افغانستان پر طالبان کا قبضہ: کیا افغانستان کی جیلوں سے آزاد ہونے والے شدت پسند پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں؟

محمد کاظم، عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

افغانستان، طالبان
Getty Images
افغانستان میں طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں اور کابل پر قبضے کے دوران کئی جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق رہا کروائے گئے قیدیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

ان جیلوں سے رہائی پانے والوں میں تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد 780 تک بتائی جا رہی ہے لیکن افغانستان کی موجودہ صورتحال میں اِس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سوشل میڈیا پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق نائب امیر مولوی فقیر محمد کی تصویر بھی وائرل ہوئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے وہ ان کی کابل میں ساتھیوں سمیت رہائی کے بعد لی گئی ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق افغانستان کی جیلوں سے رہا ہونے والوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر بیت اللہ محسود کے ڈرائیور اور کمانڈر زلی محسود کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ایسے رہنماؤں اور کارکنوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جو اگرچہ بظاہر غیر معروف ہیں لیکن ان کی اپنی تنظیم میں اہمیت رہی ہے۔

افغان صحافیوں کے مطابق اُن میں زرقاوی محسود، وقاص، حمزہ، زیت اللہ، قاری حمیداللہ، حمید اور مظہر محسود وغیرہ شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی تصاویر وائرل ہونے اور قیدیوں کی رہائی کی اطلاعات کے بعد پاکستان میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہا ہونے والے یہ کارکن اور عہدیداران پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کا جواب بعد میں پہلے ہم کو یہ بتاتے چلیں کہ مولوی فقیر محمد کون ہیں؟

مولوی فقیر محمد کون ہیں؟

مولوی محمد فقیر

AFP
مولوی فقیر محمد کا تعلق باجوڑ کے ماموند قبیلے سے ہے اور اس وقت ان کی عمر لگ بھگ 52 سال ہے

پاکستان میں جب شدت پسندی عروج پر تھی تو اس وقت تحریک طالبان کہ جو گنے چُنے نام منظر عام پر آئے تھے ان میں مولوی فقیر محمد کا نام بھی شامل تھا۔

مولوی فقیر محمد تنظیم کے نائب امیر تھے اور ان کی رائے کو تنظیم کے اندر ترجیح دی جاتی تھی۔

ان دنوں پاکستان میں شدت پسند تنظیمیں تقسیم تھیں اور مولوی فقیر محمد کا نام ’حرکت طالبان‘ نامی ذیلی گروہ سے بتایا جاتا رہا لیکن ماضی میں اُن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے بھی رہا ہے۔

مولوی فقیر محمد کو سنہ 2013 میں افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ سے افغان سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کہاں رہے اس بارے میں معلوم نہیں۔

ان کی گرفتاری کے وقت یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انھیں افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس کے اہلکاروں نے تین دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا اور بعد میں اس کی اطلاع افغان حکومت نے پاکستانی حکام کو بھی دی تھی۔ ان کی رہائی کی تصاویر پل چرخی جیل سے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی کے موقع پر وائرل ہوئی تھی۔

مولوی فقیر محمد باجوڑ ایجنسی (موجودہ ضلع باجوڑ) میں کالعدم تنظیموں کے سب سے بڑے کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان دنوں قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ زیادہ تھا۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری سے مولوی فقیر محمد کے خاص تعلق کی وجہ سے یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ اُن کے عرب جنگجوؤں کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔

مولوی فقیر محمد کا تعلق باجوڑ کے ماموند قبیلے سے ہے اور اس وقت ان کی عمر لگ بھگ 52 سال ہے۔ وہ سنہ 2012 تک تحریک طالبان کے نائب امیر رہے اور اس کے بعد ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ انھیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا یا وہ مستعفی ہو گئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سنہ 2010 میں ان کی ہلاکت کی خبریں آئیں تھیں تاہم سنہ 2012 میں افغانستان سے ریڈیو نشریات میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔

کیا جیلوں سے آزاد ہونے والے شدت پسند پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں؟

خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے سکیورٹی کے بارے میں ایک اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں خیبر پختونخوا اور خاص طور پر پاکستان، افغانستان سرحد کے قریبی علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں ان علاقوں میں مزید نفری تعینات کرنے کا فیصلہ جبکہ پولیس اور انٹیلیجینس اداروں کے درمیان روابط پر زور دیا گیا۔

کامران بنگش سے جب پوچھا گیا کہ ان شدت پسندوں کے پاکستان میں داخل ہونے کے کیا امکانات ہیں تو انھوں نے کہا کہ تمام ادارے الرٹ ہیں اور سرحد پر داخلی اور خارجی راستوں پر اہلکار کڑی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ وہ خفیہ راستے جہاں سے ان لوگوں کا آنا ممکن ہو سکتا ہے وہاں بھی اہلکار تعینات ہیں۔

افغان امور کے ماہر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کے مطابق اقوام متحدہ اور امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کالعدم تنظیموں کے پانچ سے چھ ہزار اہلکار موجود ہیں اور ماضی میں پاکستان میں ہونے والی بڑی کاروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی تھی۔

عقیل یوسفزئی نے کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان میں کوئی کارروائی کریں گے یا پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی طالبان کے عہدیداران یا کارکن اس موقع پر افغان طالبان کے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کے زیر قبضہ علاقوں کی جیلوں سے قیدی کیوں آزاد کر دیے جاتے ہیں؟

طالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟

چمن کے بازاروں اور قبروں پر افغان طالبان کے جھنڈے کیوں لہرانے لگے؟

عقیل یوسفزئی نے کہا کہ ان لوگوں کا پاکستان میں داخل ہونا مشکل ہو گا اور انھیں نہیں لگتا کہ یہ لوگ پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اس وقت تک جب تک ان تنظیموں کے لیے حکومت کی کوئی پالیسی مرتب نہیں ہوتی۔

افغانستان

BBC

چمن کی سرحد پر صورتحال کیا ہے؟

پاک افغان سرحد پر متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان آنا جانا آسان تھا۔ پاکستان حکومت نے گذشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا ہے اور حکام کے مطابق نوے فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔ اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں، جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں تاہم یہاں سے پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ چمن ہے۔

چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی تھی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

چمن کے مقامی صحافیوں کے مطابق دونوں اطراف سے دستاویزات اور جانچ پڑتال کے بعد لوگوں کو جانے دیا جا رہا ہے تاہم افغانستان کے مقابلے میں پاکستانی اہلکاروں کی جانچ پڑتال کا عمل زیادہ سخت ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کوئی شخص افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان داخل نہ ہو۔

میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت پاکستان کو مطلوب تمام جرائم پیشہ افراد کے حوالے سے صوبائی حکومت الرٹ ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا مزید کہنا ہے کہ اب سرحد پر اکثر علاقوں میں باڑ لگ گئی ہے اور حالات پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔

چمن سرحد

BBC
چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا

’چمن میں متنازع دیہات اور ضلع چاغی میں 120 کلومیٹرحصے کے علاوہ سرحد کے باقی تمام علاقوں میں باڑ لگانے کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ چاغی میں اور چمن کے متنازع دیہات میں بھی باڑ لگانے کا عمل جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ باڑ لگنے کی وجہ سے غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمدورفت نہیں ہو رہی تاہم جو قانونی راستے ہیں ان میں سے اس وقت چمن سے لوگوں کو آمدورفت کی اجازت ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں بم دھماکوں اور بدامنی کے جو واقعات ہوتے رہے ہیں ان میں سے بہت سارے واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں ٹی ٹی پی، داعش اور لشکر جھنگوی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

بینرر

BBC

طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

کیا طالبان افغانستان کو واپس تاریک ماضی میں دھکیل دیں گے؟

افغانستان میں طالبان ’اقتدار‘ میں، اشرف غنی کس حد تک ذمہ دار ہیں؟

طالبان نے دس دن میں افغانستان کے اہم ترین علاقوں پر کیسے قبضہ کیا؟

طالبان افغانستان تنازعے میں سعودی عرب سمیت کون سا اسلامی ملک کس کے ساتھ ہے؟


بلوچستان میں حکام کہتے رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں ٹی ٹی پی سمیت متعدد دیگر کالعدم تنظیموں کے لوگ افغانستان چلے گئے تھے۔

افغانستان کی جیلوں سے آزاد ہونے والے شدت پسندوں کے تناظر میں پوچھے جانے والے سوال پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر ایسی کوئی بات ان کی علم میں نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ افغانستان میں جیلوں سے قیدیوں کو رہائی دلانے کے عمل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بھی آزاد ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ جیلوں سے نکلے ہیں تو ان کی تعداد کے بارے میں ابھی تک بلوچستان حکومت کو سرکاری طور پر آگاہی فراہم نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں اور اطلاعات کے بعد ہم مزید الرٹ ہو گئے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ افغانستان سے کوئی بھی مجرم پاکستان میں داخل نہ ہو اور اگر وہ داخل ہونے کی کوشش کریں تو وہ گرفتار ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words