امراللہ صالح کا نگراں صدر ہونے کا دعویٰ اور مزاحمت کا اعلان: کیا افغانستان میں جنگ واقعی ختم ہو گئی ہے؟

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ ختم ہو گئی ہے، مگر دوسری جانب نامعلوم مقام سے جاری کردہ ایک پیغام میں افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے کہا ہے کہ صدر غنی کے ملک کے چلے جانے کے بعد اب وہ نگراں افغان صدر ہیں اور یہ کہ ’جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘

کابل میں ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد منگل کو افغان طالبان ترجمان نے اپنی پہلی آن سکرین پریس کانفرنس میں عام معافی، خواتین کے حقوق اور نئی حکومت سازی پر بات کی تھی۔

لیکن اس پریس کانفرنس سے کچھ ہی دیر قبل افغان صدر اشرف غنی کے نائب امراللہ صالح نے اعلان کیا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی، استعفے یا موت کی صورت میں نائب صدر ملک کا نگراں صدر بن جاتا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں امراللہ صالح نے کہا کہ ’میں اس وقت ملک کے اندر موجود ہوں اور قانونی اعتبار سے نگراں صدر ہوں۔ میں تمام رہنماؤں سے رابطے میں ہوں تاکہ ان کی حمایت اور اتفاق رائے حاصل کر سکوں۔‘

جہاں ایک طرف اشرف غنی افغانستان چھوڑ چکے ہیں وہیں امراللہ صالح ان افغان رہنماؤں میں سے ہیں جو بظاہر طالبان کنٹرول کے خلاف مزاحمت کی تحریک چلانے پر آمادہ نظر آتے ہیں اور مسلح طالبان جنگجوؤں کے ملک پر قبضے کو ’غیرقانونی‘ قرار دیتے ہیں۔

مگر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ طالبان ملک کی تمام اہم سرحدی راستوں کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں اور صرف گنے چنے علاقے ایسے ہیں جہاں طالبان نے ابھی تک قبضے کا دعویٰ نہیں کیا۔

اس سے ایک دن پہلے فرانسیسی جریدے کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ’شیر پنجشیر‘ کے نام سے معروف افغان رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کے خلاف ’جنگ لڑنے کا اعلان‘ کیا ہے۔

احمد مسعود نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ افغانستان سے باہر نہیں گئے ہیں اور پنجشیر میں اپنے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

کابل سے قریب تین گھنٹے کی مسافت پر صوبہ پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سنہ 1996 سے 2001 تک طالبان کے دور میں بھی یہ صوبہ اُن کے کنٹرول میں نہیں رہا تھا۔ وہاں شمالی اتحاد (ناردرن الائنس) نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا۔

پنجشیر میں موجود ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امراللہ صالح اور احمد مسعود نے سابق شمالی اتحاد کے اہم کمانڈرز اور ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ رابطے کیے ہیں اور سب کو اپنے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کرنے پر آمادہ بھی کیا ہے۔

اشرف غنی کے استعفٰی کی مخالفت، ’ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے‘

افغان دارالحکومت کابل کے صدارتی محل ارگ میں اتوار کے دن ہونے والے واقعات پر صدر اشرف غنی کے ایک قریبی ساتھی نے روشنی ڈالی ہے۔

امراللہ صالح

Reuters
صدر اشرف غنی (دائیں) اور ان کے نائب امراللہ صالح (بائیں)

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ جمعے جب طالبان کابل پر قبضہ کرنے آ رہے تھے تو چند حلقوں کی طرف سے صدر اشرف غنی پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ لیکن وہ نہیں مانے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تک کئی میٹنگز میں صدر اشرف غنی کے کئی قریبی ساتھیوں نے اُنھیں مستعفی ہونے اور ملک سے چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن امراللہ صالح واحد شخص تھے جنھوں نے آخری وقت تک صدر اشرف غنی کو کہا کہ نہ استعفیٰ دیں اور نہ ملک سے جائیں۔

ان کے مطابق امر اللہ صالح اس موقع پر بارہا کہتے رہے کہ ’ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔‘

بینرر

BBC

کابل کا آنکھوں دیکھا حال: سڑکوں پر تصویریں کھنچواتی طالبان کی ’نئی نسل‘

داڑھی، برقعہ، موسیقی۔۔۔ کیا طالبان دوبارہ نوے کی دہائی کے سخت گیر قوانین کا نفاذ کریں گے؟

صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟

افغانستان میں طالبان ’اقتدار‘ میں، اشرف غنی کس حد تک ذمہ دار ہیں؟


ارگ کی ان میٹنگز کے بارے میں ایک اور ذریعے نے بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امراللہ صالح صدر اشرف غنی کے مستعفی ہونے کے سخت مخالف تھے۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان کی کابل آمد اور صدر غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد امراللہ پنچشیر کی طرف روانہ ہو گئے اور اب بھی وہاں موجود ہیں۔

خیال ہے کہ افغانستان کے وزیر دفاع بسم اللہ محمدی بھی امراللہ کے ہمراہ ہیں۔

امراللہ صالح کی جانب سے ایک آڈیو پیغام بھی منظرعام پر آیا ہے جس میں اُنھوں نے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی ہے۔

احمد مسعود

Getty Images
مرتے دم تک طالبان کی مخالفت کرنے والے کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود

امریکہ میں مقیم افغان تجزیہ کار ہاشم وحدت یار کے مطابق امراللہ صالح کے پیغام میں دو اہم باتیں ہیں۔ ’ان میں ایک بات یہ ہے کہ اگر طالبان جمہوری حکومت کی بات کرتے ہیں تو شاید کسی حد تک صالح مان جائیں۔ لیکن اگر طالبان نے اپنے طرز کی حکومت ’امارت‘ بنانے کا اعلان کیا تو شاید امراللہ اُن کے خلاف لڑیں گے۔‘

مگر فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ امراللہ کو ملک میں کتنی حمایت حاصل ہو گی۔

طالبان کے خلاف مزاحمت کس صورت میں زور پکڑ سکتی ہے؟

اگرچہ ابھی تک طالبان کی جانب سے افغانستان میں اُن کے نئے نظام حکومت کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں بتایا گیا ہے لیکن ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اُن کے نظام حکومت میں تمام طبقہ ہائے فکر سے افغان شہری شامل ہوں گے اور اُن کی حکومت افغانستان کی تمام جماعتوں کی نمائندہ ہو گی۔

تجزیہ کار ہاشم وحدت یار کا کہنا ہے کہ اب اس کے بعد کی تمام صورتحال کی ذمہ داری طالبان پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اُن کے بقول ’طالبان اس وقت اقتدار میں ہیں۔‘

وحدت یار مزید کہتے ہیں کہ چند اطلاعات کے مطابق طالبان اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کوئی ٹیم بات چیت کے لیے امراللہ صالح اور احمد مسعود کے پاس بھیجی جائے اور اُنھیں حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کی جائے۔

لیکن اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو گذشتہ بیس سال سے افغانستان میں بیشتر ایسے واقعات ہوئے ہیں جو طالبان اور اُن کے مخالفین کو اکٹھے رکھنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

وحدت یار ان واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شمالی اتحاد اور بیشتر لوگ احمد شاہ مسعود کو ’قہرمان ملی‘ کا لقب دیتے ہیں ’تو کیا یہ لقب طالبان کے لیے قابل قبول ہو گا؟‘

یاد رہے کہ احمد شاہ مسعود کو گیارہ ستمبر سے دو دن پہلے القاعدہ کے دو خودکش حملہ آوروں نے ہلاک کیا تھا۔ ابھی تک ہر سال شمالی اتحاد اور احمد شاہ مسعود کے ماننے والے اُن کی برسی پر پورے کابل شہر کو بند کرتے رہے ہیں۔

وحدت یار ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر طالبان نے اپنے وعدوں پر عمل کیا تو اُن کے لیے چیلنجز کم ہو سکتے ہیں۔

لیکن اُن کے مطابق اگر طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پُرانے دور کی طرح سخت فیصلے کیے تو اُن کی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words