئی بیان تو سامنے نہیں آیا البتہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 21 اگست کو کراچی میں ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں پاکستان بار کونسل سمیت ملک کی تمام بار کونسلز کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق اس اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسسٹس کی بطور ایڈہاک جج تعیناتی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صدر پاکستان اور پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک کی تاریخ

کیا عدلیہ کی آزادی خطرے میں ہے؟

جسٹس فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست خارج

اپنے خط میں ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے رواں ماہ کی 5، 6 اور 10 تاریخ کو خطوط لکھے تھے جس میں انھوں نے سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات ہونے سے انکار کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ان کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی کا نوٹیفکیشن کی ’کوئی قانونی حثییت نہیں‘ ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کرنے سے متعلق صدر مملکت کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی اطلاع سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کی گئی تھی۔ جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ صدر مملکت نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں ایک سال کے لیے بطور ایڈہاک جج تعینات کیا ہے اور ان کی حلف برداری کی تقریب 17 اگست کو سپریم کورٹ میں ہو گی۔

اس سے قبل پیر کو سندھ ہائی کورٹ کے جج محمد علی مظہر نے سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ میں سنیارٹی میں جسٹس محمد علی مظہر پانچویں نمبر پر تھے۔

کیا کوئی جج اپنی تقرری سے انکار کر سکتا ہے؟

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس کی رضامندی کے بغیر سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کرنا خود آئین کی خلاف ورزی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 182 کی شق بی کے تحت سپریم کورٹ میں کسی کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کے حوالے سے پاکستان کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن سے رائے طلب کر سکتے ہیں لیکن اس وقت تک اس شخص کو بطور ایڈہاک جج تعینات نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی رضامندی نہ دے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں تو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے رضامندی نہیں دی۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 206 کی سب کلاز 2 کے تحت اگر ہائی کورٹ کا جج سپریم کورٹ میں بطور جج تعینات ہونے کے بعد اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھاتا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی اس شق میں ایڈہاک جج کا ذکر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 10 اگست کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں آٹھ میں سے چار ارکان جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کرنے پر متفق تھے جبکہ چار ارکان نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بطور ایڈہاک جج تعینات کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جسٹس احمد علی شیخ کی بطور ایڈہاک جج تعیناتی کو ان کی رضامندی سے مشروط کیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن کے جن ارکان نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں ایک سال کے لیے بطور ایڈہاک جج تعینات کرنے کی منظوری دی تھی ان میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مشیر عالم اور وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم شامل ہیں۔ جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے اس کی مخالفت کی تھی۔

آئینی امور کے ماہر وکیل حامد خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب ہائی کورٹ کے کسی جج کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کیا جاتا تھا تو اس کے لیے صدر اور ملک کے چیف جسٹس کے درمیان مشاورت ہوتی تھی اور اس میں جوڈیشل کمیشن کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن اب اس تعیناتی کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن سے بھی رائے لینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایڈہاک جج سپریم کورٹ کا جج نہیں ہوتا بلکہ وہاں پر صرف مقررہ مدت کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے ایڈہاک جج کی سنیارٹی اسی ہائی کورٹ میں شمار ہو گی جہاں سے وہ آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مستقل جج اور ایڈہاک جج کی تعیناتی میں فرق ہے۔

انھوں نے کہا کہ مستقل جج کی تعیناتی میں سپریم جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کا بھی ایک ووٹ ہے جبکہ ایڈہاک جج کی تعیناتی میں چیف جسٹس صرف کمیشن کے ارکان سے رائے لے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایڈہاک جج کی تعیناتی کا معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کو بھی نہیں بھیجا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے جج کے علاوہ کسی ایسے جج کو بھی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کر سکتے ہیں جن کی ریٹائرمنٹ کو تین سال سے کم کا عرصہ ہوا ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا کوئی جج سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج کام نہیں کرنا چاہتا تو اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

انھوں نے کہا کہ آئین کے تحت کسی کی رضامندی کے بغیر ہائی کورٹ کے کسی جج کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات نہیں کیا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words